کیا آپ نے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھی ہے؟


مجھے اعتراف ہے کہ میں نے تو یہ رپورٹ ابھی تک نہیں پڑھی۔ البتہ پڑھنے لکھنے کا شوق رکھتا ہوں اور ذاتی سٹڈی میں کچھ کتابیں خریدنے کے شوق میں جمع کر چکا ہوں۔ چونکہ یہ کتابیں زیادہ تر نان فکشن ہیں اس لئے انہیں ریفرنس کے طور پر کہیں مکمل اور کہیں متعلقہ جگہوں سے پڑھ چکا ہوں۔ یہ رپورٹ پڑھنے میں بھی دلچسپی ہے مگر سوچتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں جو عمومی طور پر ہوا اس بارے میں اس میں نیا ملے گا بھی کیا؟ تاریخ میں دلچسپی رکھنے والا ہر شخص جانتا ہی ہے کہ کیسے طویل مدتی غلط پالیسیوں نے آخرکار حالات بنگلہ دیش کے قیام تک پہنچا دیے تھے۔

مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے عمل پر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیشی رائیٹرز کی جو کتابیں پڑھ چکا ہوں ان کا ذکر مضمون کے آخر میں کر دوں گا۔ ان میں ہندوستانی سکالر سرمیلا بوس اپنی کتاب میں اکہتر کی جنگ میں ہلاک ہوئے افراد کی تعداد کو انڈیا اور بنگلہ دیش کے سرکاری دعوی یعنی تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل کے برعکس اوریجنل سورسز کی پڑتال کے بعد پچاس ہزار سے ایک لاکھ تک بتاتی ہے ؛ ویسے تو ون لاکھ ٹو مینی۔ بنگالی سکالر جی ڈبلیو چوہدری کی کتاب جنرل یحییٰ کے بڑی حد تک مثبت رول کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ بہرحال میں ہندوستان کے مکتی باہنی کی تربیت میں کردار، اس کی خفیہ کارروائیاں بشمول اگرتلہ سازش کے بارے میں مزید ضرور پڑھنا چاہتا ہوں مگر یہ بھی لگتا ہے کہ شاید کمیشن کی رپورٹ اس بارے میں بہترین ماخذ ثابت نہ ہو۔

آج کل پاکستان میں یہ رپورٹ عمران خان کی طرف سے اس کا ذکر اپنی ایک ٹویٹ میں کرنے کے باعث پھر سے خبروں میں ہے۔ عمران اس واقعہ کے بارے میں دیگر پاکستانیوں کی طرح قدرتی طور پر تاسف کا جذبہ رکھتا ہے جس کا اظہار اس کی ایک کافی پرانی ویڈیو جو یوٹیوب پر دستیاب ہے، میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ عمران کی اس زمن میں رائے شیخ مجیب الرحمان کے اپنے سیاسی حریف نواز شریف سے تقابل میں بھی سامنے آئی تھی جس میں اس نے نواز کے بطور وزیراعظم کردار کو مجیب کی غداری سے مطابقت دی تھی۔

سیاستدانوں کو غدار قرار دینے کا معاملہ تو افسوس ناک ہے ہی مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں سب ہی گاہے بگاہے ایک دوسرے کو غدار کہتے آئے ہیں۔ لیکن عمران نے اُس تازہ ٹویٹ میں اب اپنے ہی آپ کو مجیب سے مماثلت دے ڈالی ہے۔ ایسا سوچنے میں مضحکہ خیز لگتا ہے کہ کیسے عمران جو مجیب کو کچھ ہی سال پہلے غدار گردان رہا تھا اب اپنے آپ سے مماثلت دے رہا ہے۔ جب ایک رپورٹر نے عمران سے اس یُو ٹرن کی وجہ پُوچھی تو اُس نے بتایا کہ میں نے تب تک یہ رپورٹ نہیں پڑھی تھی۔

ظاہر ہے اب یہ مماثلت کسی کو نشانہ پر رکھ لینے کی وجہ گھڑی گئی ہے۔ عمران اس وقت زیر عتاب ہے اور جیل میں بند ہے، مقدموں اور پیشیوں میں پھنسا ہوا ہے۔ بہرحال ٹرائیل کورٹس کی سنائی سزاؤں کی اپیلیں جب ہائی کورٹس تک پہنچی ہیں تو ثبوتوں کے بہتر معیار کی ضرورت کے پیش نظر کچھ سزائیں معطل بھی ہوئی ہیں۔ لیکن اس سارے عمل میں ایک دہرا معیار بھی چل رہا ہے جس کا اس مضمون سے براہ راست تو نہیں مگر کچھ تعلق ضرور ہے۔ اُس تعلق کا بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ عمران کے ہمدرد ٹرائل کورٹس سے سزاؤں کو غلط اور ہائی کورٹس سے بریت کو تو ٹھیک مانتے ہی ہیں البتہ جب ان کی رائے اسی پراسس کے دوسرے سیاستدانوں پر اطلاق کے بارے میں لی جائے تو وہ اُلٹ ہے۔ یعنی ان کے مطابق دوسرے سیاستدانوں کی ٹرائل کورٹس سے سزائیں ٹھیک اور ہائیکورٹس سے بریت غلط تھی۔

اب عمران کے ہمدرد یہ سوچ سکتے ہیں کہ سیاستدانوں میں ایسی برابری ضروری ہی کیوں ہے ؛ عمران کرپٹ نہیں ہے اور باقی ہیں بس بات ختم۔ لیکن سیاست ایسی بلیک اینڈ وائٹ ہوتی نہیں اور اس ساری کہانی میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار وہ پہلو ہے جو پی ٹی آئی کے لوگوں کے آج کل کی سزاؤں اور بریت پر ردعمل کو اس مضمون سے تعلق دیتا ہے۔ عمران جس نے اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ بیانیہ کہ سیاستدان چور ہے کے استعمال سے فائدہ اٹھایا، مخالفوں کی سزاؤں کو اس بیانیہ کی جیت کہا، اپنے حریف مثلاً نواز پر مجیب جیسی غداری کا الزام لگایا اب اُسی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں مجیب کے ساتھ اپنی مماثلت قائم کر کے ایک اور فائدہ کی تلاش میں ہے۔

یہ تازہ ممکنہ فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لے آنے کی کوشش کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ تو سوال بنتا ہے کہ جمہوریت کی جدوجہد میں ایسے دباؤ میں غلط کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ملک میں آئینی جدوجہد اگر سیاسی پارٹیوں کو ایک جمہوری ایجنڈا پر جمع کر لینے میں ہو تو ٹھیک ہے وگرنہ عمران کے طرز سیاست والی اسٹیبلشمنٹ کی موقع پرست مخالفت اُسی سے مذاکرات کرنے میں کامیابی اور طاقت میں حصہ داری کی خواہش کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن اب رپورٹ کی طرف لوٹتے ہیں۔

عمران اپنی مجیب سے مماثلت میں اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ میرے سے طاقت شیئر کرنے کے لئے مذاکرات کرو ورنہ موجودہ ملکی حالات کا تاثر اکہتر کے مشرقی پاکستان جیسا بنا دیے جانے کے نتیجہ میں عوام میں مزید غیر مقبولیت کے لئے تیار ہو جاؤ۔ عمران نے اپنی ٹویٹ میں لوگوں کو یہ رپورٹ پڑھنے کی ترغیب دی ہے اور اپنی عوامی مقبولیت کو مجیب کی مقبولیت اور موجودہ آرمی چیف کی پالیسیوں کو یحییٰ کی پالیسیوں سے مطابقت دی ہے۔

مجیب سے ممکنہ مماثلت کا ایک پہلو اور بھی ہے اور جس میں عمران کے موجودہ رویہ کی مماثلت واقعی مجیب سے بن بھی جاتی ہے مگر منفی معنی میں۔ مثال کے طور پر اگر عمران نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تاریخ پڑھی ہوتی تو وہ سمجھ سکتا کہ بظاہر مجیب نہ چاہتے ہوئے بھی بنگلہ دیشی نیشنل ازم کو وہ ہوا دے بیٹھا تھا کہ اس کی تحریک بوتل سے باہر نکل آیا جن ثابت ہوئی۔ اس تحریک کی صرف ایک مثال آج کل کے خیبر پختون خواہ کے پی ٹی آئی لیڈران کے بیانات میں بھی مل جاتی ہے۔ جیسے شاندانہ گلزار کا کچھ عرصہ پہلے کا بیان کہ عمران نہیں تو پاکستان نہی، یا پارٹی کے حال ہی میں ہوئے سوات جلسہ میں اتحادی محمود اچکزئی کا بیان کہ ہم پاکستان توڑنا نہیں چاہتے مگر ہمارے قدرتی وسائل کسی کے باپ کو نہیں دیں گے۔ مجھے شک نہیں کہ ان بیانات کا تاثر سیاسی وابستگی پر منحصر ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں ملک میں ایسی تقسیم اکہتر کے بعد اب ہی ہوئی ہے۔

ویسے عمران نے یہ رپورٹ پچھلے ایک سال میں تو غالباً نہیں پڑھی کیونکہ جیل میں اُسکی بُک شیلف کی تصویروں میں موجود نہیں ہے بہرحال اس کے ذکر کا خیال بحالت مجبوری ایک سال بعد ضرور آیا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اپنی ٹویٹ میں جنرل ایوب کا ذکر نہ کرنا جس کی پالیسیوں نے بنگالی نیشنل ازم کو ہوا دی، جس نے پینسٹھ کے صدارتی الیکشن میں فاطمہ جناح کو ہروایا جو بنگالی جمہوری برابری کی امنگوں کے مزید کچلنے کا باعث بنا وغیرہ بھی عمران کی کسی مجبوری کے تحت ہی لگتا ہے۔ بعد میں یحییٰ شفاف الیکشن کرانے میں کامیاب تو ہوا لیکن سیاستدانوں کے تفرقہ کو مینج نہ کر سکنے پر اور پھیلتی خانہ جنگی کے ردعمل میں ایسے اقدام لینے پر مجبور ہوا جن کے برے نتیجہ میں تو اب کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ حالات تو یحیی دور سے پہلے ہی ہاتھوں سے نکل چُکے تھے۔

آخر میں میرا خیال ہے کہ اگر عمران کا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بارے میں مطالعہ صرف اس رپورٹ تک محدود نہ ہوتا تو بنگلہ دیش بننے کے موضوع کا ایسا سیاسی استعمال اس کی ترجیح نہ ہوتی اور یحییٰ کے رول کے بارے میں بھی اس کی رائے مختلف ہوتی۔ لیکن اس میں کسی کو کیا شک ہو سکتا ہے کہ عمران کی دلچسپی کتابیں پڑھ کر حقائق کی کھوج اور دلائل ترتیب دینے میں تو کم از کم نہیں ہے۔ ویسے یہ دلچسپ ہے کہ عمران کے ہیرو ائر مارشل اصغر خان نے اس حکومتی رپورٹ کو کچرا قرار دیا تھا۔ میری سٹڈی میں اس موضوع پر درج ذیل کتابیں موجود ہیں ؛

۔ ڈیڈ ریکوننگ، سرمیلا بوس (وسیع البنیاد سورسز اور گراؤنڈ ریسرچ پر مبنی کتاب)
۔ دی لاسٹ ڈیز آف یونائیٹڈ پاکستان، جی ڈبلیو چوہدری (یحییٰ کے رول کا فرسٹ ہینڈ اکاؤنٹ)
۔ ایسٹ پاکستان دی اینڈ گیم، برگیڈئیر صدیقی (صرف لکھنے والے کے ذاتی مشاہدات پر مشتمل ہے )

۔ مُکتی باہنی ونز وکٹری، میجر جنرل عبدل وہاب (بنگالی نقطہ نظر سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کا جائزہ)

۔ بنگال ڈیوائڈڈ، نتیش سینگُپتا (تقسیم بنگال سے تقسیم پاکستان تک کی تاریخ)
۔ آف بلڈ اینڈ فائر، جہان آرا امام (مارچ سے دسمبر انیس سو اکہتر کے واقعات پر مبنی پرسنل ڈائری)

۔ دی لینڈ آف ٹُو پارٹیشنز اینڈ بی یونڈ، احمد سلیم (مشرقی پاکستان سے متعلق لوگوں کے فرسٹ ہینڈ تجربات پر مشتمل انٹرویوز)

۔ بنگلہ دیش اینڈ پاکستان، ولیم بی میلام (پاکستان اور بنگلہ دیش کا معاشی، معاشرتی اور اقتصادی تقابلی جائزہ)

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments