اے حسن ڈھونڈ کر تجھے لائیں کہاں سے ہم
19 دسمبر 1978ء کی صبح میں نے روجھان جانے کے لیے رختِ سفر باندھ لیا تھا۔ طبیعت میں موجود فطری لاپرواہی کے سبب کسی سے یہ پتہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی کہ وہاں پہنچنا کس طرح ہے۔ ارشد کی زبانی یہ تو معلوم ہو چکا تھا۔ روجھان ڈیرہ غازی خان سے تقریباً آگے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اپنے طور پر سفر کا پروگرام فائنل کر لیا کہ یہاں سے بس کے ذریعے ملتان وہاں سے آگے اسی طرح ڈیرہ روجھان پہنچنا ہے۔ حسب ِ پروگرام بس پر بیٹھ کر ملتان پہنچا۔ اور وہاں سے ڈیرہ غازی خان جانے والی بس میں سوار ہو گیا۔ پل غازی گھاٹ پہنچتے پہنچتے شام ہو چکی تھی۔ ان دنوں غازی گھاٹ کے مقام پر دریا عبور کرنے کے لیے کشتیوں کا پل بنایا گیا تھا۔ وہاں پر بسوں کو روک کر تمام سواریوں کو نیچے اتار دیا جاتا تھا۔ خالی بسیں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی کشتیوں کے پل کو عبور کرتیں اور سواریاں پیدل چل کر دریا کے پار پہنچتیں۔ اور دوسرے کنارے پر ان سواریوں کو دوبارہ بس میں بٹھا لیا جاتا۔
پل عبور کرنے کے بعد جب ہم لوگ دوبارہ بس میں بیٹھے تو سورج تقریباً غروب ہونے والا تھا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پر ایک چالیس پینتالیس سال کے ایک صاف ستھرے خوبصورت سے شخص بیٹھے ہوئے تھے۔ چہرے پر چھوٹی چھوٹی سلیقہ سے تراشی گئی داڑھی ان کے وقار میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ میں نے جھجکتے ہوئے ان سے دریافت کیا کہ اس وقت ڈی جی خان سے روجھان کے لیے بس مل جائے گی۔ انہوں نے بغور میری طرف دیکھتے ہوئے دریافت کیا تم نے وہاں کیا لینے جانا ہے۔ میری وہاں بطور سائنس ٹیچر تعیناتی ہوئی ہے میں نے جواب دیا۔ اس طرح سلسلہ کلام ختم ہو گیا۔ پندرہ بیس منٹ خاموشی کے بعد میں نے پھر ان سے پوچھا۔ وہاں لاری اڈے پر کوئی صاف ستھرا ہوٹل ہے جو زیادہ مہنگا نہ ہو۔ اور جہاں رات گزاری جا سکے۔ بے نیازی سے بولے کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں ہوٹل میں دھکے کھانے کی تم میرے ساتھ گھر چلو گے۔ مجھے یہ بات بہت عجیب سی لگی۔ اور میں نے اس کا فی البدیہہ اظہار بھی کر دیا کہ نہیں یہ مناسب نہیں ہے۔
میں رات لاری اڈے پر ہی کسی چھوٹے موٹے ہوٹل میں گزار لوں گا۔ بزرگانہ شفقت نما سختی سے بولے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے محکمے کا آدمی اور رات گزارنے کے لیے ہوٹلوں میں خوار ہوتا پھرے۔ میں بھی محکمہ تعلیم سے تعلق رکھتا ہوں۔ اور گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان میں بطور ڈی۔ پی۔ آئی کام کر رہا ہوں۔ تم میرے ساتھ ہی چلو گے۔ اور اب اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ اس کا اپنائیت بھرا انداز دیکھ کر خاموش رہنے کے علاوہ میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
موصوف کا دیسی طرز کا بنا ہوا سادہ سا گھر تھا۔ میرے لیے بیٹھک میں ایک چار پائی بچھا دی گئی۔ اور کھانا کھانے کے بعد کہنے لگے۔ اب تم بے فکر ہو کر سو جاؤ۔ میں نے پتہ کروا لیا ہے۔ صبح ساڑھے چار بجے پہلی بس روجھان کے لیے نکلتی ہے۔ میں تمہیں وقت پر جگا دوں گا اور میرا بیٹا تمہیں بس میں بٹھا آئے گا۔ ڈی پی صاحب کی شخصیت اور حسن سلوک اس قدر نفیس تھا کہ ایک لمحے کے لیے بھی میرے ذہن میں کسی قسم کے شکوک و شبہات پیدا نہیں ہوئے اور میں بے فکری سے لمبی تان کر سو گیا۔
صبح تقریباً ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ انہوں نے مجھے آ جگایا۔ اور حکم نما لہجے میں بولے واش روم سے فارغ ہولو۔ میں واش روم میں گیا تو گرماگرم بھاپ چھوڑتے ہوئے پانی سے لبالب بھری ہوئی ایک بالٹی وہاں موجود تھی۔ مجھے بہت شرمساری سی محسوس ہوئی کہ میری موجودگی کی وجہ سے سارے گھرانے کے معمولات میں اچھا خاصا خلل پڑ گیا ہے۔ میں یہاں سے فارغ ہو کر باہر نکلا۔ تو بیٹھک میں میز پر ناشتہ موجود تھا۔ پراٹھے، دہی، مکھن، آملیٹ، سالن اور چائے پر مشتمل اس بھر پور ناشتے کو دیکھ کر مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔
اور پہلے سے موجود شرمندگی کا احساس اور گہرا ہو گیا۔ میزبان یقیناً میری کیفیت کو بھانپ چکے تھے۔ شفقت بھرے بزرگانہ انداز میں بولے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم دونوں میاں بیوی صبح سویرے تہجد پڑھنے کے لیے جاگ جاتے ہیں۔ اور سب سے پہلے چائے بنتی ہے۔ آگ جلانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ جب آگ جل گئی تو باقی سارے کام تو خود بخود ہو جاتے ہیں۔ ہم نے تمہارے لیے خاص طور پر کوئی کام نہیں کیا۔ سارے کام معمول کے مطابق ہی ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ ان دنوں نہ تو گھروں میں گیزر ہوا کرتے تھے۔ اور نہ ہی گیس کی سہولت حاصل تھی۔ اب تکلفات کو چھوڑ کر خوب پیٹ بھر کر کھانا کھا لو۔ پتہ نہیں اگلا کھانا کب ملتا ہے۔ میں ناشتے سے فارغ ہوا تو وہ اپنے بیٹے کو جگا کر اپنے ساتھ لائے۔ اور اُسے تاکید کی کہ انہیں روجھان کی بس پر بٹھا آؤ اور ڈرائیور کو تاکید کر کے آنا کہ انہیں راستے میں پڑنے والے سکول کے سامنے اتارتا ہوا اڈے پر جائے۔ اس نے گھر سے ویسپا نکلا مجھے پیچھے بٹھایا اور لاری اڈے پر لے جا کر حسب ہدایت بس پر بٹھا آیا۔
آج بھی جب میں اس واقعے کے متعلق سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ ایسے خوبصورت ذہین سوچ اور کردار کے مالک لوگوں کو ہم نے کہاں کھو دیا۔ یہ لوگ ہمارے اسی معاشرے کا حصہ تھے۔ یہ ایک فر د کی کہانی نہیں ہے۔ گھر گھر ایسے لوگ موجود تھے۔ اس کا بیٹا جو مجھے لاری اڈے پر چھوڑنے گیا۔ بمشکل چودہ پندرہ سال کا ہو گا۔ دسمبر کے دنوں میں صبح ساڑے چار بجے کے وقت کو تصور میں لائیں۔ ابھی رات ہی ہوتی ہے۔ میں تو شاید آج اپنے اس عمر کے کسی بیٹے یا پوتے کو اپنی ذات کے لیے بھی اس وقت لاری اڈے پر لے جانے کی ہمت نہ کر سکوں۔
لیکن اس شریف النفس انسان نے محض ایک اجنبی کی خاطر اتنا بڑا خطرہ مول لینے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھا۔ اسی چیز کو اگر دوسرے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت ہم پر امن اور پر سکون معاشرے کا حصہ تھے۔ اس لیے انے بیٹے کو باہر بھیجتے وقت میرے میزبان کو کسی بھی قسم کا خوف اور خطرہ نہیں تھا۔ معاشرے کو تشکیل دینے والے لوگوں میں اس قسم کے شرفا کی خاصی تعداد موجود تھی۔ اسی لیے ان کے کردار کے حسن و جمال کا عکس ہمیں معاشرے کے اجتماعی کردار میں بھی جھملاتا ہوا دکھائی دیتا۔
وہ معاشرہ کہاں کھو گیا۔ ایسے لوگ کہاں چلے گئے۔ اب تو ہم ایک گم گشتہ کارواں کی مانند حرص و ہوس کے لق و دق صحراؤں میں اپنی منزل کا تعین کیے بغیر بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ ہم تو ابھی تک امن وآشتی اور سکون و اطمینان کی وادی کو جانے والے راستے کو ہی تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پر آنے والا دن نت نئی قباحتوں اور ظلمتوں کو اپنے ساتھ لا رہا ہے۔ معاشرے کو اس حال تک پہنچانے میں یقیناً ہم سب نے ہی اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ کیا اس ساری صورت حال کو اسی انداز میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ریورس کیا جا سکتا ہے۔ آنے والا وقت ہی اس کا درست جواب دے گا۔ فی الحال اس بارے میں کسی بھی مثبت پیش گوئی کا دور دور تک کوئی امکان موجود نہیں۔
اپنی نگاہ شوق بھی اب تک ہے بے خبر
اے حسن ڈھونڈ کر تجھے لائیں کہاں سے ہم


