استنبول کی نیلی مسجد
نیلی یا بلیو مسجد جسے سلطان احمد مسجد بھی کہا جاتا ہے ترکی کے شہر استنبول میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1609 ء میں خلافت عثمانیہ کے سلطان احمد اول کے دور حکومت میں ہوا اور یہ 1616 میں جا کر مکمل ہوئی۔ یہ مسجد استنبول کی معروف تاریخی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ شاندار طرز تعمیر، خوبصورت نیلی ٹائلوں سے مزین داخلی حصہ اور چھ مینار اسے منفرد بنائے ہوئے ہے۔
سلطان احمد اول نے بلیو مسجد کی تعمیر کا حکم اس وقت دیا جب عثمانی سلطنت کی طاقت میں کمی آنا شروع ہو گئی تھی۔ ان کا مقصد ایک عظیم الشان مسجد بنا کر سلطنت کی شان و شوکت کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔ اس مسجد کی تعمیر کے لیے سلطان احمد نے اپنے خزانے سے مالی وسائل فراہم کیے۔ اس بلیو مسجد کی طرز تعمیر عثمانی اور اسلامی فن تعمیر کا بہترین شاہکار ہے۔ اس کے معمار سید معمار سنان کے شاگرد محمد آغا تھے۔ مسجد کا مرکزی گنبد 43 میٹر بلند اور 23.5 میٹر قطر کا ہے۔
اس کے علاوہ اس مسجد میں آٹھ چھوٹے گنبد بھی شامل ہیں۔ مسجد کی اندرونی دیواروں کو ہاتھ سے بنائی گئی نیلی ٹائلوں سے مزین کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اسے بلیو مسجد کہا جانے لگا۔ ان ٹائلوں کو ازنک شہر میں تیار کیا گیا تھا۔ مسجد کی دیواروں پر قرآن کی آیات کی خطاطی کی گئی ہے جو اسلامی فن کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہیں۔ اس کے چھ مینار سلطنت عثمانیہ دور کی مساجد میں نادر تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ مینار رات کے وقت روشنیوں سے جگمگاتے ہوئے اپنا ایک الگ ہی تاثر پیدا کرتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں بلیو مسجد فعال عبادت گاہ ہے اور ساتھ ہی ایک مشہور سیاحتی مقام بھی۔ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس مسجد کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسجد کی دیکھ بھال اور مرمت کا کام مسلسل جاری رہتا ہے تاکہ اس کی عظمت کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس کی تزئین و زیبائش میں کوئی کسر چھوڑی نہیں جاتی۔ اب بھی اس کی مرمت و تزئین کا کام جاری ہے۔
یہ بلیو مسجد نہ صرف استنبول بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایک اہم مذہبی اور ثقافتی مقام رکھتی ہے۔ اس کی تعمیر نے عثمانی فن تعمیر اور اسلامی ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس مسجد کے اندرونی حصے میں تقریباً 10,000 نمازیوں کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔ یہ اس مسجد کی وسعت اور کشادہ تعمیر کا نتیجہ ہے جو عثمانی طرز تعمیر کا ایک بہترین نمونہ پیش کرتی ہے۔
سلطان احمد مسجد (بلیو مسجد) میں استعمال ہونے والے سنگ مرمر کو ترکی کے مختلف مقامات سے حاصل کیا گیا تھا۔ سلطنت عثمانی کی اس عظیم الشان مسجد کے لیے اعلیٰ معیار کے سنگ مرمر کا انتخاب کیا گیا تھا تاکہ اس کی خوبصورتی اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس میں استعمال ہونے والا زیادہ تر ماربل مرمرا جزیرے سے لایا گیا۔ جو اس وقت اور آج بھی ترکی میں اعلیٰ معیار کے سنگ مرمر کے لیے مشہور ہے۔ اس شاندار مسجد کے حوالے سے ایک بات واضح کرنی ضروری ہے۔
وہ یہ کہ اس کی تعمیر کے دوران سرمائے کی کوئی قلت درپیش نہیں آئی اور یہ سلطان احمد اول کے ذاتی سرمائے سے تعمیر ہوئی۔ جب کہ یہ بات مشہور کی گئی کہ اس کی تعمیر کے دوران سرمائے کی قلت کی وجہ سے استنبول کا گرینڈ بازار تعمیر ہوا۔ جس کے کاروباری سرمائے سے مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔ دراصل سلطان محمد فاتح نے 1455 ء میں استنبول کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے گرینڈ بازار کی بنیاد رکھی تا کہ اس شہر کی معیشت مستحکم ہوتی رہے اور اس سے عوام الناس مستفید ہوتے رہیں۔ جب کہ بلیو مسجد کی تعمیر 1609 ء تا 1616 ء کے عرصے کے دوران مکمل ہوئی۔
جہاں نیلی مسجد (بلیو مسجد) واقع ہے اس علاقے کو ”سلطان احمد“ کہا جاتا ہے۔ یہ استنبول کا تاریخی اور سیاحتی مرکز ہے۔ جسے ”سلطان احمد ضلع“ یا ”سلطان احمد علاقہ“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں کئی اہم تاریخی مقامات موجود ہیں، جن میں آیا صوفیہ، توپ کاپی محل، اور باسیلیکا سرنگ جس کو اس شہر کے باسیوں کی فراہمی آب کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے زیر زمین تعمیر کیا گیا جو اپنی نوعیت کا ایک شاندار منصوبہ ہے۔ سلطان احمد کا یہ ضلع استنبول کے قدیم شہر کا حصہ ہے اور اس کی اہمیت تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بہت اہم ہے۔
جس جگہ پر بلیو مسجد تعمیر کی گئی یہاں پر پہلے بازنطینی سلطنت کے محل کے کھنڈرات ہوا کرتے تھے۔ اس کی خاص بات چھ مینار ہیں جو عہد سلطنت عثمانیہ کے آرکیٹیکٹ کا نظارہ پیش کرتے ہیں ان میناروں کو سونے کا استعمال کرتے ہوئے بنانے کا سلطانی حکم تھا لیکن ان چھ میناروں کے خرچے کو مد نظر رکھتے ہوئے اور خزانے کے دگرگوں حالات کے تحت انہیں صرف سنگ مرمر کے پتھروں کے ساتھ بنانے پر اکتفا کیا گیا۔ اندرونی روشنی کے لئے 260 روشن دان یا جنہیں کھڑکیاں کہہ لیں بنائی گئی ہیں تا کہ روشنی کا انتظام رہے۔
اس کے ایک بڑے گنبد کے علاوہ آٹھ چھوٹے گنبد اس کی خوبصورتی میں اضافہ کیے ہوئے ہیں۔ بلیو مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بل کہ اس میں سماجی فنکشنز، مدرسہ، ہسپتال، سوپ بنانے کا باورچی خانہ اور پرائمری سکول بھی ہیں۔ اس میں ایک ایسا کمرہ بھی ہے جہاں خلاء نورد بیٹھ کر نمازوں کے اوقات کا تعین کرتے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں سے اکثر کمروں کو انیسویں صدی میں متروک کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے 1985 ء میں استنبول کے تاریخی مقامات، اس کے سمندر مرمر و باسفورس اور گولڈن ہارن کے علاقوں کو ثقافتی ورثہ قرار دے دیا گیا ہے۔
سلطنت عثمانیہ کے تاریخی و یادگار علاقے اگر ممکن ہو سکے تو ضرور اس کی سیاح نوردی کرنی چاہیے۔ سلطان محمد اول کا مقبرہ مسجد کے جنوبی حصے میں واقع سلطان احمد پارک کی جانب ہے۔ سلطان محمد اول صرف بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اور ستائیس برس کی عمر میں 1617 ء میں اس دارفانی سے رخصت ہو گیا۔ لیکن سیاح آج بھی اس شہزادے کی یادگار کو دیکھنے کے لئے جوک در جوک آتے ہیں۔ جن میں مسلم و غیر مسلم سبھی شامل ہیں۔


