پاکستان میں سیاسی انتہا پسندی ایک سنگین مسئلہ ہے جو ملک کی سیاسی، سماجی، اور اقتصادی استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ سیاسی انتہا پسندی کی جڑیں مختلف وجوہات میں پائی جاتی ہیں، جن میں نظریاتی اختلافات، طاقت کی سیاست، اور معاشرتی تقسیم شامل ہیں۔ اس کالم میں ہم پاکستان میں سیاسی انتہا پسندی کے اسباب، اثرات، اور اس کے ممکنہ حل پر بحث کریں گے۔

سب سے پہلے نظریاتی اختلافات: پاکستان میں سیاسی جماعتیں مختلف نظریات اور عقائد کی حامل ہیں۔ ان اختلافات کی بنیاد پر جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف سخت موقف اپناتی ہیں، جو سیاسی انتہا پسندی کا سبب بنتی ہے۔ اور یہ اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ سیاست دانوں نے  ذاتی انا کا مسئلہ ننا لیا ہے اور گالی گلوچ کا کلچر عام کر دیا ہے جس نے معاشرے کی خوبصورتی کو بہت متاثر کیا ہے لوگوں کے اندر ایک دوسرے کی عزت اور احترام ختم ہو گیا ہے۔ اور اس کو بڑھاوا دیا ہے طاقت کی سیاست نے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں اکثر اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوتی ہیں۔ یہ جماعتیں اپنے مخالفین کو نقصان پہنچانے کے لیے انتہا پسندانہ طریقے اختیار کرتی ہیں۔ مار دو قتل کر دو، آواز بند کر دو، زبان کاٹ دو اسی کیفیت پیدا کر دی ہے کہ کوئی اپنے مخالف کی بات سننے کو تیار نہیں۔ حالنکہ پہلے وقتوں میں جب تک کسی کا کوئی مخالف نہیں ہوتا تھا اس کا بھروسا نہیں کیا جاتا تھا۔

اختلافات نئی سوچ کو جنم دیتے ہیں مگر یہاں تو الٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔ رہی سہی کسر معاشرتی تقسیم نے پوری کر دی ہے۔ پاکستان میں معاشرتی تقسیم، جیسے کہ لسانی، فرقہ ورانہ، اور طبقاتی تقسیم، سیاسی انتہا پسندی کو بڑھاوا دیتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ان تقسیمات کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ چاہے جو بھی پارٹی اقتدا ر میں ہو دوسرے کو برداشت نہیں کرتی۔ اس کی جیتی جاگتی شکل ہماری آج کی سیاسی جماعتیں ہیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تھی تو اس نے اپنے مخالفین کو سکھ کا سانس نہیں لینے دیا۔

یا تو پی ایم ایل این کی قیات جیل میں تھی یا ملک سے باہر تھی، یہی حال پاکستان پیپل پارٹی کا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں سیاسی لیڈران کو انتہا پسندانہ سوچ نے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ آج ستر سال گزر جانے کو ہیں ہمارے لیڈران اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہمیں اس انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنا ہو گا۔ اگر تو ملک نے آگے بڑھنا ہے تو اس کا بہترین حل تعلیم کا فروغ ہے۔ جبکہ پاکستان میں تعلیم کا فقدان ہے۔

تعلیم کی کمی اور عوام میں سیاسی شعور کی کمی بھی سیاسی انتہا پسندی کا سبب بنتی ہے۔ عوامی شعور کی کمی کی وجہ سے لوگ سیاسی جماعتوں کے جھوٹے وعدوں، جھوٹے خواب دکھانے سے ایسی سوچ کا شکار ہو جاتے ہیں جو انتہا پسندانہ نظریات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور یہی سوچ پاکستان کی ترقی کے لیے ایک ایٹم بم سے کم نہیں ہمیں ایسی سوچ کو بدلنا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم تعلیم کو عام کریں گے ورنہ انتہا پسندانہ سوچ اس ملک کو مختلف حصوں میں بانٹ دے گی او ر معاشرے میں نفرت اور تعصب کو فروغ دیتی ہے جس سے مختلف گروہوں کے درمیان تعلقات خراب ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر اقتصادی نقصان، سیاسی انتہا پسندی کی وجہ سے ملکی معیشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ سرمایہ کار عدم استحکام کی وجہ سے ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے گھبراتے ہیں، جس سے اقتصادی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ پھر چاہے کوئی جتنی مرضی کوشش کر لے ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ سکتی کیونکہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی ملک انویسٹ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سیاسی انتہا پسندی کی وجہ سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوتی ہے۔

سیاسی جماعتیں قانون کو اپنے مفاد کے لیے توڑتی مروڑتی ہیں، جس سے عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد کم ہو جاتا ہے۔ اور جب ایک بار اعتماد چلا جاتا ہے تو پھر مشکل سے ہی واپس آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا عدالتی نظام دنیا کے ان آخری نمبروں میں آتا ہے جس کا ذکر بھی یہاں کرنا مناسب نہیں۔ اس کا ممکنہ حل تعلیمی اصلاحات ہیں کیونکہ تعلیم کو فروغ دے کر عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔ تعلیمی نظام میں ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سیاسی شعور اور حقوق و فرائض سے آگاہ کریں۔

تعلیم کے اندر سیاسی مناظرے کا کلچر عام کرنا ہو گا کیونکہ ایک سیاست دان پہلے طالب علم بنتا ہے پھر سیاست دان بنتا ہے اگر اس کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہو گی جہاں گالم گلوچ کا کلچر عام ہو گا۔ بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں ہو گی تو سیاست دان کیسے اچھائی کو آگے بڑھا سکے گا۔ لہذا مذاکرات اور مکالمہ کا کلچر عام کر کے سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات اور مکالمے کو فروغ دے کر سیاسی انتہا پسندی کو کم کیا جا سکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔ اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنایا جائے اور سیاسی جماعتوں کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے پر مجبور کیا جائے۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی سیاسی لیڈر تو کیا کسی عام انسان کو بھی نہیں ہونی چاہیے۔ معاشرے میں مذہبی اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں، جیسے کہ بین الثقافتی اور بین المذاہب مکالمے۔ یہ اقدامات معاشرتی تقسیم کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

کیونکہ سیاسی انتہا پسندی ایک پیچیدہ اور سنگین مسئلہ ہے جو ملک کی ترقی اور خوشحالی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس مسئلے کا حل اجتماعی کوششوں اور جامع حکمت عملیوں کے ذریعے ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حکومت، سیاسی جماعتیں، اور عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ملک میں امن، استحکام، اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔