کسی سے ٹریٹ مانگنے سے پہلے یہ تحریر پڑھ لیں


زندگی کی پہلی سیکنڈ ہینڈ گاڑی زمانہ طالبعلمی میں اپنی جمع پونجی سے خریدی، بہت مشکل سے مطلوبہ رقم پوری کی جس میں کچھ پیسے ادھار بھی پکڑنے پڑے۔ جن صاحب سے گاڑی لی انہوں نے پیسے لینے کے بعد گاڑی دیتے ہوئے بتایا کہ اس میں کم از کم دس سے پندرہ ہزار کا خرچہ ہے جس کے بغیر اسے چلانا رسک ہے۔ اب گاڑی تو گھر کے باہر کھڑی کر لی لیکن جو رقم ادھار دوستوں سے لی تھی اور گاڑی میں کچھ کام کروانا تھا وہ ایک بڑی پریشانی تھی۔ گھر پر کسی کو نہیں بتایا کہ سرپرائز دینا تھا۔ دوستوں کو گاڑی کا پتا چلا تو سب ٹریٹ مانگنے لگے، کچھ جو گہرے دوست تھے جنہیں صورتحال کا پتہ تھا وہ خاموش رہے لیکن زیادہ تر لوگ بضد رہے کہ یہ سب معاملات اپنی جگہ لیکن ہمیں تو ٹریٹ لازمی چاہیے یہ سب بہانے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر کہیں نہ کہیں سے پیسے پکڑ کر پہلے اس مصیبت سے جان چھڑوائی لیکن اس وقت جو خود پر گزری تو یہ معاملہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا کہ کسی کے گاڑی خریدنے، گھر بنانے، نیا موبائل لیپ ٹاپ یا کوئی بھی چیز لینے پر ٹریٹ نہیں مانگنی۔

خصوصاً جب ایک مڈل کلاس آدمی اپنی زندگی کی پہلی سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدتا ہے، ایک کاروباری رموز سے ناواقف شخص نوکری چھوڑ کر اپنا کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کرتا ہے۔ کرائے پر رہنے والا آدمی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر کوئی چھوٹا سا فلیٹ یا گھر لیتا ہے تو اسے ٹریٹ دینے کی نہیں بلکہ آپ کی طرف سے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بے روزگار جس کی کافی ماہ بعد مناسب سی نوکری لگی ہو، وہ پہلی تنخواہ پر اپنی ضرورتیں پوری کرے گا، قرضے اتارے گا یا دوستوں کی فرمائشیں پوری کرے گا؟

ایک دوست نے چائے کا ہوٹل کھولا جس کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا لیکن ہر بندہ اس کے نئے ہوٹل کی خوشی میں وہاں آ کر مفت کی چائے پی کر جاتا رہا۔ مجبوراً اس بے چارے کو اپنا کاروبار بند کرنا پڑا کہ با مروت آدمی بے غیرت بن کر کسی کو منع نہیں کر سکتا۔

یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کا کسی مہذب معاشرے میں تو شاید خیال رکھا جاتا ہو لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ چیز مفقود ہے اسی وجہ سے لوگ اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں شیئر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔

اس لمبی چوڑی تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ کسی سے ٹریٹ نہ لی جائے لیکن بس تقاضا کرتے ہوئے ان سب باتوں کا خیال رکھا جائے، ہاں کوئی اپنی مرضی سے اصرار کر کے اپنی خوشی میں شریک کرے تو سو بسم اللّٰہ لیکن خود سے ضد کرنا مناسب نہیں، ہم نے کچھ ایسے بھلے مانس لوگ بھی دیکھے ہیں جنہوں نے اس چکر میں صرف مروت میں دوسروں سے قرض لے کر اپنی انا کا پاس رکھا اور اپنی اور اپنے گھر والوں کی جائز ضرورتوں کو نظر انداز کیا۔ اس لئے کسی کو اگر دوست سمجھتے ہیں تو اس کی خاموشی کی زبان سمجھنے کی کوشش کیا کریں، اگر آپ اس کی پریشانی کو بغیر کہے سمجھیں گے تو کل کو وہ بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

Facebook Comments HS