اشرافیہ کا بجٹ


پاکستان کا 18.8 ٹریلین روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جو ملک کی جی ڈی پی کا 15 فیصد ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق، پاکستان کی اندرونی اور بیرونی مارک اپ ادائیگی گزشتہ سال کی ادائیگیوں کے مقابلے میں 16 فیصد تک بڑھ گئی ہیں اور مجموعی طور پر 9.775 ٹریلین مارک اپ ادائیگیاں پاکستان کو اس مالی سال میں کرنی ہیں، یہ ٹوٹل حکومتی اخراجات کا تقریباً 51.7 فیصد ہے۔ مارک اپ ادائیگی میں نمایاں اضافے کی وجہ سے حکومتی اخراجات پر دباؤ بڑھتا ہے اور یہ بالآخر مالیاتی خسارے کے اضافے کا باعث بنتا ہے۔

دوسری جانب جب ہم اخراجات کی فہرست پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں حکومت کی ترجیحی فہرست میں سب سے اوپر دفاعی بجٹ نظر آتا ہے جس میں دفاع پر 2,122 ارب روپے خرچ کرنے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔ مختص رقم کا 39 فیصد ملازمین سے متعلقہ اخراجات ( 815 بلین) ، 24 فیصد ٹریننگ کے اخراجات ( 513 بلین) ، 26 فیصد ہتھیاروں کی خریدوفروخت ( 548 بلین) اور 11 فیصد سول ورکس ( 244 بلین) کے لیے رکھا گیا ہے۔ سول ورکس کے اخراجات میں مختص رقم میں 25 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد فزیکل ایسٹس 18 فیصد اور ٹریننگ اخراجات 15.6 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ریٹائرڈ ملٹری افسران کی پنشن کے لیے 662 ارب روپے الگ سے مختص کیے گئے ہیں، اگر ہم ریٹائرڈ ملٹری افسران کی پنشن کو دفاعی بجٹ میں شامل کریں تو یہ ملک کے جی ڈی پی ( 2784 ارب روپے ) کا 2.2 فیصد بن جائے گا۔ دفاع واحد شعبہ ہے جس پر حکومت اتنی خطیر رقم کھلے دل سے خرچ کرتی ہے یا پھر حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے والے عناصر خرچ کروا لیتے ہیں!

دوسری جانب وفاقی حکومت نے زراعت اور فوڈ سیکٹر کے بجٹ میں 48 فیصد کمی کر کے اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈال دی ہے چونکہ 18 ویں ترمیم کے بعد فوڈ سیکیورٹی کا شعبہ صوبائی حکومت کے ماتحت ہے۔ اس وقت جب ملک غذائی قلت کے مسئلے سے دوچار ہے، وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کسانوں کی مدد کے لیے مختص رقم کو گزشتہ سال سے بڑھا کر، آسان اقساط پر قرضے فراہم کر کے اور انھیں سبسڈی پر کھاد فراہم کر کے ان کو سپورٹ کرتے لیکن الٹا بجٹ کی کٹوتی سے کسانوں کی حوصلہ شکنی ہوگی کیونکہ صوبائی حکومت پہلے ہی گندم کی خریداری میں انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت جو پہلے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کو بلا سود قرضے فراہم کرنے کے لیے سبسڈی دیتی تھی اس بجٹ میں وہ سبسڈی بھی ختم کر کے کسانوں کو وفاق کی جانب سے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

بجٹ میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے 7 ارب روپے رکھے گئے ہیں کیونکہ اس سیکٹر میں پچھلے سال کے مقابلے میں فنڈز میں تقریباً 83 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لیکن پھر بھی حکومت کو اس سیکٹر پہ مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ملک اس وقت سخت موسمی پیٹرن کا سامنا کر رہا ہے جو شدید بارشوں اور سیلاب کی صورت میں ملک کی معیشت اور فصلوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، حکومت کو چاہیے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پروگرام کے لئے مزید انویسٹ کرے، بارش کے پانی کو سٹور کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے، اس سیکٹر میں انوسٹمنٹ کی راہ ہموار کر کے فوریسٹری اور ماحول کو تحفظ دے۔

ایک اور چونکا دینے والی خبر یہ ہے کہ ملک میں تعلیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ایچ ای سی کے بجٹ میں اضافے کی بجائے گزشتہ سال کے مقابلے ایچ ای سی کے لیے مختص بجٹ میں 4 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ یہ تباہ کن خبر ہے کیونکہ ہم اس سے بخوبی انداز لگا سکتے ہیں کہ حکومت کی توجہ ملک کی نوجوان آبادی کو تعلیم فراہم کرنے پر نہیں ہے۔ وفاقی حکومت نے تعلیم کے لیے سبسیڈائز سروسز کے فنڈ میں بھی کمی کردی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو سبسڈی طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں تک رسائی میں مدد کے لئے جو ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولت دی جاتی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے۔ ایچ ای سی کا مختص بجٹ 79 ارب روپے ہے جو حکومت کے کل اخراجات کا صرف 0.5 فیصد ہے، جو یونیورسٹیاں پہلے ہی خسارے میں چل رہی تھیں انہیں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب بھارت اپنی جی ڈی پی کے 6 فیصد سے زیادہ تعلیم پر سرمایہ کاری کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں تعلیم بدستور نظر انداز کیے جانے والا شعبہ بنا ہوا ہے۔ تبھی ہمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان معیاری تعلیم کا فرق بہت زیادہ نظر آتا ہے، یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ بجائے حکومت کی توجہ ملک کے نوجوانوں کو تعلیم دینے پر ہوتی، نوجوانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی میں دنیا سے مقابلہ کرنے کے لئے مزید مواقع دینے پر ہوتی لیکن حکومت نے ہایئر ایجوکیشن کا بجٹ کم کر کے دفاع کے بجٹ میں 17 فیصد سے زائد کا اضافہ کر دیا ہے جو کہ سراسر ملک کے 60 فیصد آبادی پر مشتمل نوجوانوں کو نظرانداز کرنے کے برابر ہے، حکومت دفاع پر تو پیسا لگا سکتی ہے، دفاعی اداروں کو ٹیکسز کی چھوٹ تو دے سکتی ہے، سبسڈیز اور مراعات تو دے سکتی ہے، ریٹائرمنٹ کے بعد زمینوں سے تو نواز سکتی ہے لیکن جب بات نوجوانوں کو تعلیم دینے کی آتی ہے تو حکومت ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے۔

بجٹ کو مزید پرکھیں تو پبلک سیکٹر کے ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 29 فیصد اضافہ کر کے 3792 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس میں سے 2095 ارب روپے صوبوں کو دیے جائیں گے۔ لیکن حکومت نے انسانی حقوق ڈویژن کی مختص رقم 130 ملین روپے (پچھلے سال) سے کم کر کے (اس سال) 104 ملین روپے کر دی ہے، جیسا کہ وفاقی حکومت ہائبرڈ رجیم کی بنیاد پر کھڑی ہے اس طرح انسانی حقوق ڈویژن کے بجٹ میں کٹوتی بھی یہی ثابت کرتی ہے کہ حکومت کو انسانی حقوق ہر شہری کو دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

یہ بجٹ بھی اسی سلسلے کی ہی کڑی ہے جس سے دہائیوں سے لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اشرافیہ وفاقی حکومت سے الاؤنس اور بجٹ کی مختص رقم میں بے پنا اضافہ کرانے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن بیچارے پسے ہوئے مزدور اور کسانوں کو اس بجٹ سے فائدہ نہیں مل سکا، حکومت نے قانون سازی اور ایگزیکٹو باڈیز کے الاؤنسز میں اضافہ تو کیا، انہیں مراعات سے تو نواز دیا لیکن ملک میں زراعت اور خوراک کے شعبے کے لیے مختص رقم میں کمی کردی۔ وفاقی حکومت کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تجویز دی ہے کہ 1 سے 16 گریڈ تک کی تمام آسامیاں ختم کر دی جائیں کیونکہ اس سے سالانہ 45 ارب روپے کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت کی توجہ پنشن کے حجم کو کم کرنے پر بھی ہے اور حکومت اس کے لئے اصلاحات متعارف کرانا چاہتی ہے۔ چونکہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے اتنا دب چکا ہے کہ اس کے خزانے میں اتنی رقم بھی نہیں رہ گئی کہ وہ نئی نوکریوں پر لوگوں کو بھرتی کر سکیں، ان کو تنخواہیں دے سکے لیکن دوسری جانب حکومت نے دفاعی بجٹ میں 17 فیصد اضافہ ضرور کر دیا، ایلیٹ کلاس طبقے کو مزید مراعات اور سبسڈیز دے دی ہیں، بجٹ کی کاپی وفاقی حکومت کی ترجیحات کے بارے میں سب کچھ بتاتی ہے اور بجٹ کی یہ دستاویزات بتاتی ہیں ہمیں کہ یہ ملک صرف ان لوگوں کا ہے جو اس میں اثر و رسوخ اور اختیار رکھتے ہیں، افسوس کی بات ہے!

Facebook Comments HS

2 thoughts on “اشرافیہ کا بجٹ

  • 20/06/2024 at 5:57 شام
    Permalink

    لکھاری کی علمی قابلیت نامعلوم ہے۔ متعدد اعتراضات غلط ہیں اور متعدد اہم باتیں موجود ہی نہیں۔
    پنشن صرف ریٹائرڈ ملٹری افسران کی ہی نہیں اس میں سپاہی سے لیکر حوالدار صوبیدار ایئرمین اور سیلرز کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ طنز تو کردیا لیکن یہ سارے فوجی جن میں ایک بڑی تعداد شہدا یا معذور افراد یا انکے اہل خانہ کو ملنے والی پنشن بھی اسی میں شامل ہے۔ فوجی کی پنشن سرکار مفت نہیں دیتی۔ ہر مہینے تنخواہ میں سے ایک بڑا حصہ انکے فنڈ میں کٹ جاتا ہے جو پچیس تیس سال بعد ان کو لوٹایا جاتا ہے۔ اگر سرکار اس کٹوتی کو صحیح جگہ استعمال نہیں کرتی تو اس میں ان سرکاری ملازمین بشمول فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کا کیا قصور ہے۔
    اگر اس سال بقول آپ کے 18 فی صد فوج کا بجٹ بڑھا تو 20 سے 25 فی صد جو تنخواہیں بڑھی ہیں ان کا اثر اسی کھاتے میں جائے گا۔ مت بڑھائین تنخواہ۔
    مہنگائی کی وجہ سے تیل بجلی غذا اور تربیت پر اگر 25 فی صد بھی فرق پڑا ہے تو یہ اثر اور ڈالر کا اثر فوجی بجٹ میں آنا ہی ہے۔ جس طرح ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ تنخواہ اور نالواسطہ ٹیکس کا ایک بڑا حصہ اس ٹیکس میں واپس چلاجاتا ہے۔ اور یہ 2۔2 ٹریلین کے لیئے آدھا ٹریلین سے کم نہیں ہے جو حکومت کو واپس چلا جائے گا۔ تو کونسا طنز ہے جو اپ فرمارہے ہیں۔
    2010 سے زراعت ہر صوبہ کا اپنا مسئلہ ہے تو کسان کارڈ یا اس کے قرضے جیسی اصلاحات کا وفاقی بجٹ میں کوئی کام نہیں ہونا چاہئے ۔ ہر صوبہ خود سنبھالے۔
    اسی طرح تعلیم جس میں اعلی تعلیم اور فنی تعلیم بھی شامل ہے وہ بھی وفاقی بجٹ میں ہونا غیر متعلق ہیں۔ وفاقی بجٹ میں صرف وہ رقوم ہوں گی جو ان تعلیمی اداروں میں خرچ ہوں گی جو اسلام اباد میں ہیں یا وفاق کے کنٹرول میں۔ پاکستان میں اب جامعات بھی صوبوں کے اختیار میں ہیں کیون کہ وائس چانسلر وزیراعلی لگاتا ہے۔
    وفاق کے بجٹ کا بڑا حصہ سود اور قرضوں کی ادائیگی، فوج اور پنشن کے ساتھ جس مد میں جاتا ہے وہ آپ نے لکھی ہی نہیں اور وہ ہے بیوروکریسی کی تنخواہیں اور سہولیات۔ یہ فوج سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ تنخواہیں بھی اور پنشن بھی۔
    انسانی حقوق کا جہاں تک سوال ہے وہ بھی اب صوبائی مسئلہ ہے اس لئے ان کا بھی وفاقی بجٹ میں کوئی خاص حصہ نہیں ملے گا۔ ماسوائے مخصوص وفاقی اداروں کے۔

    • 21/06/2024 at 2:21 شام
      Permalink

      وفاق کے تنخواہ دار بیوروکریسی اور ملازمین کی پنشن 220 ارب روپے ہے۔

      سابقہ فوجیوں کی پنشن زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں 45 سال کی عمر سے ریٹائر کرنا شروع کردیا جاتا ہے اور ان کی ایک بڑی تعداد جو اپنی پرفارمنس اور تجربے کی عروج پر ہوتے ہیں پچاس سے باون سال کی عمر میں ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ بہت کم ہیں جو 58 سال یا اس سے اوپر جائیں۔ اگر ان کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح ساٹھ اور باسٹھ تک لے جایا جائے تو پنشن کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کے اپنے نقصانات ہیں۔ اچھے ذہن والے لوگ فوج میں جاے کی بجائے نجی شعبوں میں جانا پسند کریں گے۔

      اسی طرح فرض کرلیں کہ فوج کے ملازمین کے اخراجات میں تنخواہوں کا حصہ 75 فی صد ہے یعنی 815 ارب میں 560 ارب روپے تنخواہیں ہیں۔ تو اس میں کم از کم 70 سے 80 ارب روپے ان کے فنڈ کی مد میں حکومت کو چلے جاتے ہیں یا دینے نہیں پڑتے۔ تیس سال نوکری کرنے پر یہ رقم بغیر سود کے آج کے 2500 ارب کے لگ بھگ بن جاتی ہے۔ باہر کے ممالک پنشن کے پاکستانی نظام کو استعمال نہیں کرتے اسی لئے وہ اتنی مشکل میں نہیں ہیں۔

      اگلے سال بیوروکریسی اور سول انتظامیہ کو چلانے کے لئے بھی 839 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

Comments are closed.