سندھی دانشوروں نے تھر کی مقامی آبادی کے بجائے کمپنی سرکار کا ساتھ کیوں دیا؟
نوم چومسکی نے اپنے ایک مضمون دانشوروں کی ذمہ داری میں لکھا ہے کے سچ بولنا اور جھوٹ کو بے نقاب کرنا دانشوروں کی ذمہ داری ہے۔ دانشور حکومتوں کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے، ان کے اسباب، مقاصد اور اکثر پوشیدہ ارادوں کے مطابق اعمال کا تجزیہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
نوم چومسکی کی بات کی گہرائی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی سماج کی ترقی کے لئے ہر دور کا سوچنے والا طبقہ لکھنے والی قلم سماج اور لوگوں کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔ اہل قلم اور سوچنے والا ذہن اگر یہ دونوں عوام کے ساتھ ایمانداری سے چلے اور عوام کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکے تو عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں تھر کی عوام کی آنکھوں میں بھی دھول ڈالی گئی وہ بھی ہمارے قلم ساز اور سوچنے والے ذہنوں نے ایسا کیا۔ یہ قصہ اتنا بھی پرانا نہیں مگر ہمارے اہل قلم سندھی دانشوروں نے تھر کول مائننگ پراجیکٹ کے حوالے سے تھر کی عوام سے اتنے جھوٹ بھولے کہ تھر کیس کو ماضی کا قصہ بنا دیا۔
تھر کیس کو تھر کی ریت کے نیچے دفن کیا گیا۔ اور وہ بھی ہمارے اہل قلم، سول سوسائٹی اور این جی او کی مکاری سے ہوا۔ لوگوں کو کہا گیا کہ صرف کوئلے کی کھدائی سے نکلنے والے زہریلے پانی کا مسئلہ ہے وہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے پانی کو کسی بھی جگہ چھوڑا جا سکتا ہے۔ مقامی لوگوں نے اعتراض کیا کہ تھر کول مائننگ سے ہماری زمینیں اور پینے کا پانی بھی زہریلا ہو جائے گا۔ مگر اہل قلم اور دانشوروں نے مقامی لوگوں کے اعتراضات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا کیوں کہ اہل قلم اور دانشور سندھ حکومت اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ساتھ کھڑے تھے اور عوام کے بجائے ان کا کیس لڑ رہے تھے۔ تاریخ کی کتنی ستم ظریفی ہے کہ مقامی لوگوں سے انصاف کے بجائے اہل قلم اور دانشور حکومت اور کمپنی کا کیس لڑ رہے تھے۔ کیے دنوں تک مقامی لوگ اسلام کوٹ پریس کلب کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ کچھ مقامی سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان ان کے ساتھ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ مگر جب وطن کے اہل قلم اور دانشور طبقہ عوام کے ساتھ دینے کے بجائے کمپنی کا ساتھ دیں تو ان سے بڑا وطن دشمن کوئی نہیں ہو سکتا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب تھر کیس کے لئے مقامی لوگ سندھ حکومت اور سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے خلاف جدوجہد کر کے اس کو ایک تحریک کا روپ دیا تھا۔ مگر ہمارے اہل قلم طبقے نے تھر کے لوگوں سے کہا کہ تھر کے کوئلے کی کھدائی سے ان کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ صرف ظالم طبقہ وہ نہیں کہ جو عوام پر ظلم کرے مگر ظالم وہ بھی کہلاتا ہے جو عوام کے کیس کی کوئی داستان نہ لکھے کوئی تاریخ نہ لکھے اور عوام کی خاطر لڑنے کہ بجائے حکومت کا کیس لڑے! کمپنی کا کہنا تھا کہ سرکار نے کوئلے کے ماحولیاتی اثرات کے حوالے سے ایک اسٹڈی کروائی تھی، مگر اس اسٹڈی کے بارے میں ای آئے اے کی کوئی بھی رپورٹ آج تک سامنے نہیں لائی گئی کہ اسٹڈی کے فنی حصوں پر بات کی جا سکے۔ بہرحال عوام کو اس رپورٹ سے بے خبر رکھا گیا۔ اس رپورٹ کے حوالے سے اہل قلم اور سندھی دانشور نصیر میمن کا کہنا تھا کہ اگر اس زہریلے پانی کے چھوڑ کے حوالے سے اگر کوئی ماحولیاتی اثرات کی اسٹڈی نہیں کروائی گئی تو وہ ماحولیاتی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ مگر وہی اہل قلم نصیر صاحب جو تھر کیس کے بارے میں کمپنی اور سرکار کے خلاف لکھتے تھے وہ خود اس کمپنی کا حصہ ہو گئے۔
نصیر میمن صاحب کے مطابق، پانی کی نکاسی اور اس کے تالاب کا کام حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے اصولی طور پر کمپنی کو درمیان میں آ کر مقامی آبادی کے سامنے اپنا امیج خراب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اگرچہ قدرتی وسائل کی تلاش کرنے والی دیگر کمپنیوں کے مقابلے یہ کمپنی لوگوں سے بات چیت کرتی رہی ہے اور ان کی شکایات سنتی رہی ہے اور انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے جو کہ بہترین طرز عمل ہے لیکن اصولی طور پر کمپنی کو حکومت کے تنازعات کو اپنے گلے میں نہیں باندھنا چاہیے اور مقامی آبادی کے ساتھ اس معاملے پر بات کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ انہیں تھر میں طویل عرصے سے کاروبار کرنا ہو گا۔ اس صورتحال میں کمپنی جو اچھا کام کر رہی ہے جس سے مقامی آبادی کو فائدہ ہو گا۔ سندھ حکومت کو مقامی آبادی کے حقوق کا مالک ہونا چاہیے اور جہاں اس منصوبے پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں وہاں متاثرہ مقامی آبادی کے لیے چند کروڑ روپے مزید خرچ کرنے سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔
یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے اہل قلم سندھی دانشوروں نے ہمیشہ کی طرح کمپنی کے مفادات کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ جیسے ماضی میں برطانوی راج کے دوران جاگیردار اور نواب کمپنی سرکار کا ساتھ دیتے تھے۔ سندھ کے دانشوروں نے کمپنی اور سندھ سرکار کی جس طرح سے تعریف کی ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دانشور کمپنی کے حوالے سے کتنا سافٹ کارنر رکھتے ہیں۔ اور سندھ کے مشہور کالم نویس کے مطابق کمپنی کون سا اچھا کام کر رہی تھی جس سے مقامی آبادی کو فائدہ ہو گا۔ نہ تھر کے عوام کو بجلی ملی نہ ہی نوکریاں دی گئی ملازمتیں ان کو دی گئے جنوں نے کمپنی سرکار کا تحفظ کیا ان کے مفادات کو ترجیح دی اور تھر کیس کو خراب کیا۔ اور تھر کیس سے ہوا نکال دی۔ لوگ چپ ہو گئے احتجاج ختم ہو گئے کیوں کہ دانشوروں کی بولی لگی اور کمپنی۔ سرکار کیس جیت گئی۔ دانشوروں نے ایک تو کمپنی کی بلاوجہ تعریف کی، دوسرا عوامی موقف کے بجائے کمپنی کے موقف کی تائید کی ہے۔ فائدہ کس کو ہوا تھر کی عوام کو ہوا یا ہمارے دانشور طبقے کو ہوا یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہے۔
دوسری طرف لینڈ اکویزیشن ایکٹ 1894 ایک ایسا قانون ہے جو مقامی لوگوں کے تحفظات اور عوامی ملکیت کے تصور کو نہیں مانتا۔ عوامی اثاثے سرکاری ملکیت نہیں بلکہ عوامی ملکیت ہوتے ہیں۔ اس علاقے میں جہاں تالاب کی جگہ 532 ایکڑ زمیں لوگوں کی ذاتی ملکیت ہے اور 968 ایکڑ زمیں لوگوں کی اجتماعی ملکیت ہے۔ اس کو اس عوام دشمن قانون کے مطابق سرکاری زمین قرار دیا جاتا ہے۔ انگریزوں کے آنے سے بھی پہلے مقامی لوگ ہزاروں سالوں سے اس مٹی کا حصہ ہیں جن کی کئی نسلیں آباد رہی ہیں کتنی ستم ظرفی ہے کہ ان کی زمینوں کو سرکاری زمین کیسے کہا جا سکتا ہے۔ ہزاروں سال سے بسے ہوئے لوگوں سے زمینیں چھینی گئیں۔ لوگوں کے اعتراضات کو نظرانداز کیا گیا۔ سندھ دھرتی کے لوگوں کے ساتھ جتنی نا انصافیاں کی گئی ہیں وہ ہمارے دانشور طبقے کو سب کچھ پتا ہونے کے باوجود ان کی طرفداری نہیں کرتا وہ صرف اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ تھر کی چند خواتین اور کچھ نوجوانوں کو ڈمپر ڈرائیور کی نوکریاں ملی اور باقی شیر اپنا حصہ لے گیا۔ جس شیر کے ساتھ سندھی دانشور بھی شامل تھا۔ یہ ہے ہمارا دانشور طبقہ جو اپنے مفادات کے بارے میں سوچتا ہے۔ اب سندھ کے عوام کو اپنے حقوق اور اپنے مفادات کی جنگ خود لڑنی ہوگی اب کسی دانشور کو سپہ سالار نہیں بنا سکتے۔

