کس قیامت کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں (۱)

پاکستان میں مقیم ان لوگوں کے نام جو بظاہر بڑی چھوٹی اور معصوم سی فرمائش سعودیہ جانے یا وہاں رہنے والوں سے کرتے ہیں، مگر! یہ تحریر 1998 سے 2002 کے تجربات کا نتیجہ تھی اور 2002 میں لکھی گئی کتاب کیف الحال کا حصہ ہے۔ بائیس سال بعد سعودیہ میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور ضیوف الرحمن یعنی رحمان کے مہمانوں کے لئے بے انتہا سہولیات اور آسانیاں موجود ہیں۔ مگر ہم برصغیر کے لوگ، ہماری کیا بات ہے! ہماری متعدد عقیدتیں اور حرکتیں اب تک تبدیل نہیں ہوئی ہیں بلکہ شاید ان میں مزید جدیدیت آ چکی ہوگی۔ مرحوم عبید اللہ بیگ اور انور مقصود صاحب کا متفقہ مشورہ تھا کہ اس تحریر کو کبھی مت چھاپنا۔ کیوں کہ اسے پڑھنے کے بعد حجر اسود یا حطیم میں موجود معتمر کے ساتھ جب یہی کچھ ہو گا تو وہ مقام قبولیت پر ہنس پڑے گا اور وہاں دل سے کی جانے والی دعا ہنستے ہوئے کرنے سے قبول ہونے کی بجائے گناہ و ثواب کی بیلنس شیٹ میں معلق ہو جائے گی؟
٭٭٭
سعودی عرب پہنچتے ہی، داڑھی ہم نے اپنے رب کو مکھن لگانے کے لئے چکنے چہرے پر سجائی تھی اور پھر کاہلیت میں تھوڑی سی بڑھا بھی لی۔ لیکن یہ بات اوروں کو معلوم نہیں تھی۔ یار دوست اور عزیز و اقارب، جماعت کی امامت کروانے سے بچوں کے کان مین اذان دلوانے تک اور گاہے بگاہے اپنے مشکل اسلامی مسائل کا پسندیدہ مشورہ ہمارے منہ سے سننے کے لئے اکثر ہمیں خفت سے ہمکنار کرتے رہتے تھے۔ یوں ہماری کمپیوٹر سے متعلق شہرت جو آمد سعودیہ کے وقت ”وِز کڈ“ کی طرح سمجھی جاتی تھی، چند ہی مہینوں میں ایسی بدلی کہ ہم پہلے پنجابی میں ”وعظ کَڈ“ اور پھر زبان زد عام ”مولانا کمپیوٹر“ کے نام سے پہچانے جانے لگے (یہ نام سفیر محترم لیفٹننٹ جنرل درانی نے رکھا تھا) ۔ ایک دن کیپٹن آصف کے دفتر پہنچے تو دوران گفتگو ہنستے ہنستے کہنے لگے، ”یار اچھا ہوا آپ آ گئے، میں ایک مشکل میں آ گیا ہوں“ ۔
سوال تھا، ”تین عدد کفن کے لئے کتنا کپڑا درکار ہوتا ہے؟“ ۔
ہم نے ایمرجنسی میں کسی میت کی نماز جنازہ کی امامت اور غسل کا طریقہ تو رٹ رکھا تھا مگر اس مسئلہ کی طرف ہمارا ”درزی“ نہ ہونے کے سبب ذہن نہیں گیا تھا۔ ڈپلومیسی سے موضوع سخن اِدھر ادھر گھمایا، مگر سوالی کی تان گھوم پھر کر وہیں آن ٹوٹتی تھی۔ ہم نے بھی ہار ماننے کی بجائے جب آخر کاریہ پوچھا:
”بھئی اس کا دار و مدار تو مردے کے سائز اور جنس پر ہوتا ہے، تم اصل ماجرا بتاؤ؟“ ۔
پتہ چلا کہ حضرت کو بہن کی نازک مزاج سسرال سے فرمائش آئی ہے کہ اس بار چھٹیوں میں آتے ہوئے اپنے ساتھ زم زم میں بھگوئے تین عدد کفن ضرور لے آنا، اور تاکید تھی کہ خاص طور سے خیال رکھا جائے کے جاپانی لٹھا زم زم میں ہی بھگو کر لایا جائے۔
ہم نے جواباً کپتان صاحب سے پوچھا، ”آپ کپڑے کو چھوڑیں یہ بتائیں کہ تین کفن کا کپڑا لے کر آپ حرم کعبہ میں کیسے داخل ہوں گے جب کہ آپ کے ساتھ گود کی بچی اور بیوی صاحبہ بھی ہمرکاب ہوں گی؟ مزید برآں حرم کے دروازے پر موجود مطوعے اور چوکیدار اتنا کپڑا لے کر آپ کو شاید کیا یقیناً اندر گھسنے بھی نہیں دیں گے اور برہ برہ چیختے رہیں گے“ ۔ (برہ سمجھیں باہر یعنی گٹ آؤٹ کا عربی ورژن) ۔
کہنے لگے، ”میں نے آپ سے مدد مانگی ہے، میرے زخموں پر نمک پاشی مت کریں“ ۔
بے چارگی کے مارے کی بات سے ہم ناراض نہ ہوئے البتہ یہ ضرور بولے کہ بھائی اگر ایک کفن کی بات ہو تو دیسی طریقہ بتا دیتا ہوں، ادائیگی عمرہ کے بعد دوبارہ حرم آنے کا ارادہ ہو تو کرتہ یا قمیض کے نیچے چار میٹر کپڑے کو سینے پر ساری کی طرح لپیٹ لینا اور حرم میں نیچے زم زم کے پاس جا کر (اب یہ جگہ بند ہو چکی ہے) وہ کپڑا نکال کر نلکے کے نیچے زم زم سے دھو لینا، اور ہاں ساتھ میں یاد سے ایک خالی شاپر ضرور لے جانا جس میں اس زم زم نچوڑے کپڑے کو رکھ کر بعد میں واپس لے آنا، یوں حسب توفیق جتنے چاہو ایک کفن فی پھیرا کے حساب سے اسٹاک جمع کر لینا۔
حضرت کو مشورہ پسند نہ آیا کہنے لگے کوئی اور آسان نسخہ بتلائیں۔ ہم نے چائے منگوا کر دماغ کو پلائی اور ”ریاض“ میں بیٹھے بیٹھے یہ حل نکالا کہ ”بطحا“ کی مارکیٹ جا کر جاپانی لٹھے کا تھان خریدو، حاملہ الجیاد ( الجیاد ٹرانسپورٹ کمپنی) سے دس ریال کا اصلی زم زم والا کین (کنستر) خریدو۔ گھر لاکر کسی گہرے پتیلے یا بالٹی میں زم زم ڈال دینا او ر پھر اس میں ڈبو ڈبو کر جتنے چاہو زم زم میں بھیگے کفن گھر بیٹھے بنا لینا اور پاکستان جاکر بہن کی پوری سسرال کو خوشخبری سنانا کہ میں کفن کے لئے تین نہیں بلکہ آپ سب کے لئے زم زم سے بھیگا پورا تھان اٹھا لایا ہوں۔ مشورہ ”ٹیٹ“ تھا، جس کو کپتان صاحب نے بخوشی شرف قبولیت بخشا (کفن کے لئے کتنا کپڑا لگتا ہے، یہ جواب ہم نے پھر بھی نہیں دیا) ۔
ویسے کیا دل چسپ بات ہے کہ خود اہل عرب زم زم میں بھیگے کفن کے فوائد جاننے سے آج تک محروم ہیں۔ ان ہیں علم ہی نہیں کہ اسے پہننے سے منکر نکیر قبر میں سوال نہیں کر سکتے اور ساری زندگی رشوت لینے دینے والے اور زندگی حرام زدگی سے گزارنے والے صاحب قبر کو قبر یوں سنبھال لیتی ہے جیسے ماں کی گود میں اس کا بچہ محفوظ ہوتا ہے۔
سن 2001 کی بات ہے انٹرنیٹ پر پاکستان میں موجود کزن سے چیٹنگ کرتے ہماری خاتون خانہ نے پوچھا کہ تمہارے لئے سعودیہ سے کچھ لانا تو نہیں تو فرمائش آئی کہ سوچ کر کل ای میل کروں گا۔ ای میل میں لکھا تھا کہ اگر ہو سکے تو مکہ میں ”غار حرا“ اور مدینے شریف میں ”جبل احد“ جاکر، وہاں سے میرے لئے، ”ایک ایک پتھر“ لے آئیے گا۔ اب آپ خود سوچیں جبل نور پر موجود غار حرا پر صرف چڑھنے کے دوران ہر سال کئی لوگ گر گر کر مر جاتے ہیں اور راستہ ایسا ہے کہ پہاڑ کے نیچے ایک ریال کا ملنے والا پیپسی کا کین غار حرا پہنچ کر تین سے پانچ ریال کا مل رہا ہوتا ہے اور ہم شرمندہ ہیں کہ دو ڈھائی سال سعودیہ میں رہنے کے باوجود اس مقامِ مقدسہ پر جانے کی جرات نہ کر سکے تھے (ہر دفعہ فیملی ساتھ ہونے کی وجہ سے) تو کزن کے پتھر کے لئے کیا جاتے۔ بہر حال کچھ عرصہ بعد اوپر غار میں پہنچ کر یہ عقدہ کھلا کہ پچھلے چودہ سو سال میں یار لوگوں نے غار حرا کے اندر اور باہر کوئی ایسا چھوٹا موٹا ٹکڑا ہمارے (یعنی کزن) کے لئے نہیں چھوڑا تھا جسے صحیح سلامت نیچے، خود کو زندہ رکھتے ہوئے لے جایا جا سکتا ہو اور غار حرا میں موجود سب سے چھوٹا پتھر کا ٹکڑا بھی سیروں نہیں بلکہ منوں ٹنوں وزنی تھا جسے ہم نیچے لے جانا تو درکنار ہلا بھی نہیں سکتے تھے۔ کزن صاحب معذرت۔
اپنے دوسرے حج یعنی ”حاجی رضی سے الحاج رضی بننے“ کے دوران پاکستان سے آئے ایک بزرگ نظر آئے جو سخت پریشان تھے، ہمارے جاننے والے کسی صاحب نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے ان صاحب سے اپنی جان یہ کہتے ہوئے چھڑائی کہ آپ کے مسئلے کا حل اگر کوئی دے سکتا ہے تو ”ملا دو نمبری یعنی یہ صاحب“ ہی دے سکتے ہیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ پاکستان سے آتے ہوئے کسی نے اِن بڑے میاں کو قسم دیتے ہوئے کہا تھا کہ واپس آتے ہوئے، وہ اْن کے لئے خاص مکہ کے درخت کی لکڑی سے بنی مسواک ضرور لائیں۔ یہ بھی حسب روایت بہت بڑی ہامی بھر کر حج کو پہنچ گئے تھے (کہ یہ بھی کوئی کام ہے ) اور اب مجھ سے ہم کلام تھے۔
مکہ پہنچ کر یہ صاحب جس کسی مسواک والے سے قسم دے کر مکہ کی لکڑی سے بنی مسواک مانگتے تھے، وہ ہنس پڑتا تھا یا عربی میں ’اَنتَ کافر اَنتَ کافر ”پکارتے ہوئے ان کو مارنے دوڑ پڑتا۔ وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ کے دور سے قیامت تک، حرم کی مخصوص حدود میں لگے کسی بھی درخت کو کاٹنا اور جانور کا شکار کرنا شرعاً منع ہے (چاہے آپ نے احرام باندھا ہو یا عام کپڑے پہنے ہوئے ہوں) اور ظاہر ہے مکہ کا شہر اس علاقہ حرمت میں واقع ہونے کے ساتھ، اوّل تو پہاڑی ہونے کی وجہ سے درخت نہیں رکھتا اور اگر کوئی درخت یا جھاڑی کہیں مل بھی جائے تو اس کو کون کم بخت مسواک کے لئے کاٹنے کی جرات کر سکتا ہے (خاص طور پر تجارتی مقصد کے لئے)، یوں مکہ کی لکڑی سے حاصل کردہ مسواک مانگنے پر یہ صاحب مسلسل خفت سے ہم کنار ہوتے چلے آرہے تھے۔
ہم نے کہا کہ مکہ نہ سہی مدینے سے مسواک لے جائیں اور پاکستان جاکر صاحب سوال سے مسواک مکہ کے لئے معذرت کر لیجیے گا۔ کہنے لگے۔ جی حضرت یہ مسئلہ تو مجھے یہاں آ کر پتہ چلا ہے، لیکن کیا کروں کہ پچھلے سال ایک اور صاحب نے مکہ کی مسواکوں کا پورا گٹھا، ان ہی صاحب کو لا کر دیا تھا اور مجھے پتہ ہے کہ وہ میری ایک نہیں سنیں گے، اور یقین جانیں کہ اللہ میاں میرا حج قبول کریں یا نہ کریں میرے گاؤں کے اور دوسرے رشتے دار حضرات کی نظر میں میرا حاجی کہلانا، صد فی صد ناجائز ہی کہلائے گا ( یعنی ڈوب گیا ڈوب گیا، سرمایہ ڈوب گیا) ۔ بے چارگی اور مجبوری میں ان کی آنکھیں خانہ کعبہ میں چاہے نہ بھیگی ہوں اب ان میں ہمیں نمی تیرتی نظر آئی۔ ساتھ ہم نے ان کا (محبوب قادر) اور ان دوسرے صاحب کا نام (نصرت علی خان) دریافت کرتے ہوئے، اْن سے سعودی سٹائل میں ”بکرہ“ (یعنی کل) کی مہلت مانگی اور فوجی اسٹائل میں اپنے ”پروجیکٹ مسواک“ کی پلاننگ کرنے لگے۔
اگلے دن خانہ کعبہ کی مسجد الحرام میں ملنے پر ان سے کہا کہ میں نے آپ کا مسئلہ حل کر دیا ہے، لیکن آپ وعدہ کریں کہ آپ مجھ سے زیادہ سوال نہیں کریں گے اور جو میں آپ کو قسم کھا کر کہوں وہی آپ پاکستان جاکر بلا کم و کاست نصرت صاحب کو بتا دیں گے۔ منظوری ملنے پر ہم نے جیب سے کچھ مسواکیں نکالیں اور حرم میں کھڑے ہو کر ان سے کہا:
”محبوب صاحب، لیجیے، یہ مسواکیں ہیں جو قسم باللہ میں نے مکہ میں جنت المعلی کے قبرستان میں اماں خدیجہ کی قبر کے پاس موجود ایک درخت سے خاص آپ کے لئے حاصل کی ہیں اور آپ پاکستان جاکر مسواکوں کو نصرت علی خان کے حوالے کر کے انہیں میرا سلام دیجیئے گا اور کہئے گا کہ یہ کیا آپ دنیا بھر کے لوگوں سے مکہ کی مسواکیں منگواتے رہتے ہیں، آپ خود یہ مسواکیں مکہ سے لینے کب آئیں گے؟“ ۔
اب گناہ و ثواب کا سارا زور میرے اوپر، آپ جائیں اور جاکر پاکستانیوں سے اپنے قبول حج کا سرٹیفیکیٹ لیں۔
محبوب صاحب نے کچھ حیل و حجت کرنے کی کوشش کی تو میں نے ان سے کہا کہ آپ پاکستان جاکر اْن صاحب کو اصل مسئلہ مسواک کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد صرف یہ کہئے گا کہ میں اسی مخمصہ اور پریشانی میں گرفتار تھا کہ حصول مسواک مکہ کے لئے کیا کروں کہ یکایک خانہ کعبہ میں ایک باریش اور نورانی صورت والا جوان (یعنی بقلم خود ہم) کہیں سے میرے پاس آیا اور مجھے میرے نام سے پکارنے کے بعد یہ مسواکیں دیں اور کہا کہ یہ پاکستان لے جا کر نصرت کو دے دینا اور اسے میرا سلام دیتے ہوئے پچھلا پیغام، برائے آمد مکہ بھی من و عن اسی طرح دے دینا۔
ساتھ انہیں میں نے یاد دلایا کہ کیا میں نے آپ کا اور نصرت صاحب کا نام نہیں لیا تھا یا کچھ غلط بیانی کی ہے! مزید برآں میں نے انہیں گارنٹی سے کہا کہ یقین کریں یہ واقعہ سننے کے بعد وہی صاحب اور تمام گاؤں والے آپ سے زیادہ کسی اور کے حاجی ہونے کی گارنٹی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے، ممکن ہے اس واقعہ کے بعد آپ کوئی چھوٹا موٹا مقامی الیکشن بھی جیت جائیں۔ رہے نصرت صاحب تو یہ واقعہ سننے کے بعد ان کے پیر زمین پر نہیں ٹکیں گے، تین چار بار ہو سکتا ہے وہ مجھے خواب میں بھی دیکھ لیں اور لکھ لیں کہ اگلے سال وہ خود بھی حاجی کہلانے کے لئے یہاں مسواک مکہ ڈھونڈ رہے ہوں گے۔ محبوب صاحب کے چہرہ مبارک پر میں نے پہلی بار مسکراہٹ کی رمق نمودار ہوتے دیکھی۔ عمر میں مجھ سے بہت بڑے ہونے کے باوجود انہوں نے مجھے مزید گناہ گار کرتے ہوئے میرے ہاتھ کو عقیدت سے چوما اور کہنے لگے، شاہ صاحب میں بالکل یہی کروں گا۔ لیکن اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے بھی اس حصول مسواک خصوصی کے راز میں ضرور شامل کریں، لیکن میں نے ان کی ایک نہیں سنی اور وہاں سے ”زکوٹا جن“ کی طرح یہ کہتے ہوئے ”زیبی ناٹ“ ہو گیا کہ محبوب صاحب، میں نے آپ سے جنت المعلی کے درخت کے حوالہ سے جو کچھ کہا وہ حرف بحرف درست ہے!
ویسے اس راز سے دوسرا جو شخص آگاہ ہوا وہ ہماری خاتون خانہ تھیں جب کہ پہلا شخص وہ بنگالی تھا جس سے ہم نے جنت المعلی کے قبرستان کے باہر سے یہ مسواکیں ڈبل قیمت پر اس شرط کے ساتھ خریدی تھیں کہ وہ ہمارے ساتھ قبرستان کے اندر چل کر یہ مسواکیں اماں خدیجۃ الکبری رض کی قبر کے پاس لگے درخت کی کسی شاخ میں پھنسائے گا جہاں سے ہم اس کو بقلم خود حاصل کر لیں گے۔ ویسے آپ ہی بتلائیے کیا میں نے بڑے میاں سے کہیں بھی غلط بیانی کی تھی؟
ویسے اسی قسم کی ایک فرمائش کا سامنا ایک اور صاحب کو بھی کرنا پڑا جو خاص مکہ کے درخت کی لکڑی سے تیار کردہ تسبیح کسی نصرت علی خان کے لئے ڈھونڈ رہے تھے اور حاجی ہونے کے ساتھ ساتھ میر خوار ہونے کا شرف بھی حاصل کر رہے تھے۔
ویسے حرم کے مقدس علاقے میں درخت کی کٹائی ہی پر پابندی نہیں بلکہ اصلی مکہ کی کھجوروں کے حصول کے لئے بھی بہت سارے بے چارے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے، اپنی نمازیں خانہ کعبہ میں چھوڑتے ہوئے اِدھر ْادھر کسی شجر تمر کی تلاش میں بھٹک رہے ہوتے ہیں، اسی طرح جیسے کسی صحرا میں پیاسا، نخلستان اور پانی کی تلاش میں گھوم رہا ہوتا ہے۔ ویسے بعید نہیں ایک آدھ نمونہ کسی مکے کی کھجور کے درخت کے نیچے جھولی پھیلائے اس امید پر بھی کھڑا ہو کہ شاید کوئی کھجور کا دانہ خود ہی پک کر اس کی گود میں آن گرے اور اس کی موجیں لگ جائیں۔
زائرین کی ایک بڑی لاٹری اس وقت بھی لگتی ہے جب مکہ میں بارش ہو جائے اس وقت حطیم میں گھسنے والوں کی لاٹری لگی ہوئی ہوتی ہے۔ (جاری ہے)

