قانون ہاتھ میں لینے والے
میں علی پور ضلع مظفرگڑھ میں اپنے گھر کے نزدیک مدنی جامع مسجد میں حسب معمول نماز عصر پڑھنے پہنچا۔ وسیع مسجد کے برآمدے میں جماعت کے منتظر بیٹھے لوگ مڑ مڑ کے صحن کی جانب دیکھ رہے تھے۔
میں نے ساتھ بیٹھے نوجوان سے پوچھا، معاملہ کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ جی چور پکڑا ہے، جوتا چور۔ میں بولا غریب ہو گا۔ اتنے میں امام جائے نماز پہ ان کھڑے ہوئے۔
نماز کے بعد میں روز کی طرح امام قاری ظفر صاحب سے جو متین و معتدل شخصیت ہیں، سے مصافحہ کرنے گیا اور کہا قاری صاحب سنا ہے کوئی جوتا چور پکڑا ہے۔ انہوں نے جواب دیا، ہاں جی۔ میں نے کہا چھوڑ دیجیے گا، غریب ہو گا۔ انہوں نے حسب معمول مسکرا کے کہا، جی چھوڑ دیں گے۔
میں باہر نکل کے پاؤں میں اپنا جوتا چڑھانے لگا تھا کہ سامنے لیمپ پوسٹ کے گرد بیس پچیس لوگ اکٹھے دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا۔
پہلے سوچا، نکل لوں دخل نہ دوں لیکن پھر ارادہ بدل کے چھ قدم بڑھ کے نزدیک پہنچا تو دیکھا کہ ایک لمبے تڑنگے، دبلے شخص کو، سائبان باندھنے میں استعمال کی جانے والی مضبوط سفید طناب سے ہاتھ پاؤں باندھ کر پاؤں اور شکم کے گرد رسی کھمبے سے کس کے باندھ کے اسے بے بس کیا ہوا ہے۔
میں تڑپ اٹھا اور کہا کہ یہ چور ہے تو پولیس کے حوالے کرو۔ باندھنے کا آپ کو کس نے حق دیا ہے۔ کھولو اسے، ملزم ہے لیکن ہے تو انسان جانور نہیں ہے۔
ایک شخص بولا ہم کیوں کھولیں، جس نے باندھا ہے وہی کھولے گا۔ پوچھا کون ہے وہ تو سب چپ رہے۔ میں نے کہا کہ میں کھولتا ہوں اور جھک کے اس کے پاؤں کی رسی کھولنے لگا۔ پھر کسی نے کہا کھول دو بھائی۔ دو اور لوگوں نے اسے کھولنا شروع کر دیا۔
کسی نے کہا لیکن یہ تو بتائیں پھر اس کا کیا کریں؟ میں نے کہا، کھول دیں تو بات کرتے ہیں۔ ویسے وہ بے خوف چور لگتا تھا کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں وہ جوتا اٹھاتا ہوا دکھتا بتایا جا رہا تھا۔
پیچھے کھڑے ایک شخص نے کہا، اس کی وڈیو بنا کے تو ڈال دو۔ میں نے دیکھا کہ وہ شخص تھا جو ہر دوسرے روز باجماعت نماز کے بعد امام کے دعا کہنے سے پہلے آٹھ کے کہتا ہے، ”اللہ تعالیٰ نے میری، آپ کی بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی پورے کے پورے دین میں رکھی ہے۔ یہ دین آپ کی میری اور ساری دنیا کے دلوں میں کیسے آئے اس کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہے، اس محنت کے بارے میں دعا کے بعد بات ہوگی، سب بھائی بیٹھے رہیں، بہت فائدہ ہو گا“ ۔
میں نے کہا، افسوس ہے۔ اس کے ممکنہ چھوٹے بچے، بہن یا ماں کو صدمہ پہنچانے کا آپ کا کیا حق ہے۔ آپ تو تبلیغی جماعت کے ہیں۔ مسلمان ایسے کیا کرتے ہیں کیا۔ کم از کم آپ تبلیغی جماعت والوں کو تو محمد ﷺ کی عملی تصویر ہونا چاہیے۔
اس کا تبلیغی خول اتر گیا، بولا پھر آپ اس کے گھر راشن پہنچا کے آئیں گے، آپ کہہ رہے ہیں کہ غریب ہے۔ اس کا موبائل دیکھیں، اس کے گھر راشن پہنچانا آپ کی ڈیوٹی ہو گئی۔ میں نے کہا کہ اگر یہ طلب کرے تو ضرور پہنچاؤں گا۔
پھر دو ایک نے کہا جانے دیں اسے۔ بس ڈاکٹر صاحب نے ٹھیک کہا ہے حالاں کہ میرا موقف تھا کہ اس سے بات کی جائے جو میں نے کی جس کے جواب میں اس نے یہی کہا کہ کھانے کو پیسے نہیں تھے۔
اتنے میں ایک نوجوان اسے ہاتھ سے دھکیل دھکیل کے پوچھنے لگا کہ بول اوئے کیوں چوری کی؟ جب میں نے یہ کہہ کے روکا کہ تم پولیس والے نہیں ہو تو اس نے تڑخ کے کہا، میرے جوتے دو بار چرائے گئے۔ میں اسے چھوڑوں گا نہیں، وصول کروں گا۔
خیر میں نے اسے تنبیہ کر کے کہا بھاگ جاؤ، اگر آج کے بعد یہاں دکھائی دیے تو یہ نوجوان تم سے نمٹے گا۔
مغرب پڑھنے پہنچا تو ایک نرم خو اذان دینے والے شخص سے کہا کہ یہ بہت بری بات تھی کہ کسی کو باندھ دیا جائے اور وہ بھی مسجد کے صحن میں۔ ان کا نرم خو رویہ پچک کر کے رہ گیا اور جھنجھلا کے بولے آپ نے اسے مفت میں کیوں چھوڑ دیا۔
میں نے کہا کہ باندھنے والے پر حبس بے جا، دھمکانا، اذیت پہنچانے کے مقدمے بن سکتے تھے۔ میں نے نہیں چھوڑا، میرا موقف تھا اگر واقعی عادی چور ہے تو پولیس کو بلایا جائے۔
باندھنا اور وڈیو بنا کے لگانا دونوں درست نہیں تو کہنے لگے یہاں کون سا قانون ہے، پولیس والے دو ہزار لے کے جانے دیتے۔ ہم کچھ تو خدمت کر کے بھیجتے۔ آپ اس کے حق میں ہو گئے ہیں تو اسی کے لیے دلائل دیں گے۔
میں نے دیکھا مسجد کی خود ساختہ انتظامیہ میں شامل لوگوں کے منہ لٹکے ہوئے تھے اور مجھ سے خفا کہ میں نے انہیں اپنی عدالت لگانے اور سزا دینے میں خلل کیوں ڈالا۔ عشا پڑھنے گیا تو وہی متشرع مسجد نشین لوگ جو مسکرا کے جھکتے ہوئے مصافحہ کر کے میرے سلام کا جواب دیتے تھے، میرے سلام کا جواب نہیں دے رہے۔
بہت عرصہ بعد ایک بار پھر اس شدت پسند غیر منصفانہ سماج میں رہنے کو جی نہ چاہا۔


