کیا ہسپتال ایسا بھی ہو سکتا ہے؟


آنکھیں دو ننھی سی کھڑکیاں ہیں جو ہمیں دنیا کی خوبصورتی، رنگوں کی بہار، اور اردگرد کے ماحول کی تمام تفصیلات دیکھنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔ یہ نہ صرف ہماری بصارت کو ممکن بناتی ہیں بلکہ جذبات اور احساسات کے اظہار کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ خوشی، غم، محبت، اور حیرت جیسی کیفیات سب سے پہلے آنکھوں میں جھلکتی ہیں۔ آنکھیں واقعی قدرت کا ایک شاہکار ہیں، جو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی اور جذباتی رابطے کا بھی ذریعہ بنتی ہیں۔

آنکھیں ہمیں صرف دیکھنے کی صلاحیت نہیں دیتیں بلکہ ہمیں دنیا کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ قدرتی مناظر، خوبصورت چہرے، اور فن کے شاہکار ہماری آنکھوں کے ذریعے ہمارے دل تک پہنچتے ہیں۔ آنکھوں کی مدد سے ہم دنیا کی خوبصورتی اور اس کی رنگینیاں دیکھ سکتے ہیں، اور اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ آنکھیں ہماری یادوں کا خزانہ بھی ہوتی ہیں، جن میں ہم اپنے پیاروں کی مسکراہٹیں، خوبصورت لمحات، اور یادگار مناظر کو محفوظ کر لیتے ہیں۔

آنکھیں ہمارے جذبات اور احساسات کا آئینہ بھی ہیں۔ جب ہم خوش ہوتے ہیں تو ہماری آنکھیں چمک اٹھتی ہیں، اور جب ہم غمگین ہوتے ہیں تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ محبت کی مٹھاس اور نفرت کی تلخی سب سے پہلے آنکھوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ آنکھیں ہماری روح کا آئینہ ہیں، جو ہمارے دل کے احساسات کو بغیر الفاظ کے بیان کرتی ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اگر یہ آنکھیں بیمار پڑ جائیں، دیکھ نہ پائیں تو کیا ہو؟ ہماری تو یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔ کبھی اپ نے سوچا ہے کہ ان لوگوں پر کیا گزرتی ہو گی جو دیکھ نہیں پاتے؟

جنت عزیز آئی ہسپتال: والدین کی محبت کی جیتی جاگتی مثال

ائیے بات کرتے ہیں ایک ایسے ہسپتال کی، جہاں بیمار انکھوں کا علاج کر کے انہیں تندرست کیا جاتا ہے۔ جنت عزیز آئی ہسپتال میں بڑے بڑے سبزہ زار، سینکڑوں مختلف النوع درخت، اور ہزاروں رنگ برنگے گلاب ایک نہایت خوبصورت اور دل کو موہ لینے والے پارک کا منظر پیش کرتے ہیں۔ بہت سارے مریض تو اس ماحول میں آ کر ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لوگ یہاں آ کر سوچتے ہیں کہ کیا ہسپتال ایسا بھی ہو سکتا ہے؟ میں نے کئی لوگوں کو کہتے سنا کہ یہ تو کہیں سے بھی ہسپتال لگتا ہی نہیں بلکہ یہاں آ کر تو لگتا ہے کہ ہم کسی باغ میں آئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ہسپتال میں گھومتے ہوئے کہیں سے بھی ہسپتال والی بو اور ماحول محسوس نہیں ہوتا۔ او پی ڈی، آپریٹنگ تھیٹرز، ڈائیگناسٹک ڈیپارٹمنٹ، حتیٰ کہ ٹوائلٹس تک، ہر جگہ صاف ستھرا ماحول اور خوشگوار فضا نظر آتی ہے۔ سرخ اینٹوں سے بنی عمارت الحمرا کی یاد دلاتی ہے۔ بڑے بڑے ہوا دار برآمدے، روشن، ٹھنڈے، اور صاف ستھرے کمرے، اور ہر جگہ خوش لباس اور خوش مزاج سٹاف کے لڑکے اور لڑکیاں مریضوں کی خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں۔

یہ ہسپتال پاکستان کے پہلے نشان حیدر پانے والے میجر طفیل شہید کے گاؤں کے سامنے، گگو منڈی (تحصیل بورے والا) کے قریب واقع ہے۔

بہترین نظم و ضبط اور اصول

ہسپتال میں سینکڑوں مریض روزانہ علاج کے لیے آتے ہیں، مگر یہاں کا نظم و ضبط ایسا ہے کہ نہ کوئی شور، نہ ہنگامہ، اور نہ ہی دھکم پیل۔ ہر مریض کا پہلے آئیے کی بنیاد پر پوری توجہ سے علاج کیا جاتا ہے۔ شاید یہ واحد ہسپتال ہے جہاں علاج کے لیے کسی سفارش یا ریفرنس کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔ آزمائش شرط ہے۔

20 سال پہلے اس ہسپتال کے آغاز پر چند اصول وضع کیے گئے تھے جن میں پہلا اصول یہ تھا کہ مریضوں کے مذہب، رنگ، نسل، یا صنفی امتیاز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کی آنکھوں کا جدید آلات کی مدد سے علاج کیا جائے گا۔ دوسرا اصول یہ تھا کہ اس ہسپتال میں آنے والا کوئی بھی مریض اس لیے علاج سے محروم نہ رہے کہ وہ پیسے ادا نہیں کر سکتا۔ یہ دونوں اصول اپنی اصل روح کے مطابق آج بھی نافذ نظر آتے ہیں۔

علاج کا معیار اور سہولیات

سادہ لفظوں میں مستحق اور غریب مریض بغیر کسی مشکل کے اپنی آنکھوں کے جملہ امراض کا شافی علاج کروا سکتے ہیں۔ علاج کا معیار کسی بھی یورپی ہسپتال سے کم نہیں ہے۔ آپریشن والے مریضوں کو خصوصی سہولیات دی جاتی ہیں، مریضوں اور ان کے لواحقین کو معیاری کھانا، ادویات، اور رہائش بغیر کسی فیس کے مہیا کی جاتی ہے، اسی لیے کثیر تعداد میں مریض دور دراز سے سفر کر کے اپنی آنکھوں کے علاج و آپریشن کے لیے اس ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں سفید موتیے کے علاج کے ساتھ ساتھ گلوکوما، شوگر کے آنکھوں پر اثرات، کم بینائی، اور بچوں کی آنکھوں کا معائنہ و علاج کیا جاتا ہے۔ صاحب حیثیت افراد اس ہسپتال میں موجود جدید مشینری اور قابل ڈاکٹروں کی وجہ سے پیسے ادا کر کے اپنا علاج کروانے کے لیے آتے ہیں جو نہایت خوش آئند ہے۔

جدید ترین تشخیصی مرکز

آنکھوں کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے جدید ترین مشینوں سے آراستہ ڈائیگناسٹک سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ مریضوں کی سہولت کے لیے فارمیسی، عینکوں کی دکان، اور کینٹین جیسی سہولیات بھی ہسپتال کے اندر ہی موجود ہیں۔

جنت بی بی اور عزیز بخش کے نام پر قائم جنت عزیز آئی ہسپتال والدین سے محبت کا استعارہ ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے مریضوں کے لیے اپنے نام کی عملی تصویر یعنی جنت نظیر ہے۔ یہ ہسپتال نیک اور صالح اولاد کی صورت میں صدقہ جاریہ کی بہترین مثال ہے۔ والدین کی محبت اور ان کے ایصال ثواب کے لیے قائم کیا گیا جنت عزیز آئی ہسپتال، والدین کے نام پر ایک ایسا نیک عمل ہے جو نہ صرف ان کی روح کو خوش کرتا ہے بلکہ ان ہزاروں مریضوں کے لیے بھی باعث رحمت ہے جو یہاں آ کر اپنی بینائی کی بحالی کی امید رکھتے ہیں۔ اس ہسپتال کے بانیوں نے جس جذبے اور خلوص کے ساتھ اس کو قائم کیا ہے، وہ واقعی قابل تحسین ہے اور ایک ایسی روشنی ہے جو دنیا بھر میں پھیل رہی ہے۔

آپ یا آپ کے آس پاس آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا مریض علاج کے لیے ان نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں : 0673501096، 03371727562 یا مزید تفصیل کے لیے ہسپتال کی ویب سائٹ، گوگل اور فیس بک پیج دیکھ سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

فیصل پاکستانی

فیصل پاکستانی بزنس مینجمنٹ کی تعلیم اور ڈیڑھ دہائی پر محیط انتظامی تجربہ رکھتے ہیں۔ ایک معروف ادارے میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ساتھ ایک سرگرم سوشل ایکٹوسٹ بھی ہیں۔ ’ہم سب‘ جیسے معتبر فورمز پر کرنٹ افیئرز، کھیل، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، آن لائن فراڈ اور سماجی موضوعات پر مستقل لکھتے ہیں۔

faysal-pakistani has 26 posts and counting.See all posts by faysal-pakistani