مریم نواز کی 100 روزہ بادشاہت
سابق وزیر اعظم نواز شریف طبعاً قدامت پسند مزاج کے مالک ہیں۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز کی پرورش مشرقی ماحول میں ہوئی ہے۔ اس لئے وہ مریم نواز کے سیاست میں حصہ لینے کے حق میں نہیں تھے۔ اس کئی وجوہات ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان کا معاشرتی ماحول خواتین کے لئے سیاست میں حصہ لینے کے لئے سازگار نہیں اس لئے وہ مریم نواز کو اپنا سیاسی جانشین بنانے کے لئے ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ مریم نواز کو سیاسی میدان میں اترنے کی اجازت دلوانے میں سب سے بڑا رول ان کی والدہ محترمہ کلثوم نواز کا تھا جو مریم نواز کی خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر انہیں سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی سب سے بڑی وکیل تھیں ممکن ہے۔
پلوں کے نیچے سے بڑا پانی بہہ چکا ہے۔ شریف فیملی میں کوئی بھولے سے چوہدری نثار علی خان کا نام بھی نہ لیتا ہو چھ سال قبل سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایک نشست میں دعویٰ کیا تھا کہ سب سے پہلے انہوں نے نواز شریف کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں اپنی نشست کی پشت پر بٹھایا کریں تاکہ وہ قدرے حجاب میں رہ کر اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے نوٹس لیا کریں اور پھر اجلاس میں ہونے والی گفتگو بارے آپ کو تجزیہ پیش کریں۔
معلوم نہیں اس بات میں کس حد تک صداقت ہے۔ مریم نواز انکل چوہدری نثار علی خان کو اپنا آئیڈیل سمجھتی تھیں لیکن ایک وقت ایسا آیا انکل نثار نے اسی بھتیجی کی قیادت میں کام کرنے سے انکار کر دیا تو انکل چوہدری نثار علی خان کو مسلم لیگ (ن) کی کشتی سے ہی اتر جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ چوہدری نثار علی خان پہلے مسلم لیگی رہنما تھے جو بھرا ہوا میلہ چھوڑ کر چلے آئے۔ جب شاہد خاقان عباسی انہیں منانے کے پنجاب ہاؤس اسلام آباد آئے تو کہا کہ ہمارا مسلم لیگ (ن) کے سوا کسی اور جماعت میں گزارا نہیں لیکن جب نواز شریف نے مریم نواز کو پارٹی کا سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر بنایا تو شاہد خاقان عباسی نے پہلے مرحلے میں پارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ پھر خاموشی سے مسلم لیگ (ن) سے ہی الگ ہو گئے اور عوام پاکستان کے نام سے الگ پارٹی بنالی عوام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والوں میں اکثریت ناراض مسلم لیگی رہنماؤں کی ہے جو کسی نہ کسی طور مسلم لیگ (ن) میں اب رہنا نہیں چاہتے تھے۔
ہر ناراض مسلم لیگی کی ناراضی کی اپنی اپنی وجہ ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سردار مہتاب احمد خان، مفتاح اسماعیل، آصف کرمانی، زعیم قادری اور جاوید عباسی عوام پاکستان کا حصہ بن گئے ہیں۔ کچھ شمولیت کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ تازہ ترین ناراض مسلم لیگی محمد زبیر نے بھی مسلم لیگ (ن) کی کشتی سے چھلانگ لگا دی ہے۔ غالباً کچھ مسلم لیگی مریم نواز کی قیادت میں کام نہ کرنا چاہتے ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ مریم نواز نے دنوں میں مسلم لیگ (ن) میں اپنا مقام پیدا کر لیا پچھلے ایک سال کے دوران مریم نواز کا پارٹی میں عمل دخل بڑھ گیا ہے جس کے باعث بعض سینئر رہنماؤں کی پارٹی میں گنجائش کم ہو گئی تھی لیکن مریم نواز نے پارٹی کے بڑے بڑے لیڈروں کو ان کی قیادت میں کام کرنے پر آمادہ کر لیا یہی ان کی بڑی سیاسی کامیابی ہے۔
8 فروری 2024 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے پنجاب میں میدان مار لیا جب کہ وفاق میں واحد اکثریتی جماعت نہ بن سکی وزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے کئی امیدوار تھے لیکن مریم نواز کے نام قرعہ فال نکلا اس طرح مریم نواز کو پاکستان کے کسی صوبہ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا نواز شریف بوجوہ چوتھی بار وزیر اعظم نہ بن سکے لیکن اپنی ہونہار صاحبزادی مریم نواز کو تخت لہور پر دلوانے میں کامیاب ہو گئے بظاہر مریم نواز کو ملک کے 58 فیصد صوبہ کا اقتدار سونپنا ایک بڑا رسک تھا لیکن ان کی پچھلے 100 ایام کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کامیاب نظر آتی ہیں۔
ان کی معاونت کے لئے دو تجربہ کا ر رہنماؤں کی خدمات مستعار لی گئی ہیں جو ہر وقت وزیر اعلیٰ کے ساتھ سائے کی طرح رہتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید جو میرے ہم عصر ہیں۔ راولپنڈی کی طلبہ سیاست میں ہم ایک دوسرے کے حریف تھے اور میں شیخ رشید احمد جو دائیں بازو کے سرخیل تھے۔ کے کیمپ کا حصہ تھا۔ کو استاد محترم کا درجہ حاصل ہو گیا ہے جب مریم اورنگ زیب نے مریم نواز کی معاونت کے لئے لاہور میں ہی ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے۔
مریم نواز کو پہلے 100 ایام کے اہداف حاصل کرنے میں خاصی کامیابی ہوئی ہے۔ پنجاب کی حکمرانی پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ہوتا ہے۔ آئے روز بد امنی کے واقعات ہی سکون کی نیند سونے نہیں دیتے پنجاب کی سیاست معاشرتی روایات اور برادری کے تابع ہے اور برادری ازم کی بنیاد پر سیاست کی جاتی ہے۔ جہاں ارکان اسمبلی حلقہ نیابت پر مکمل کنٹرول رکھنے کے انتظامیہ اور پولیس کو تابع رکھنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ایسے صوبے کی حکمرانی جان جوکھوں کا کام ہے لیکن مریم نواز نے دنوں میں ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ ایک کامیاب حکمران ہیں۔
انہوں نے اپنے آپ کو جاتی امرا میں قید ہونے کی بجائے عام آدمی کے گھر میں دستک دے رہی ہیں۔ 100 دن میں مسائل حل کرنا ناممکن بات ہے لیکن اب تک 100 ایام کی مریم نواز کی کارکردگی کو پیش نظر رکھا جائے تو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی سمت درست ہے۔ کامیابیاں اور ناکامیاں اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ اپنے طور پر کوشش تو کی جا رہی ہے۔ بظاہر پنجاب میں مجموعی طور امن و امان کی صورت حال بہتر ہے لیکن ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے اس کے بے پناہ مسائل ہیں۔ صوبہ کے جاگیر دار جو تھانہ اور کچہری کی سیاست کے زور اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ اپنا سیاسی دبدبہ برقرار رکھنے کے لئے اپنی مرضی کا ڈی سی اور ڈی پی او لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ غالباً پچھلے 100 ایام میں مریم نواز پر سب سے زیادہ دباؤ تقرریوں اور تبادلوں حوالے کا ہو گا۔ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں بھی پنجاب اسمبلی کے ارکان کو تقرریوں اور تبادلوں میں دلچسپی نہ لینے کا مشورہ دیا ہے لیکن یہ بات ممکن نہیں کہ دیہی علاقہ کے ارکان اسمبلی اپنی بادشاہت قائم کیے بغیر خاموشی اختیار کر لیں۔
مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کی شخصیت کا موازنہ نہیں کیا جانا چاہیے ویسے بھی بے نظیر بھٹو کے انجام کو پیش نظر رکھ کر مریم نواز کو بے نظیر بھٹو ثانی بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے البتہ مریم نواز نے پچھلے 100 ایام کی حکمرانی میں وہی طرز سیاست اپنایا ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی عوام میں مقبولیت کا باعث بنا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک نواز شریف کا مرہون منت ہے۔ نواز شریف نے پہلی بار اپنے جلسوں میں مریم نواز کو آخری مقرر کے طور تقریر کرنے کا موقع دے کر یہ دیکھا کہ ان کی تقریر کے بعد مریم کی تقریر میں مجمع جمع رہتا ہے کہ نہیں مریم نواز اس امتحان میں پاس ہو چکی ہیں۔
اب ان کا حکمرانی کا امتحان ہے جسے اہل سیاست اور اسٹیبلشمنٹ کی ان پر نظر ہے۔ مریم نواز ایک طلسماتی شخصیت کی مالک ہے۔ اپنی تقاریر میں جارحانہ مزاج رکھنے کی وجہ سے ہجوم کے لئے کشش رکھتی ہیں۔ مریم نواز کی تقریر سننے کے لئے لوگوں کا ہجوم امڈ آتا ہے خواتین میں مریم نواز مقبول لیڈر کی حیثیت سے ابھری ہیں۔ نوجوانوں میں مسلم لیگ کی مقبولیت قدرے کمزور ہے۔ مریم نواز نوجوانوں کے لئے پرکشش پروگراموں کا اجرا کر کے انہیں مسلم لیگ (ن) کی طرف راغب کر سکتی ہیں۔ نواز شریف نرم مزاج لیڈر ہیں اور دوستوں کے دوست لیکن میں نے یہ بات دیکھی ہے کہ انہوں نے مریم نواز کے بارے میں کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔ مریم نواز کی قیادت قبول نہ کرنے والے یا ان کی راہ میں روڑے اٹکانے والے لیڈروں سے سالہاسال کے تعلق کی پروا کیے بغیر دل سے اتار دیا (جاری ہے۔)

