جاوید چوہدری اور عمران خان کا انقلاب


جاوید چوہدری صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں ہمیشہ کی طرح انکشافات کی لمبی فہرست کی سیڑھی چڑھ کر قارئین کو اپنی مرضی کا آسمان دکھانے کی کوشش کی ہے۔ موصوف بلا شبہ ایک اچھے کہانی نویس ہیں اور جناب کا خاصہ ہے کہ سامنے موجود حقیقت کو بھی کہانی کے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔ پھر دیکھنے والا حقیقت کو کہانی سمجھ کر تسلیم کر لیتا ہے۔ کیا کیجئے ان کے لکھے گئے انکشافاتی کالم ہمیشہ اہل حرم (یعنی 1971 میں چالیس لاکھ فوج کو سرنڈر کرنے والے) کا دلی بیانیہ ہوتے ہیں یا ان کی دیرینہ خواہشات پہ مبنی تجزیات ہوتے ہیں، یہ محض اتفاق بھی ہو سکتا ہے مگر اہل زبان اس اتفاق کو کچھ اور ہی نام دیتے ہیں جو یہاں بیان کرنا غیر پارلیمانی ہے اور قوی امکان ہے کہ حذف کر دیا جائے۔

بابر اعوان صاحب نے اپنے کالم میں انقلابِ فرانس کی تفصیلات بیان کی ہیں اور ان تفصیلات کی روشنی میں پاکستان کے موجودہ حالات پہ تجزیہ دیا ہے کہ جس طرح فرانس میں طبقاتی تقسیم کی پیدا کردہ گھٹن انقلاب کا باعث بنی تھی آج پاکستان کے حالات بھی اسی سمت بڑھ رہے ہیں۔ قارئین کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ انقلاب فرانس سے پہلے فرانس کے حالات کچھ اس طرح تھے کہ ایک طبقہ اس قدر امیر تھا کہ رات دن محلات میں شراب و جسم کی نمائش ہوا کرتی اور دوسرا طبقہ پانی کے قطرے کو ترس رہا تھا یعنی پوری خلقت دو طبقات میں بٹ چکی تھی ایک طبقہ بہت زیادہ امیر تھا اور دوسرا بہت غریب جو بنیادی انسانی ضروریات سے بھی محروم ہو چکا تھا۔

طبقاتی تقسیم کی اس گھٹن نے انقلاب کی چنگاری کو ہوا دی اور سسکتی ہوئی انسانیت نے، انسانیت بھول کر اشرافیہ کو گریبانوں سے پکڑ کر سر عام چوراہوں میں لٹکا دیا۔ محلات جلا دیے گئے اور سب امیر غریب یوں برابر ہوئے کہ یا تو امیر مار دیے گئے یا ملک بدر کر دیے گئے۔ یوں فرانس کی طبقاتی تقسیم پہ مبنی گھٹن زدہ ماحول انقلاب فرانس کا باعث بن گیا۔ بابر اعوان صاحب نے اسی انقلاب فرانس کی مثل کرتے ہوئے موجودہ پاکستانی معاشرے کی گھٹن کا احوال پیش کیا ہے اور عمران خان کو قائد انقلاب گردانتے ہوئے تحریک انصاف کے راہنماؤں کو انقلاب کا ہراول دستہ قرار دیا ہے۔

ظاہر ہے جاوید چوہدری صاحب کو یہ بات کہاں چین لینے دیتی اور موصوف نے جناب کے کالم کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے تحریک انصاف کی موجودہ انقلابی قیادت کی انقلاب بیتیوں کے بخیے ادھیڑ ڈالے۔ اس کام میں جناب نے یہ تک آشکار کر دیا کہ عمران خان کے دور حکومت میں کارہائے حکمرانی ایک کرنل کی چھڑی سے طے پایا کرتے تھے۔ موصوف نے تفصیلات بتاتے ہوئے فرمایا کہ عمران خان نے اپوزیشن کو سنبھالنا ہوتا یا کوئی بھی حکومتی امر عمل میں لانا ہوتا تھا تو فیض صاحب کو کال گھماتے، اور فیض صاحب نے اس معمولی کام کی سپرداری کرنل لیاقت صاحب کے حوالے کی ہوئی تھی جو بقلم خود اپوزیشن اور حکومت دونوں کو یک مشت کام پہ لگائے ہوئے تھے۔

چوہدری صاحب نے مزید کہا کہ عمران خان کے انقلاب کے تمام تر قائدین خود اسی اشرافیہ کا حصہ ہیں جس کے خلاف انقلاب کی چنگاری سلگ رہی ہے اور جن کے خلاف عمران خان آج محوِ انقلاب ہوا چاہتے ہیں۔ موصوف نے بابر اعوان، علی آمین گنڈا پور، شاہ محمود، شیر افضل، عمر ایوب اور اس طرح بقیہ قیادت کے اثاثہ جات، کاروباری مراکز، خاندانی تاریخ اور سیاسی سفر کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ خود بھی اسی کرپشن، لوٹ اور طبقاتی تقسیم کے حاصل کردہ ثمرات کے حصہ دار ہیں جس کے خلاف انقلاب لانے کے دعوے کرتے پھرتے ہیں۔

موصوف نے واضح کیا کہ موجودہ اشرافیہ یعنی بیورو کریسی، جرنیل، جج، کاروباری حضرات وغیرہ کی کثیر تعداد تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہے یعنی جس نظام کو گرانے کی عمران خان بات کر رہے ہیں اس نظام کے حصے دار خود تحریک انصاف کا حصہ ہیں یا ماضی میں اس کا حصہ رہے ہیں۔ مختصراً یہ کہ جاوید چوہدری صاحب نے عمران خان کے انقلاب کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ صرف سنگ دل محبوب یعنی اہل حرم (جنرل عاصم منیر وغیرہ) کو منانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں اور تحریک انصاف کی ساری کی ساری قیادت خود اشرافیہ ہے اور انقلاب اگر آئے تو ان کے گریبان سب سے پہلے انقلابیوں کے ہاتھوں چاک ہوں گے۔

جاوید چوہدری صاحب کی بیان کردہ تحریک انصاف کی سیاسی تاریخ، اس کی قیادت کے اثاثہ جات کی تفصیلات اور عمران خان کے اشرافیہ کا حصہ ہونے کے بارے میں معلومات حرف بہ حرف درست ہیں اور صد فیصد صادق ہیں مگر ان تفصیلات کی آڑ میں جناب کا یہ تجزیہ کہ پاکستان کا موجودہ گھٹن زدہ ماحول میں انقلاب نہیں آ سکتا یا یہ کہ غریب کا اشرافیہ سے نفرت کا بیانیہ تحریک انصاف کا مصنوعی پیدا کردہ بیانیہ ہے وغیرہ بے بنیاد ہیں۔

جناب کو دنیا کی سیاحت سے فرصت ملے تو اپنی صحافتی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے پسے ہوئے طبقات کے حالاتِ زندگی پہ نظر کر کے دیکھیں کہ وہ کس بوسیدگی میں سانس لے ریا ہیں۔ کہیں کسی مزدور کے گھر جا کر معلوم کریں کہ ان کے دل میں کیا لاوا ابل رہا ہے جو اب پھٹنے کو ہے۔ جناب کی یہ غلط فہمی کہ موجودہ گھٹن زدہ ماحول جس میں طبقات کے درمیان کھنچی گئی لکیر بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اشرافیہ سے عوام نفرت کرنے لگے ہیں، عمران خان یا تحریک انصاف کی تحریک کا نتیجہ ہے اس دن دور ہو جائے گی جب مزدور کے ہاتھ اشرافیہ کے گریبانوں تک ہوں گے پھر چاہے وہ اشرافیہ تحریک انصاف سے ہو یا تحریک ڈی ایچ اے سے ہو۔

موجودہ ماحول کی گھٹن کا فائدہ تحریک انصاف نے اٹھایا ضرور ہے مگر اس کے بننے میں تحریک انصاف کا کردار صرف اور صرف اتنا ہے کہ اس کا بیانیہ وہی بیانیہ ہے جو پسے ہوئے طبقات کے سینوں میں سالوں سے جل رہا ہے جسے عمران خان جیسی توانا آواز پہلی دفعہ نصیب ہوئی ہے۔ اب اگر عمران خان خود بھی اس بیانیے سے ہٹ جائے تو اس کا وجود پاش پاش ہو جائے گا کیونکہ یہ بیانیہ عمران خان کا بنایا ہوا نہیں بلکہ اپنایا ہوا ہے جو اس طبقاتی تقسیم کے پیدا کردہ پسے ہوئے طبقات کی آواز ہے اور اب یہ آواز چنگاری بن رہی ہے جو سلگنے کو ہے۔

لہٰذا جاوید چوہدری صاحب! آپ خواہ مخواہ اہل حرم کی خوش فہمی کا سامان نہ کیا کیجیے کہ آپ جو اس سلگتی چنگاری کو عمران خان کے انقلاب کے ساتھ تشبیہ دے رہے ہیں کہ یہ تو ایک اشرافیہ کا جھگڑا ہے جس کا مقصد سنگ دل محبوب کی خوشنودی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت خود بھی اشرافیہ کا حصہ ہے اور جب کبھی انقلاب کی چنگاری سلگے گی تو یہ بھی انقلاب فرانس کی طرح محلات سے نکال باہر کیے جائیں گے۔ مگر یاد رکھیے کہ موجودہ گھٹن زدہ ماحول اس چنگاری کے سلگنے کا باعث کب بن جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ پسے ہوئے طبقات کے دل میں نفرت کی آگ اب اشرافیہ کا دھڑن تختہ کر کے ہی ٹھنڈی ہو گی پھر چاہے اشرافیہ تحریک انصاف والی ہو یا مقدس عمارتوں والی!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments