سوات، کہاں کا سوئٹزر لینڈ؟


دنیا کا ہر ملک اور ہر خطہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، کہیں خوبصورت اونچے سرسبز پہاڑ ہیں تو کہیں خوبصورت میلوں پھیلے سمندر اور لَق و دق صحرا، کہتے ہیں کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے، کسی کو پہاڑوں میں خوبصورتی نظر آتی ہے تو کسی کو صحراؤں میں، کوئی پانی کے کنارے گھنٹوں بیٹھ کر وقت گزار سکتا ہے۔

خیر قصہ مختصر، دنیا کے ہر ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت علاقے پائے جاتے ہیں، جو ٹورازم انڈسٹری میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں، وہ انہیں سنبھال کر رکھتے ہیں، صفائی اور امن و امان کا خیال رکھا جاتا ہے، کیونکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق سیاح جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو وہ تمام مسائل پیچھے چھوڑ، پرامن صاف ستھری فضا میں پریشانیاں دماغ سے اوجھل کر کے کچھ اچھا معیاری وقت گزارنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے دیگر شمالی علاقوں کی طرح سوات بھی ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے، پہاڑ، سبزہ اونچے نیچے علاقے، خوبصورت جھرنے اور پانی، میدانی علاقوں سے آئے لوگوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں، تبھی تو وہ وہاں آ کر ہزاروں خرچ کرتے ہیں اور کچھ پل جی لیتے ہیں۔

کچھ لوگ سوات کا مقابلہ یورپ کے ایک انتہائی خوبصورت ملک سویٹزرلینڈ سے کرتے ہیں، جہاں مقامی سیاحوں سے کئی گنا زیادہ بین الاقوامی سیاح ہر وقت اکٹھے ہوتے ہیں، یہ دنیا بھر کے ٹریکرز سائیکلسٹ اور برف میں کھیلی جانے والی کھیلوں کے شیدائیوں کے لیے کسی جنت سے کم نہیں۔

مجھے سوات بہت پسند رہا ہے، اس کے مختلف علاقوں کے میں متعدد وزٹ کر چکا ہوں، یقیناً قدرتی خوبصورتی کے لحاظ سے یہ ایک خوبصورت علاقہ ہے، اور یہاں موجود بدھسٹ تہذیب کے آثار جسے گندھارا سویلائزیشن کہا جاتا ہے میری خاص توجہ کا مرکز رہے ہیں۔

پچھلے دنوں مجھے سوئٹزرلینڈ کو تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا، جہاں کے پہاڑوں، جھیلوں اور وادیوں میں نہ صرف میں نے ٹریکنگ کی بلکہ کئی دن تک میل ہا میل سائیکل پر بھی سفر کیا، اس سے پہلے سوئٹزرلینڈ کو میں نے تصویروں اور ڈاکیومنٹریز میں ہی دیکھا تھا، مجھے لگتا ہے کہ کیمرہ اس خوبصورتی کو کیپچر نہیں کر سکتا، اس حسن کو سمجھنے کے لیے اپنی آنکھوں سے دیکھنا شرط ہے۔

میں نے مقامی کلچر کو سمجھنے اور اس کی ایک جھلک محسوس کرنے کے لیے کئی قصبوں اور دیہات میں سے سائیکل پر گزرتے ہوئے قیام کیا، اس دوران میرے ذہن میں کئی سوال اٹھے کہ کیا صرف قدرتی حسن سیاحوں کو اپنی طرف بلانے کے لیے کافی ہے؟

یقیناً نہیں، جیسا کہ میں نے ذکر کیا کہ سیاح کو پرامن صاف ستھری فضا کے ساتھ ملاوٹ سے پاک کھانا اور پانی بھی درکار ہوتا ہے، ہائیجینک کنڈیشنز اور مقامی لوگوں کا سیاحوں کو لے کر سلوک لاکھوں خرچ کر کے آنے والے لوگوں کے کمفرٹ لیول کو کہیں اوپر لے جاتا ہے اور وہ وہاں بار بار آنا چاہتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے، گلیوں سڑکوں اور ٹریکس پر صفائی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان جیسے ملکوں سے آئے لوگوں کی روح تلملا اٹھتی ہے، شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس کے سامنے یا بیک یارڈ سے کوئی سائیکل یا پیدل چلنے والوں کا راستہ نہ گزر رہا ہو، جہاں لوگ ہر وقت بیک پیک پہنے، نہ جانے کہاں سے آ رہے اور کہاں جا رہے ہوتے ہیں، کسی کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں، جا بجا پھلدار درخت، پھلوں سے لدے دعوت طعام دے رہے ہوتے ہیں، لیکن مجال ہے کسی کی کہ کوئی بغیر اجازت کسی چیز کو ہاتھ بھی لگائے۔

سارے کا سارا ملک تمام بنیادی سہولیات کے ساتھ سائیکل اور پیدل چلنے والے راستوں سے جڑا ہوا ہے، ٹریفک کے قوانین اور لوگوں کی پابندی دیکھ کر عجیب سی تسکین محسوس ہوتی ہے، ہر وادی، راستہ، چوراہا، پہاڑ اور فارم سجا سنورا دلہن کی مانند محسوس ہوتا ہے، خوبصورت پہاڑی وادیاں، برف سے ڈھکے پہاڑ، بے شمار جھیلیں، سر سبز چراگاہیں، بلند و بالا آبشاریں، سفید دودھیا پانی سے بھرے دریا اور چرند پرند، واللہ اس حسن کو بنانے والے کی خوبصورتی کے گواہ ہیں۔

خیر سوئٹزرلینڈ کی خوبصورتی اور سہولیات کو لے کر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں، ہمارا موضوع اس کا سوات سے موازنہ ہے، جی ہاں دوسری طرف سوات ہے، جو ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں دہائیوں کی فسطائیت نے ایک ایسا معاشرہ جنم دیا ہے جو آہستہ آہستہ اپنے ہی بچے کھانا شروع ہو چکا ہے، اس کے ساتھ سونے پہ سہاگہ، بدبودار ہوٹل، غیر معیاری اور ملاوٹ شدہ کھانا اور بازاروں میں گندگی عام ہے۔

یاد رکھیے بین الاقوامی سیاح، جو صحیح معنوں میں بزنس مہیا کرتے ہیں اور جن کی وجہ سے ٹورازم کو انڈسٹری کا درجہ ملا، وہ صرف اونچے نیچے پہاڑ، وادیاں اور سبزہ دیکھنے نہیں آتے، ایسے پہاڑ آپ کے ہمسایہ ملک بھارت میں زیادہ اور کہیں خوبصورت پائے جاتے ہیں، جہاں مغربی سیاحوں کا جم غفیر ہوتا ہے۔

کچھ عرصہ قبل پگڑیوں والے ایک بڑے گروہ نے مذہب کے نام پر سوات پر قبضہ کر لیا، ریاست حرکت میں آئی تو مقامی لوگ ان کے دفاع میں کھڑے ہو گئے، اس وقت کے حکمرانوں نے سمجھداری سے فیصلہ کرتے ہوئے انہیں مقامی لوگوں کی خواہش کے مطابق حکومت بنانے کی پیشکش کر دی، چند مہینوں میں لوگوں کی عقل ٹھکانے آئی جب انہوں نے سڑکوں پر گشت کیے، لوگوں پر پابندیاں لگائیں، عورتوں کو سرعام چوراہوں میں کوڑے مارنے شروع کیے، لڑکیوں کے اسکول بند کر دیے، مختلف قومیتوں کے انجان پگڑیوں والوں کے لیے لوگوں سے رشتے مانگنے شروع کر دیے، سیاح بھاگ گئے، لوگوں کے پیٹ پر لات پڑی اور پیٹ سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہوتا، تب لوگ ریاست کو پکارنے لگے، ایک بڑا آپریشن ہوا اور ان کو سوات سے مار بھگایا گیا۔

بظاہر پگڑی والوں کو بھگا دیا گیا، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی پگڑیاں پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں، اس معاشرے کے ہر فرد کے اندر پگڑیوں کا فلسفہ مختلف سوراخوں سے گھس چکا ہے، جسے باہر نکالنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے، معمولی جھگڑے کے بعد ایک پاکستانی سیاح کو سوات میں بڑی عید پر توہین مذہب کے نام پر قیمہ بنا کر لاش کو جلا دیا گیا (شاید جلانے سے پہلے اس کی کچھ سانسیں باقی ہوں، کیا کہا جا سکتا ہے؟ ) جو بیچارہ خرچہ کر کے چند دن ٹھنڈے پہاڑوں کو دیکھنے آیا تھا، ان حالات میں آپ کے پہاڑی مقامات کی طرف کوئی دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا، دنیا کے پاس بہت سی آپشنز موجود ہیں۔

اپنے ملک اور اس کے علاقوں کا ان ممالک سے موازنہ بند کریں جن ملکوں نے اپنے علاقے کو دنیا بھر کے لوگوں کے لیے امن کا گہوارہ بنایا، اسے اس طور بیچا کہ ان کی آئندہ نسلیں سنور گئیں۔

خدا تو دیکھ ہی رہا ہے لیکن دنیا بھی آپ پر نظر رکھے ہوئے ہے، اس دن سے ڈریے جب دوسرے ممالک یہ سوچنا شروع کر دیں گے کہ اپنے آپ کو اس جاہل بھیڑ سے کیسے بچانا ہے۔

یہاں مجھے سکھوں کے پیشوا بابا گرو نانک کا ایک قصہ یاد آ رہا ہے، جب وہ اپنا پیغام لے کر دوسرے علاقوں میں نکلے تو ایک گاؤں میں ان پر شدید ظلم کیا گیا، انہیں پتھر مارے گئے، یہاں تک کہ انہیں اپنے سیواداروں کے ہمراہ بھاگ کر گاؤں سے باہر پناہ لینا پڑی، جاتے ہوئے انہوں نے گاؤں کی طرف مڑ کر دعا دی کہ

”سدا آباد رہو“ ،

جب وہ دوسرے گاؤں میں پہنچے تو وہاں ان کا پرجوش استقبال کیا گیا، احترام کے ساتھ ان کے پیغام کو سنا اور سراہا گیا، اس گاؤں سے نکل کر انہوں نے گاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے دعا دی کہ ”اجڑ جاؤ“

سیوادار حیران ہوئے اور پوچھا بابا جی یہ کیا ماجرا ہے؟ اچھے لوگوں کے لیے اجڑنے کی دعا اور برے لوگوں کے لیے آباد رہنے کی؟

وہ بولے یہ لوگ اچھے ہیں یہ اجڑ کر پھیلیں گے تو ہر طرف اچھائی پھیلے گی، وہ برے تھے، وہ آباد رہیں گے تو برائی ایک ہی جگہ رہے گی، تو پاکستانیو جب تک تم اپنے آپ کو راہ راست پر نہیں لاتے، جہالت کے خول نہیں توڑتے، تو پاؤں کی مٹی مت چھوڑنا

”سدا آباد رہو“ ۔

Facebook Comments HS