ڈالر عالمی مارکیٹ میں اپنی گرفت کھو رہا ہے


ڈالر کو ماہرین اقتصادیات ”عالمی ریزرو کرنسی“ کہتے ہیں، جو تقریباً 80 سال قبل ڈالر کو حاصل ہونے والا ایک فینسی ٹائٹل ہے جس نے امریکی معیشت کے لیے بہت سے فوائد حاصل کیے ہیں۔ ڈالر کو عالمی کرنسی بنانے کا منصوبہ جو تقریباً 80 سال قبل نیو ہیمپشائر میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ بین الاقوامی کرنسی تھی۔ ایک ایسا عنوان جو اس نے کئی دہائیوں سے اپنے پاس رکھا تھا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ 1944 میں بریٹن وڈز کی بین الاقوامی مالیاتی کانفرنس میں اچانک ہوا تھا۔

بریٹن وڈز دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر عالمی رہنماؤں کا ایک اجتماع تھا۔ وہ تجارت اور مالیات کے لیے ایک بین الاقوامی نظام قائم کرنے کی کوشش کرنے اور دنیا کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھنے اور سب کے لیے خوشحالی بڑھانے میں مدد کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی تجارت کو آسان بنانے کے لیے، ایک مشترکہ کرنسی کی ضرورت ہے، جس کا معیار ہر کوئی استعمال کر سکے۔ کانفرنس کے وقت برطانوی معیشت تباہی کا شکار تھی۔

اپنی سرزمین سے باہر جنگ لڑنے کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ یہ واضح تھا کہ برطانوی پاؤنڈ سٹرلنگ وہ کرنسی نہیں ہو سکتی جس پر ہر کوئی تکیہ کر سکتا تھا۔ چنانچہ انگریزوں نے ایک نئی کرنسی پر زور دیا جو کہ صرف بین ملکی تجارت کے لیے استعمال کی جائے گی، ماہر اقتصادیات جان مینارڈ کینز، جو برطانویوں کی جانب سے بریٹن وڈز میں تھے، نے ”بینکور“ ”اورب“ ”یونیکورن“ نامی کرنسیاں بھی تجویز کیے۔ لیکن امریکی ڈالر نے بنکور، اورب اور یونیکورن کو خاک میں ملا دیا۔ امریکہ معاشی طور پر کافی مضبوط تھا۔ اس کے ذخائر میں بہت سا سونا بھی تھا، جس سے لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کی دولت کو بیک اپ کر لیا گیا ہے۔ اس نے ان فوائد کو کانفرنس میں بین الاقوامی کاروبار کی سرکاری کرنسی کے طور پر ڈالر کو مضبوط بنانے میں استعمال کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ ایک بہت بڑی طاقت بن کر عالمی افق پر ابھرا۔ روسی بلاک کے مقابلے میں امریکہ کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اسے یورپ کی حمایت حاصل تھی۔

لیکن امریکہ کی اصل طاقت اس کی کرنسی بن گئی یعنی ڈالر جسے دنیا نے ایک مستحکم عالمی کرنسی کے طور پر اپنا لیا تھا۔ جبکہ روسی روبل صرف روسی بنکوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ ڈالر کی عالمی مارکیٹوں میں گردش نے امریکہ کو وہ قوت عطا کی جو کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں تھی۔ ستر کی دہائی میں جب اسرائیل عرب جنگ ہوئی تو عرب ممالک نے تیل کو بطور جنگی ہتھیار کے استعمال کیا اور عالمی منڈی کو تیل کی فراہمی منقطع کردی جس سے امریکہ سمیت دیگر ممالک کو یہ احساس ہو گیا کہ اگر مستقبل میں بھی ایسا ہوتا رہا تو انہیں اقتصادی طور پر بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس کا حل امریکہ نے۔ ”پیٹرو ڈالر“ کی شکل میں نکالا۔ پیٹرو ڈالر امریکی ڈالر ہیں جو خام تیل کی برآمدات کے لیے بدلے جاتے ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان 1974 کے معاہدے، جو تیل کے بحران کے نتیجے میں قائم ہوئے، نے واشنگٹن کو خام تیل کی مسلسل پیداوار و فروخت اور اپنے قرضوں کے لیے مارکیٹ کو یقینی بنایا، جب کہ سعودی عرب کو فوجی امداد اور ساز و سامان حاصل ہوا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پیشرفت عالمی مالیاتی ترتیب میں ایک بڑی تبدیلی تھی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ڈالر کا غلبہ ہی ایک عالمی حقیقت ہے۔

پیٹرو ڈالر کے معاہدے، جو اصل میں 8 جون 1974 کو دستخط کیے گئے تھے، نے امریکی عالمی اقتصادی اثر و رسوخ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سال کے شروع میں، چین، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یہاں تک کہ برازیل نے دیگر کرنسیوں چینی یوآن اور روسی روبل میں تجارت کرنا شروع کی ہے۔ یہ امریکی ڈالر کی مرکزی پوزیشن کے لیے بہت کھلا چیلنج تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ اپنے 80 سالہ پیٹرو ڈالر کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی میعاد اتوار 9 جون 2024 کو ختم ہو گئی تھی۔

اصل میں 8 جون 1974 کو دستخط کیے گئے یہ معاہدہ امریکی عالمی اقتصادی اثر و رسوخ کا سنگ بنیاد تھا۔ اس معاہدے نے اقتصادی تعاون کے لیے مشترکہ کمیشن قائم کیے اور سعودی عرب کی فوجی ضروریات کو پورا کیا۔ اس وقت، امریکی حکام نے اندازہ لگایا تھا کہ اس سے سعودی عرب تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے گا اور عرب ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے گا۔ اس معاہدے میں توسیع نہ کرنے کا انتخاب کرتے ہوئے، سعودی عرب اب تیل اور دیگر سامان مختلف کرنسیوں میں فروخت کر سکتا ہے، جیسا کہ چینی RMB، یورو، ین، اور یوآن، صرف امریکی ڈالر استعمال کرنے کے بجائے لین دین کے لیے بٹ کوائن جیسی ڈیجیٹل کرنسیوں کی تلاش کے بارے میں بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ فیصلہ 1974 میں قائم پیٹرو ڈالر نظام سے ایک اہم تبدیلی کی طرف پیش رفت ہے جب امریکہ نے اپنی کرنسی کو سونے سے براہ راست جوڑنا بند کر دیا تھا۔ اس سے بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کے استعمال کے عالمی رجحان میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ مزید برآں، سعودی عرب نے پراجیکٹ ایم برج میں شمولیت اختیار کی ہے، جو کہ مرکزی اور تجارتی بینکوں کے درمیان مشترکہ ڈیجیٹل کرنسی پلیٹ فارم کی تلاش کے لیے ایک باہمی تعاون پر مبنی اقدام ہے۔

اس پروجیکٹ کا مقصد تقسیم شدہ لیجر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے فوری سرحد پار ادائیگیوں اور غیر ملکی زر مبادلہ کے لین دین کو قابل بنانا ہے۔ پروجیکٹ ایم برج، جس کا آغاز 2021 میں ہوا، اس میں دنیا بھر کے کئی ممتاز مرکزی بینک اور ادارے شامل ہیں۔ یہ حال ہی میں کم از کم قابل عمل پروڈکٹ (MVP) کے مرحلے پر پہنچ گیا ہے، جس نے نجی شعبے کی فرموں کو اختراعات تجویز کرنے اور پلیٹ فارم کو مزید ترقی دینے کے لیے کیسز کا استعمال کرنے کی دعوت دی ہے۔

اس منصوبے میں سعودی عرب کی شرکت عالمی اقتصادی حرکیات میں ایک اہم تبدیلی کے آغاز کا اشارہ دیتی ہے، حالانکہ بین الاقوامی تجارت اور مالیات کے لیے مکمل مضمرات کیا ہوں گے یہ ابھی دیکھنا باقی ہیں۔ یہ 1974 کی بات تھی، تیسری عرب اسرائیل جنگ کے ایک سال بعد جب عربوں نے اپنے تیل کے وسائل کو ہتھیار بنا لیا تھا اور تیل پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ مستقبل کے ’بلیک گولڈ‘ کے اس ہتھیار سے بچنے کے لیے، جون 1974 میں، امریکہ اور سعودی عرب نے اقتصادی تعاون کے لیے ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا۔ کمیشن کو امریکی ڈالر پر سعودی اخراجات میں سہولت فراہم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ دونوں فریقوں نے ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت خام تیل کی قیمت امریکی ڈالر کے برابر ہو گئی۔ اس نے ڈالر کو مضبوط کیا، اسے دنیا کی دیگر تمام کرنسیوں پر برتری حاصل ہوئی، جو کہ اب بھی موجودہ عالمی اقتصادی ترتیب کو تقویت دیتا ہے۔ سعودیوں نے فوجی مدد کے بدلے امریکی بانڈز میں اضافی رقوم کی سرمایہ کاری کرنے کا بھی عہد کیا۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سعودی صرف ڈالر میں تیل فروخت کریں گے، لیکن دنیا بھر میں امریکی ڈالر اس وقت معاشی ترقی کا ایک مکمل انتظام تھا۔

اس کے ساتھ ہی سعودیوں کا امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی ہوا تھا جسے اس وقت خفیہ رکھا گیا تھا، جس کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں۔ یہاں دنیا نے کروڈ آئل کا لفظ سنا جس کا مطلب امریکی ڈالر میں فروخت کیا جا رہا خام تیل تھا۔ یہ معاہدہ پچاس برس کے لیے تھا۔ اس سال اس معاہدے کی تجدید نہیں کی گئی۔ اس نے ایک طرف، ڈالر کے قریب آنے والے دوسری کرنسیوں کے بارے میں، زبردست جوش و خروش کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف، کچھ نے اسے بے نتیجہ قرار دیا ہے۔ سچ، ہمیشہ کی طرح، درمیان میں کہیں ہے۔ ڈالر کی کمی کے کچھ آثار تیل کی منڈیوں میں بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ، امریکی ڈالر جو تیل کی عالمی قیمتوں کے اہم محرکات میں سے ایک ہے اب اپنی طاقت اور اثر کھو رہا ہے۔ روایتی طور پر، ڈالر کا تیل کی قیمتوں سے منفی تعلق ہے۔ جب ڈالر بڑھتا ہے تو تیل کی درآمدی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں مانگ گر جاتی ہے، خاص طور پر ابھرتی ہوئی مارکیٹ (EM) معیشتوں میں۔ تاہم، اب زیادہ تیل کی فروخت غیر ڈالر کرنسیوں جیسے کہ آر ایم بی میں کی جا رہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ، روسی تیل اب خریداروں کی مقامی کرنسیوں میں یا ان ممالک کی کرنسیوں میں فروخت کیا جاتا ہے جنہیں روس دوست سمجھتا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ ہندوستانی ریفائنرز نے دبئی میں مقیم تاجروں کے ذریعے خریدے گئے روسی تیل کی ادائیگی درہم میں کرنا شروع کر دی ہے، جبکہ دیگر یوآن میں ایسا کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ سعودی عرب دیگر کرنسیوں میں ادائیگیوں کی قبولیت کی تلاش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، بڑے روسی اجناس پیدا کرنے والوں نے یوآن میں بانڈز جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ستمبر 2022 میں، سرکاری تیل کی کمپنی Rosneft نے بانڈز میں 10 بلین یوآن کی عوامی پیشکش کی، اس کے بعد مارچ 2023 میں 15 بلین یوآن کی دوسری قسط آئی۔ اس کے بجائے، جزوی ڈی۔ ڈالرائزیشن، جس میں آر ایم بی غیر منسلک ممالک اور چین کے تجارتی شراکت داروں کے درمیان ڈالر کے کچھ موجودہ افعال کو سنبھالتی ہے، خاص طور پر تزویراتی مسابقت کے پس منظر میں زیادہ قابل فہم ہے۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ علاقائیت کو جنم دے سکتا ہے، جس سے اثر و رسوخ کے الگ الگ اقتصادی اور مالیاتی دائرے پیدا ہو سکتے ہیں جن میں مختلف کرنسیاں اور مارکیٹیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

اس برس کے شروع سے ہی یہ کوششیں تیز ہو گئی ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کو بھی عالمی تجارت اور ریزرو کرنسی کے طور پر استعمال کیا جائے۔ گزشتہ دس برسوں میں ڈالر پر تکیہ جو پوری دنیا اسی فیصد کر رہی تھی وہ اب صرف ستاون فیصد پر آ گئی ہے۔ اگر سعودی عرب پیٹرو ڈالر کی توثیق نہیں کرتا اور بھارت اور چین کے ساتھ تیل کی خرید و فروخت کو ان ملکوں کی کرنسیوں میں شروع کر دیتا ہے تو اس سے ڈالر کی مرکزی حیثیت اور اہمیت میں بہت زیادہ کمی آ جائے گی۔

اس لیے کہ چین اور ہندوستان دنیا کے تین بڑے ممالک میں سے ہیں جو تیل خریدتے ہیں۔ امریکہ کے حالیہ برسوں میں کچھ اقدامات بھی ایسے ہیں جن کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک اب ڈالر پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ یوکرین جنگ کے بعد امریکہ نے ڈالر کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں روس کے روکے گئے ڈالروں میں سے چالیس ارب ڈالر یوکرین کو دینے کا فیصلہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ پھر دنیا میں ڈالر کی بڑھتی قیمت نے بھی کئی ممالک کو اقتصادی مشکلات کا شکار کر دیا ہے اور ان ممالک میں مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وہ ممالک جو سعودی عرب سے تیل کی خریداری کر رہے ہیں وہ اس پر بہت خوشی منا رہے ہیں کہ سعودی عرب نے پیٹرو ڈالر معاہدے کی تجدید نہیں کی ہے۔ اس لیے کہ آج سے پچاس برس پہلے اسی معاہدے نے ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اسی معاہدے سے امریکہ کو جنگی ہتھیار فروخت کر کے کھربوں ڈالرز کا فائدہ ہوا تھا۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقی وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین جنگ شروع ہے اور امریکہ اور اسرائیل کو اس جنگ کی وجہ سے تجارتی اور جنگی اخراجات کی مد میں بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

اس جنگ کی وجہ سے سمندری تجارت محدود ہو گئی ہے۔ سعودی عرب نے دو برس پہلے ہی یہ منصوبہ بنا لیا تھا کہ وہ اپنی معیشت کو تیل کی پیداوار سے ہٹا کر دیگر فائدہ مند کاموں کی طرف لے کر آئے گی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے چین اور ہندوستان کے ساتھ کھربوں ڈالرز کے منصوبہ بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ خاص کر ہندوستان میں تیل صاف کرنے کے کارخانے جن سے امریکی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگے گا اس لیے کہ سعودی عرب سے امریکہ کروڈ آئل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

دنیا جس تیزی کے ساتھ ڈیجٹل کرنسی کی طرف بڑھ رہی ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ادائیگیوں کے لیے اس کا استعمال ناگزیر ہو جائے گا۔ اور ان کوششوں میں چین اور بھارت آگے آگے ہیں اس لیے کہ ان کو تجارتی طور پر اس کا بہت زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کہیں بھی نظر نہیں آ رہا ہے۔ نہ ہی سعودی عرب پاکستان کے وسائل اور افرادی قوت کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ جس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ پاکستان دنیا میں ڈالرز پر انحصار کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جس کا تمام تر مالی اور اقتصادی دار و مدار ڈالر پر ہے۔

جبکہ دنیا میں چاہے برازیل ہو انڈیا ہو، تھائی لینڈ ہو یا دیگر ممالک وہ ممکنہ طور پر ڈالر پر اپنا انحصار کم کر رہی ہیں۔ جس سے ان کی معیشت میں دیگر ممالک کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور ان ممالک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ پاکستان میں ڈالروں کی کمی اور سٹہ بازی کی وجہ سے مہنگائی کئی سو گنا بڑھ گئی ہے اور مستقبل میں بھی اس میں اضافہ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان کا بھی تمام دار و مدار ڈالر پر ہے اور افغانستان کے لیے بھی درکار ڈالروں کا دباؤ پاکستان پر ہی رہتا ہے۔

دنیا کی ترقی اور پیش رفت سے الگ تھلگ پاکستان کو بھی اس سلسلے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح ڈالر پر اپنا انحصار کم کر سکتا ہے۔ اس کی بہترین حالیہ مثال ترکی کی ہے جس نے اب ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے معاشی اثرات وہاں مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور وہاں مہنگائی پر قابو پایا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ارجنٹائن میں بدترین کساد بازاری اور مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ڈالروں کی بلیک مارکیٹنگ، ڈالر کی قیمت پر سٹہ بازی اور ڈالروں کی سمگلنگ ہے جس کی وجہ سے یہ دونوں ممالک داخلی اور عالمی قرضوں کے دلدل میں پھنستے چلے جا رہے ہیں اور ڈالروں کی وجہ سے ان دونوں ممالک میں کرپشن بھی اپنی انتہا تک پہنچ چکی ہے اور ڈالر ہی کی وجہ سے ہر طرح کی سمگلنگ کا دھندا بھی عروج پر ہے۔

اسی طرح کی صورتحال برازیل میں بھی تھی جس سے وہ اب بتدریج نکل رہے ہیں اور ڈالر پر اپنا انحصار کم سے کم تر کر رہے ہیں۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں دیگر کرنسیوں کی ترقی کی رفتار یہی رہی جو اس وقت ہے تو چند برسوں میں دنیا کی ریزرو کرنسی کے طور پر ڈالر کا استعمال چالیس فیصد سے بھی نیچے آ سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ امریکہ کے لیے بدترین معاشی زوال لے کر آئے گا اس لیے کہ اس وقت امریکہ تاریخ کی بدترین قرضوں کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

یعنی اپنی کل معیشت سے زیادہ قرضے لے کر امریکہ نے اپنے داخلی معاشی صورتحال کو ابتر کر دیا ہے اور اگر ان پر بیرونی دباؤ بھی آتا ہے تو شاید امریکہ کی معیشت اس کو برداشت نہیں کرسکے گی۔ دنیا پل پل بدل رہی ہے۔ لیکن پاکستان مذہبی انتہاپسندی اور خانگی سیاست کے جھمیلوں میں ہی الجھا ہوا ہے۔ اسے اپنی مستقبل اور دنیا میں اپنے معاشی مقام کی کوئی فکر نہیں ہے۔ جبکہ ہمارے ہمسایہ ممالک نہ صرف ان تبدیلیوں کا ادراک کر رہے ہیں بلکہ کمال کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے نئے بننے والے معاشی دائرے میں ان کا مستقبل روشن ہو گا اور ہم مزید انحطاط کی طرف جائیں گے۔

Facebook Comments HS

4 thoughts on “ڈالر عالمی مارکیٹ میں اپنی گرفت کھو رہا ہے

  • 23/06/2024 at 8:16 صبح
    Permalink

    معیشیت اور فنانس کچھ سالوں سے میری روٹی روزی کا ذریعہ ہیں۔
    سب سے اہم بات جو عام لوگوں کے علم میں نہیں وہ یہ بھی ہے کہ جب مارکیٹ میں کسی خاص کرنسی کی مقدار گردش بڑھ جائے تو وہ کرنسی خود بخود مضبوط ہوجاتی ہے۔
    چند سال پہلے تک دنیا بھر میں خام تیل کے مہنگے ہونے سے ڈالر مہنگے ہونے پراچھا خاصہ اضافی اثرپڑجاتا تھا۔ بالخصوص کمزور کرنسیوں کے لئے جیسے پاکستانی روپیہ۔
    یہ اثر کم از کم بیس تیس فی صد تک تھا۔ باقی دنیا بھرمیں کتنا اسلحہ بکتا ہے کتنے سیاح ڈالر خریدتے بیچتے یا کتنے ممالک اپنا سرمایہ امریکہ یا اس کے بانڈز میں ڈالتے ہیں اس کا بھی خوب اثر ۔۔ ڈالر کے مضبوط ہونے پر پڑتا ہے۔
    کرونا سے کچھ پہلے تیل کی قیمتیں تیس پینتیس ڈالرپر ٹکی ہوئی تھیں یہاں روپیہ بھی 160 سے 170 میں گھوم رہا تھا۔ کرونا کے بعد جیسے جیسے تیل مہنگا ہوتا گیا۔ ڈالر کا گردشی استعمال بھی بڑھ گیا اور ڈالر خود بخود مزید مہنگا ہوتا گیا۔
    تیل کا ایک اور اثر مہینگائی پر یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک خاص اضافے کے بعد خوردنی تیل بالخصوص مکئی بھی مہنگا ہوجاتا ہے کیوں کہ متعدد ممالک میں مکئی کو خام تیل میں بلینڈ کیا جاتا ہے تاکہ تیل کی قیمت کو کم کیا جاسکے۔ یوں کئی ملین ٹن مکئی کے تیل کی کمی کھانے پینے کے لئے ہوجاتی ہے۔ یہ ایک تماشہ ہوتا ہے جس کے ساتھ کوئلہ گیس لکڑی مکئی کا تیل خود بخود مہنگا ہوجاتا ہے۔ اور مزید کچھ عرصے کے بعد مکئی کی کمی کو لوگ جو گندم باجرہ اور چاول سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ چیزیں بھی مہنگی ہوجاتی ہیں۔
    ہم اسی مرحلے سے گزررہے ہیں۔
    یہ بہت حساس معاملات ہوتے ہیں اور حکومتی لوگ اگر نااہل یا سورہے ہوں تو عوام رل اور پس جاتے ہیں۔ پاکستان میں حکومت جس پارٹی کی ہو ۔ محض فارغ لوگوں کا ٹولہ ہوتا ہے۔

    سعودیہ نے 50 سالہ معاہدہ ختم ضرور کیا ہے لیکن ڈالر میں خریدوفروخت ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بدلے میں غور کریں تو گولڈ، تانبہ اور چاندی کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں یعنی وہ ممکنہ پچیس سے تیس فی صد ڈینٹ جو تیل سے ڈالر کو ہونا تھا وہ اب کرپٹو امریکی کمپنیوں میں سرمایہ کاری اور دھاتوں سے پورا ہورہا ہے۔ یہی نہیں دنیا میں یکدم جنگیں بڑھنے کی ایک وجہ بھی یہی ہے کہ تیل بھی مہنگا رہے اور ساتھ اسلحے کی خریدوفروخت بڑھ جائے تاکہ ڈالر بدستور مضبوط رہے۔

    • 23/06/2024 at 9:45 صبح
      Permalink

      ڈالر کے کمزور ہونے سے تیل کی قیمتوں میں کمی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا البتہ یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ کن وجوہات کی وجہ سے ڈالر کمزور ہورہا ہے۔ اگر یہ کمزوری ۔۔۔ امریکی معیشیت کی خرابی کی وجہ سے ہے تو اس کا واضح مطلب ہوتا ہے کہ صنعتوں میں کم تیل استعمال ہوگا اور یوں ممکنہ کم طلب کی وجہ سے تیل کی قیمت خود بخود کم ہوجاتی ہے مگر عارضی طور پر۔

      امریکی ادارے ہر ہفتے اپنے ریفائن تیل کے اسٹوریج کے اعداد جاری کرتی ہے ان اعداد پر جہاں سٹہ کھیلا جاتا ہے وہیں یکدم تیل کی قیمتیں کم یا زیادہ بھی ہوجاتی ہیں۔ مثلا اگر ریفائنری کے اسٹوریج میں ذخائر کم ہوگئے ہوں تو یہ امریکی معیشیت کے لئے نیک شگون مانا جاتا ہے کہ صنعتوں کا کام بڑھ گیا ہے۔ جب کہ پچھلے ہفتے سے ذخائر زیادہ ہوجائے تو تیل کی کھپت کم ہوئی اور یوں امریکی صنعت پر عارضی صف ماتم بچھ جاتا ہے۔ ڈالر کمزور اور تیل بھی سستا ہوجاتا ہے۔

      اسی طرح امریکی بانڈ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اس کی کمپنیوں کی مالیت کتنی ہوگئی ہے اس سے بھی ڈالر کی مضبوطی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

      کرپٹو میں اج بھی ستر فی صد سے زائد لین یا دین ڈالر کے ذریعے ہی ہورہا ہے۔ ڈھائی ٹریلین ڈالر کی اس انڈسٹری میں ڈیڑھ سے دو ٹریلین ۔۔۔۔۔ امریکی ڈالر کا حصہ ہے۔ جتنا امریکہ نے تیل سے ممکنہ گنوایا اس سے زیادہ وہ کرپٹو اور اہم دھاتوں کی قیمتیں یا کمیشن میں لین دین سے برابر کرچکا ہے۔

      لطف صرف اس وقت آئے گا جب کرپٹو (اگر) کریش کرجائیں۔ کیوں کہ اس سے امریکی بنک اور سرمایہ کاروں کو شدید مسائل پیدا ہوجائیں گے۔

      حالیہ دنوں میں ایک اور اہم بات بھی ہوئی ہے جو ہمیں علم نہیں۔

      مصنوعی ذہانت کے بعد سے ٹیکنالوجی کے شیئر اور ان میں سرمایہ کاری بہت بڑھ گئی ہے۔ صرف تین اہم ترین امریکی کمپنیوں۔ مائیکرو سافٹ، ایپل اور این ویڈیا کی مجموعی مالیت دس ٹریلین ڈالر (کھرب نہیں) سے زیادہ ہے۔ تیل کا فرق تو پتہ بھی نہیں چلا۔ (کھرب 100 ارب یا 100 بلین کا ہوتا ہے جب کہ ٹریلین 1000 بلین یا 1000 ارب کا ہوتا ہے)۔

      اس کے بعد تین مزید کمپنیون کی مالیت ساڑھے پانچ ٹریلین ڈالر ہے۔ گوگل، ایمیزون، فیس بک۔

      ٹیسلا اور دوسری کمپنیاں بھی الگ سے دیکھی جائیں جن کی پچیس تیس ٹریلین ڈالر مالیت ہوچکی ہے۔

      اس لئے بادی النظر میں تیل کے اس معاہدے کے خاتمے سے مسلمان ممالک میں ایسے اچھل کود ہونا جیسے امریکہ کل فنا ہوجائے گا حقیقت کے قریب نہیں۔

    • 23/06/2024 at 9:59 صبح
      Permalink

      اب سب سے اہم اعداد پڑھیں۔

      یہ بات دل چسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ دنیا میں لگ بھگ 80 ملین بیرل تیل روزانہ نکالا جاتا ہے سالانہ یہ مقدار 30 ارب بیرل لگ بھگ بنتی ہے۔ اگر خام تیل 80 ڈالر بھی ہو تو دنیا بھر میں سارا سال جو تیل استعمال ہوتا ہے اگر صرف ڈالر میں خریدا جائے یعنی سعودی روسی وینزویلا عراقی ایرانی اورامریکی سب تیل تو اس کی آج مالیت محض ڈھائی ٹریلین (2400 بلین ) ڈالر سے زیادہ نہیں ہوگی۔ برکس اور روس پہلے ہی روبل یا یو آن پر جاچکے ہیں۔ تو خود اندازہ لگالیں کہ اس طلاق کا امریکہ کو کتنا فائدہ یا نقصان ہوگا۔ شاید ایک ٹریلین ڈالر اور بس !
      اور ہماری چھلانگیں ہیں کہ ختم نہیں ہورہی ہیں۔

    • 24/06/2024 at 3:28 شام
      Permalink

      ایک اور اہم نکتہ ہاتھ لگا۔
      دنیا بھر کے تیلی کا 20 فی صد امریکہ استعمال کرتا ہے یعنی ڈھائی ٹریلین ڈالر میں سے آدھا ٹریلین ڈالر کو تو وہ ڈالرمیں رکھ کر کنٹرول کرسکتا ہے۔ اسی طرح کنیڈا دنیا کا دس فی صد تیل پیدا کرتا ہے اور چھوٹا امریکہ سمجھا جاتا ہے۔ دنیا میں سب زیادہ تیل وینزویلا کم از کم 18 سے بیس فی صد ہے اور اس کا بھی ایک بڑا حصہ ڈالر میں ہی استعمال ہوتا ہے۔

      میں بہر حال نہیں سمجھتا کہ ساری دنیا اگر ڈالر استعمال کرنا بند بھی کردے تو امریکہ پر کوئی بہت بڑا اثر پڑے گا۔ وہ جنگوں میں الجھا کر یا پستول دکھا کر اپنا الو سیدھا کرلے گا۔

      یہ تمام ممالک کن میں عرب مسلم ہوں یا چین روس اور متعدد یورپی ممالک یہ سب آج بھی امریکی بانڈ اور امریکی بنکوں میں اپنا سرمایہ رکھتے ہیں۔ تو ایک ڈیڑھ ٹریلین کی کمی بیشی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

      کرپٹو کو بھی لوگ غلط نظر سے دیکھتے ہیں۔ کرپٹو خریدتے اور بیچتے وقت (کرنسی سے جب تبادلہ کرنا ہو) تو سبب سے پسندیدہ کرنسی ڈالر یا USDT مانی جاتی ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ Jazz Cash یا ؑEasy Paisa کو پاکستانی کرنسی یا بنکنگ کے لئے خطرے سمجھا جائے۔

Comments are closed.