یوکرائن کی تعمیر نو


یوکرائن میں جنگ چھڑے ہوئے اب 850 دن ہو گئے ہیں اور جنگ بندی کے فی الحال کوئی آثار نظر نہیں آتے اسی اہم ترین موضوع کو زیر بحث لانے کے لئے سوئٹزرلینڈ میں ایک امن سوئس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ایک سو ممالک نے شرکت کی مگر روس اس میں شامل نہ ہوا۔ پھر یورپی ممالک کی ایک خصوصی بیٹھک منعقد ہوئی جس میں جرمنی کے چانسلر اولف شولز اور وین ڈر ارسلا بھی شامل تھے۔ دراصل ان کے لئے یہ تصور ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے کہ یوکرائن کی جنگ کے اثرات ان کے معاشروں اور کوچہ و بازار تک اگر آن پہنچے تو پھر اس کا علاج ہرگز ان کے پاس نہ ہو گا اور ان کی معاشی و مالی اور معاشرتی تباہی ہو جائے گی۔ ان کا خیال ہے کہ یوکرائن کی تعمیر نو کا کام فوری شروع کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

مغربی یورپ میں یہ کام بھی جنگ عظیم دوئم کے بعد والی صورتحال جیسا ہو گا اور مشرقی یورپ میں سرد جنگ کے بعد ہوا تھا نیز بلقان کی ریاستوں کا کام یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد ہوا تھا۔ اس کا تخمینہ ایک کھرب ڈالر لگایا گیا ہے جو اکیسویں صدی کا ایک عظیم ترین منصوبہ ہو گا۔ یورپی ممالک کے کنسورشیم نے 100 ارب ڈالر پہلے ہی مختص کر دیے ہیں جو یوکرائینی بحالی کے لئے کام شروع کرنے کے لئے یوکرائن کو دے دیے گئے ہیں۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ ان کے ملکی بجلی پیداواری صلاحیت سلب ہو چکی ہے اور ایسی مشینری لگانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ بجلی بحران پہ قابو پایا جا سکے جس سے 9 گیگا واٹس بجلی بنانے کی صلاحیت حاصل کی جا سکے۔ اگرچہ جنگی شعلے بڑھ رہے ہیں مگر مغربی ممالک میں یوکرائینی بحالی اور تعمیر نو کا جذبہ موجزن ہے وہ سب ایک دوسرے بازی بھی لینے کی کاوش کر رہے ہیں کیونکہ اس میں پیسہ اور بچت بھی بہت ہے۔

جی۔ 7 ممالک میں یوکرائن ہی ایجنڈا نمبر ایک تھا، بات چیت کا زیادہ محور یہی موضوع تھا۔ پھر اس میں 50 ارب ڈالر کی فوری امداد کی منظوری دی گئی جو دراصل روسی 300 ارب ڈالر کے روس ذخائر جو مغرب نے دبا رکھے ہیں اس میں سے بحالی کے نام پہ دیے گئے ہیں۔ جس طور یوکرائن کی فراخدلانہ امداد کی جا رہی ہے اس کا ظاہراً تو مطلب ناٹو میں شمولیت ہی لگتا ھے۔ پھر اس کے بعد یورپ بھی ترقی کرتے ہوئے شاید زیادہ پھیل جائےگا۔

ویسے ترقی و بحالی اور تعمیر نو کا کام جب تک ایک وسیع اور جامع جنگ بندی نہ ہو شروع کرنا ناممکن ہو گا۔

1950 میں فرانس، جرمنی، اٹلی ہالینڈ اور لکسمبرگ، بلجیئم نے مل کر یورپی اتحاد کی بنیاد رکھی تھی۔ بنیادی طور پہ وہ پھر کسی بڑی جنگ سے بچنے کی پیش بندی کر رہے تھے۔ پھر اس اتحاد میں وقت کے ساتھ ساتھ وسعت آتی گئی۔ 1999 میں ایک سنگل کرنسی یورو بن گئی، 2004 میں 10 نئے مشرقی یورپ کے ممالک کو شمولیت دی گئی۔ اب توقع ہے کہ یوکرائن کو بھی یورپی یونین میں شمولیت مل جائے گی مگر یہ مرحلہ ایک نہایت دقیق اور سست رفتار عمل سے گزر کر ہی ہو گا ایمنوئیل میکرون کے مطابق شاید اس کو شامل کرتے ہوئے کچھ دہائیاں لگ جائیں گی مگر تعمیر نو کا کام فوری شروع کرنے کے لئے سب بے تاب نظر آتے ہیں۔ اب اس کا منصوبہ فوری بحالی، درمیان مدتی اور دوررس اثرات پہ مشتمل ہو گا۔ یہ جتنا چاہیں سوچ لیں مگر بحالی کا کام اسی وقت ہی ہو گا جب تیر و تفنگ کا استعمال ختم ہو گا اور پھر تیشۂ فرہاد سے جوئے آب دریافت کرنا ہوگی۔

 

Facebook Comments HS