شاہزادہ سخن امیر حسن جعفری کا جشنِ صحت


خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار

اردو شعر و ادب کی تاریخ، یوں تو، ان گنت واقعات سے بھری پڑی ہے مگر آج مجھے سن اٹھارہ سو چوّن کا وہ واقعہ یاد آ رہا ہے جب بہادر شاہ ظفر ابھی شہنشاہِ ہند نہ بنے تھے بلکہ ولیِ عہد یا شہزادے تھے اور اچانک بیمار پڑ گئے تھے۔ شہزادے کو صحت ہوئی تو والد گرامی یعنی بادشاہ سلامت نے ان کے لیے سرکاری طور پر جشنِ صحت منانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر، حسبِ روایت، مختلف شاعروں نے بطور تہنیتِ غُسلِ صحت قصائد پیش کیے

خاقانیِ ہند استاد ابراہیم ذوق نے اس جشنِ صحت میں جو معرکہ آرا قصیدہ پیش کیا وہ اپنے فنی محاسن کے سبب اردو قصائد میں اپنا خاص مقام رکھتا ہے۔ : وہ کہتے ہیں

واہ وا کیا معتدل ہے باغ عالم کی ہوا
مثل نبض صاحب صحت ہے ہر موج صبا
واقعی کس طرح سے صحت نہ اک عالم کو ہو
جبکہ ہو اس کی نوید غسل صحت جاں فزا

اور جب بہادر شاہ ظفر اپنے دورِ شاہی میں بھی ایک بار صاحبِ فراش ہوئے تو اُن کی صحت یابی کے جشن میں بھی متعدد شعرا نے قصائد پیش کیے۔ مرزا غالب کی وہ غزل بھی اسی موقع کی یادگار ہے جس میں وہ کہتے ہیں :

پھر اس انداز سے بہار آئی
کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی
کیوں نہ عالم کو ہو خوشی غالب
شاہِ دیں دار نے شفا پائی

اس موقع پر ذوق کے قصیدہ کا رنگ کچھ یوں کِھلا:
زہے نشاط اگر کیجئے اسے تحریر
عیاں ہو خامہ سے تحریر۔ نغمہ، جائے صریر
کرے ہے وا لب غنچہ در ہزار سخن
چمن میں موج تبسم کی کھول کر زنجیر
ہوا پہ دوڑتا ہے اس طرح سے ابر سیاہ
کہ جیسے جائے کوئی پیل مست بے زنجیر
اور پھر ذکرِ صحت اور دعا:
قوی ہے قوتِ تاثیر سے دوائے طبیب
غنی قبول کی دولت سے ہے دعائے فقیر
عطا کرے تجھے عالم میں قادر قیوم
بہ جاہ و دولت و اقبال و عزت و توقیر
تنِ قوی و مزاج صحیح و عمرِ طویل
سپاہ وافر و ملکِ وسیع و گنجِ خطیر

اب ہم اپنے شہزادہِ سخن کو سپاہِ وافر کی دعا دینے سے تو رہے کہ فکری طور پر سپاہِ قلیل کے بھی قائل نہیں۔ ہم تو ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کی زُلفِ امن پسند اور کاکلِ انسان دوستی کے اسیر ہیں اور ہمارے بھائی امیر حسین جعفری اس حلقہِ محبت میں بھی ایک شاہ زادے ہی کی مسند پر رونق افروز ہوتے ہیں۔ ہم تو خیر مصاحب ہونے پر ہی پھولے نہیں سماتے

اب اگر ماضی کے رنگا رنگ دریچے میں جھانکوں تو کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امیر حسین جعفری سے میری پہلی پہلی ملاقاتیں پاک ٹی ہاؤس، دفاترِ فنون و بیاض اور بعد ازاں فضل ہوٹل کے باہر بھی ہوئی ہوں گی جہاں جنابِ خالد احمد شام ڈھلے اپنی ادبی ”منڈلی“ سجایا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں کلامِ امیر نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا تھا اور پھر بڑے جعفری صاحب سے قلبی مودت نے امیر سے دوستانہ تعلق کو محبت کے سے رنگ میں رنگ دیا۔ وقت کی کتنی ہی بارشیں برس برس گئیں، زمانے کی دھوپ بھی زور شور سے چمکتی رہی مگر اس دوستانہ محبت کا رنگ پھیکا نہ پڑا۔

تو میں عرض کر رہا تھا کہ امیر ڈاکٹر خالد سہیل کے گہرے دوست ہیں گویا ڈاکٹر صاحب کے حلقہِ سہیلیات (میرا مطلب سے سُہیلیات) کے سرگرم رُکن ہیں۔ با الفاظِ دیگر گوشہِ عافیت میں ہیں اور دائرہِ علم و ادب میں ہیں۔ سچ پوچھیں تو امیر کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہ شروع ہی سے اچھے نہیں بلکہ زمانے کے منتخب اہلِ علم و ادب کے قریب رہے ہیں۔ اور کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہی سچ امیر کا المیّہ بھی ہے کہ ایسوں کی اعلیٰ صحبت پاکر آپ فکر و اظہار کے ایک ارفع مقام پر جا پہنچتے ہیں۔ یہ مقام جہاں آپ کو تخلیقی دولت سے مالا مال کرتا ہے وہاں داخلی طور پر تنہا بھی کر دیتا ہے۔

یہ تنہائی یا خلوت تخلیق کار کے لیے ضروری بھی ہوتی ہے مگر اس پر نگاہ رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔

وجہ اس کی یہ کہ تخلیق کار کو ایک عجیب اور انوکھا مرض ہمیشہ سے لاحق رہا ہے اور وہ مرض ہے ازل سے لے کر ابد تک پھیلے ”کُن“ کو ازسرِ نو دریافت کرنے کا اور اسے اپنے ڈھنگ سے جینے کا۔ وہ کائنات سے کائنات تک بلکہ اُس سے پرے بھی وقوع پذیر ہونے والے واقعات و سانحات کو اپنے سینے پر جڑتا ہے۔

لیکن کیوں؟
:اِس سوال کا جواب کسی نے انگریزی میں یوں دیا تھا
There is a pleasure in poetic pains
That only poets know

:اردو میں کہیں تو
شاعرانہ اذیّتوں کا مزہ
شاعرانِ کرام جانتے ہیں
خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار
یہ اذیت اٹھانا ایک سچے فن کار کی طبعی مجبوری ہے۔

اسے ہر داستان کو آپ بیتی بنانا ہوتا ہے۔ ہر سانحے کو ذات کے اندر بپا ایک داخلی کربلا کی منہاج پر پرکھنا ہوتا ہے۔ ذاتی دکھ کو کائنات کے غم میں ملاتے ہوئے اور ذات کے الم کو کائنات سے جدا کر کے دیکھتے ہوئے وہ کتنی ہی دیکھی ان دیکھی دنیاؤں سے ایک ہی ثانیہ میں گزر جاتا ہے۔ وجدان کے پروں پر تخلیق کار ذہن کا یہ سفر برق کی رفتار کو شرمندہ کرتا ہے۔ اور یہ سفر فن کار کے اندر ہمہ وقت جاری و ساری رہتا ہے۔ یہ سب سہنا اور مسکرا کر سہنا ہر بندے کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے کبھی کبھی بدن ذہن اور سوچ کی رفتار اور اس کے معرکوں کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بدن کا تھکنا اور ردِ عمل دکھانا بھی تو فطری سی بات ہے۔ نہیں کیا؟

جتنا بڑا تخلیق کار، اُتنا ہی بڑا اس کا وژن اور جتنا بڑا وژن، اُتنا ہی بڑا کرب، اُتنا ہی بڑا دُکھ اس کا دامن گیر ہوتا ہے۔

بھائی امیر چوں کہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک روحانی شخصیت کے مالک بھی ہیں اس لیے اُن کی وارداتیں عام تخلیق کار کے وجدانی تجربات سے بھی پیچیدہ تر ہوتی ہوں گی۔ ایسے میں ذہنی دباؤ، اعصابی تناؤ اور رگوں میں دوڑتے پھرتے لہو کا ”بغاوت آمادہ“ ہوجانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر ہمیں نظر تو رکھنا ہے خارجی عوامل پر بھی اور داخلی امور پر بھی کہ جس حد تک ہو سکے زندگی میں توازن بحال رہے۔

اطمینان کی بات یہ کہ امیر بھائی اس مشکل گھڑی سے نکل آئے ہیں۔ اس میں اُن کے نسبی اور روحانی بزرگوں اور دوستوں کی دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اثر بھی شامل رہا ہو گا اور ان کے اہلِ خانہ کی بھرپور اور پُرخلوص کوششوں اور تگ و دو کا بھی۔

مجھے خوشی ہے کہ آج فیملی آف دی ہارٹ کی جانب سے ادب کے ایک حقیقی شہزادے کے لیے جشنِ صحت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ امیر اپنے اعلیٰ نسب کے اعتبار سے بھی اور اپنے ادبی ورثے اور اعلیٰ تخلیقی ذوق کے لحاظ سے بہادر شاہ ظفر سے کہیں زیادہ ”شاہ زادے“ کہلانے کے حق دار ہیں۔

………….
:پس تحریر
خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار

جاتے جاتے (فائن پرنٹ میں لکھا) یہ ڈِس کلیمر بھی عرض کردوں کہ روشن خیال دانش ور احباب کی اس محفل میں ایک سے زیادہ بار جو ”خدا“ کا نام زباں پر آ گیا وہ عمداً نہیں بلکہ ارتجالاً تھا۔

صد شُکر کہ ہم ایک ایسے فراخ دل معاشرہ میں رہتے ہیں جہاں خُدا کو ماننے والے کیا، نہ ماننے والے بھی مہربان و شفیق واقع ہوئے ہیں۔ وگرنہ اسی کرہِ ارض پر ایسی بستیاں بھی پائی جاتی ہیں جہاں ”خدا والے“ خدا کے نام پر ہی باہم دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف رپٹ پہ رپٹ لکھوا رہے ہیں۔ ایسی صورت یہاں ہوتی تو میں ذرا سے تصرف کے ساتھ اکبر الہ آبادی کا یہ شعر پڑھتے ہوئے آپ سے اجازت لیتا کہ

رپٹ لکھوائی ہے یاروں نے جا جا کے تھانے میں
کہ حامد نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں
امیر بھائی کی صحت و سلامتی کے لیے دعاؤں کے ساتھ آپ کی سماعتوں کا بھی شکریہ۔
………………

یہ مضمون جناب امیر حسین جعفری کی صحت یابی کی خوشی میں ٹورنٹو) میں منعقدہ فیملی آف دی ہارٹ کی خصوصی تقریب کے موقع پر لکھا گیا) ۔ )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments