سوات مدین واقعہ!
سوات کے سیاحتی مقام مدین میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں مشتعل عوام نے سیالکوٹ پنجاب کے آئے ہوئے ایک سیاح کو قتل کر کے جلا دیا۔ اس واقعے کی نہ تحسین کی جا سکتی ہے اور نہ اس کی وکالت کی کوئی ضرورت ہے۔ ابھی تک کوئی واضح اور ٹھوس معلومات سامنے نہیں آئی ہیں کہ اس اندوہناک واقعے کے اسباب کیا ہیں اور اس کے اصل محرکین کون ہیں۔ ابھی ابھی ایک تازہ ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں موقع پہ موجود نوجوان بڑے فخر کے ساتھ اپنا تعلق تحریک لبیک کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور آئندہ کے لیے بھی اس طرح کے سبق سکھانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ واقعے کی حقیقت جو بھی ہے لیکن ایک بات جو واضح ہے وہ یہ کہ اس طرح کے واقعات کی نہ شریعت اجازت دیتی ہے اور نہ قانون۔ ہجوم کا اپنی عدالت لگا کے کسی کو مجرم بھی ثابت کرنا اور خود سرعام سزا بھی دینا اور وہ بھی قتل کرنا اور جلانا کسی مہذب معاشرے کا چلن نہیں ہے۔
واقعہ مذکورہ ہے یا اس طرح کا کوئی اور جب بھی صدور ہوتا ہے فوری پروفیشنل قسم کے لوگ متحرک ہو جاتے ہیں اور ایک خاص اینگلز سے چیزوں کو دیکھ کر ایک خاص ڈائریکشن میں بحث و مباحثہ کو آگے بڑھانے کے مشن پہ ہوتے ہیں۔ واقعے پر دکھ سے زیادہ ان کے اپنے درد ہوتے ہیں جس کا اظہار شروع ہو جاتا ہے اور خاص کر لبرل طبقہ اور روشن خیال و متجددین کی تان مذہب یعنی دین اسلام اور اسلامی تحریکات اور دینی اداروں پہ آ کر گرتی ہے۔
یہاں پر ایک اہم سوال جو ان حضرات سے کی جاتی ہے وہ بھی اپنی جگہ حل طلب ہے۔
توہین رسالت و توہین مذہب کے مرتکبین کو سزا دینے کا اختیار ریاست کو حاصل ہے۔ سیکولرز/لبرلز/ متجددین
ریاست کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ریاست کو لوگوں کے انفرادی اور مذہبی معاملات میں دخل دینے کا کوئی اختیار حاصل ہے۔ سیکولرز/لبرلز/ متجددین
اب بندہ کیا سمجھے!
اگر آپ اسلامی ریاست کے قیام کے قائل ہی نہیں ہے تو حدود کے نفاذ کا مطالبہ کیوں اور اور کس سے؟
بات بالکل واضح ہے کہ حدود کے نفاذ کے لیے باقاعدہ حکومت کی ضرورت ہے، جس کا مطالبہ اور منشا بہرحال اسلام کا ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس حقیقت سے انکار کرنا زیادتی ہوگی کہ پاکستان کے نامور علمائے کرام، اسلامی تحریکات، دینی تنظیمات اور دینی اداروں نے ہمیشہ ایسے واقعات کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ باقاعدہ اس سے برات کا اعلان بھی کیا ہوا ہے اور وقتاً فوقتاً شرعی نکتہ نظر بھی واضح کیا ہوا ہے۔ جو مذہبی جتھے ہیں یا انتہا پسند عناصر اس کی بات الگ ہے۔ ان کے موقف، رویوں، مزاجوں، نفسیات اور طرزِ عمل کے پیچھے اور عوامل ہیں جو پوشیدہ نہیں ہیں۔ عدل کا معاملہ یہی ہو گا کہ مذہب اور پورے دینی طبقے کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اس خاص قسم کے لوگوں، مائنڈ سیٹ اور اس کے محرکین اور تخلیق کاروں کو نشانہ بنانا چاہیے۔
ہمارا اپنا کیا موقف ہو گا، موقف وہی ہے جو جمہور علماء کا ہے اور آج کے دور میں تو اس پر بڑی حد تک امت کا اجماع ہے کہ آج جب کہ منظم ریاستیں موجود ہیں جس کے آئین پر جمہور کا اتفاق ہوتا ہے اور قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کے لیے اس کے پاس وسائل اور اختیارات ہوتے ہیں، یہاں عوام کا اپنے طور پر قانون کو ہاتھ میں لینا اور سزا دینا قطعاً درست عمل نہیں اور نہ شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر ریاست میں حکومت فساق کے ہاتھوں میں ہو تب بھی خروج کے لیے کڑی شرائط عائد کی گئی ہیں جبکہ آج کے دور میں تو شاید کہیں بھی علماء اس کی حمایت میں نہیں ہیں اور پُرامن، آئینی اور قانونی اور اکثریت دیگر ذرائع کے بجائے جمہوری جدوجہد کے قائل ہیں اور طویل عرصہ سے اس پر عمل چلا آ رہا ہے کہ اسلام فساد فی الارض کی قطعاً اجازت دیتا ہی نہیں۔
حدود کا نفاذ ہے یا تعزیر کے مطابق سزاؤں کا انعقاد ہجوم کو یا کسی اور طاقتور عنصر کو نہ اس کا اختیار و اجازت ہے اور نہ وہ اس کے مجاز اور مکلف ہے، یہاں تک تو بات واضح ہے لیکن اس سے آگے بھی دیکھنا ہے کہ ”ہجوم کے انصاف“ کا تصور کیوں ابھرتا ہے اور یا بالفاظ دیگر انارکی کیوں پھیلتی ہے؟
جب قانون بنانے والے، قانون کے مطابق فیصلے کرنے والے اور قانون پر عمل درآمد کرانے والے خود ہی قانون کا مذاق اڑایا کرے تو عوام سے آخر کس چیز کی توقع کی جا سکتی ہے۔
ماورائے عدالت قتل ہی کیا قتل عام معمول ہو، جبری گمشدگیاں ہوں، انصاف برائے فروخت ہو، قانون طاقتور کے گھر کی لونڈی ہو، ملک کے اکثریت کے مذہبی جذبات، حساس معاملات اور نازک اقدار کو چھیڑنے والوں کو تحفظ کی فراہمی ہو اور آگے بڑھ کر ملک کی مقتدر قوتوں کا مذہبی، لسانی، علاقائی، مسلکی اور سیاسی جتھوں کی تخلیق، سہولت کاری، تحفظ اور استعمال ہو تو ملک اور معاشرے میں انتہا پسندی اور انارکی کو فروغ کیوں نہیں ملے گا۔
یہ معاملہ اتنا سیدھا سادہ اور سطحی نہیں ہے کہ علماء کرام کے دو لفظی مذمتی بیان اور قانون کی پٹی پڑھانے سے سدھر جائے گا۔
آئین کی مکمل بحالی اور عمل درآمد
تمام اداروں کا اپنے اپنے آئینی پوزیشن پر چلے جانا
قانون کا موثر نفاذ اور رسمی و غیر رسمی تعلیم کے ذریعے قوم کی تعلیم و تربیت، تطہیر افکار، اصلاح معاشرہ اور سب سے اہم کام اصلاح نظام اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام۔
اس گتھی کو سلجھانے کا یہی بہتر اور موثر حل ہے۔

