احمد ندیم قاسمی کا افسانہ بابا نور
احمد ندیم قاسمی بیک وقت ایک عظیم شاعر، کالم نگار اور بے حد مقبول ادیب ہیں ان کے افسانوں کی پہچان ان کا منفرد موضوع ہے۔ جیسے کہ ان کا یہ افسانہ ”بابا نور“ جس کا موضوع جنگ کے اثرات ہیں
افسانہ بابا نور کی کہانی اس دکھی باپ کی ہے جو اپنے بیٹے کی موت کا صدمہ نہیں برداشت کر سکا اور اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ وہ ہر روز ڈاک خانے اس امید کے ساتھ جاتا کہ شاید اس کے بیٹے کی کوئی چٹھی آئی ہو۔
بابا نور ایک ایسے بابا کی کہانی ہے جس کا بیٹا برما کی جنگ میں مر جاتا ہے سرکار کی طرف سے پیغام بھی آتا ہے کہ اس کا بیٹا مر گیا ہے۔ پر وہ یہ بات ذہنی طور پر قبول ہی نہیں کر سکتا کہ اس کا بیٹا نہیں رہا اولاد ماں باپ کو بہت عزیز ہوتی ہے وہ دنیا کا ہر دکھ برداشت کر سکتے ہیں پر اولاد کا دکھ نہیں اتنے مضبوط کہاں ہوتے ہیں ماں باپ۔ بابا نور بھی ایک ایسا ہی باپ ہے جس کا بیٹا چلا گیا ہے پر وہ اس کے انتظار میں گھل رہا ہے
بیٹے کی جدائی نے بابا نور کو نڈھال سا کر دیا تھا۔ وہ حسب معمول اپنے بیٹے کی چٹھی لینے کے لیے گھر سے نکل جاتا تھا اور بچے اس کا مذاق بناتے تھے۔
جب کسی کا انتظار انسان کے ذہن پر طاری ہو جاتا ہے وہ انسان اس انتظار اور خیال سے کبھی باہر نہیں آتا یہ افسانہ بھی اسی طرح کا ہے کہ جیسے بابا نور کو اپنے بیٹے کے آنے کا انتظار دس سال سے اس کو اسی جگہ پر کھڑا کیے ہوئے ہے وہ دس سال سے اپنے جگر کے ٹکڑے کے آنے کا انتظار کر رہا ہے۔
بابا نور اپنی امید کی ٹوکری لے کر مدرسے سے منشی صاحب کے پاس جاتا ہے منشی صاحب اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں پر بابا نور کو آتے دیکھ کر ان کے چہرے کے رنگ اڑ جاتے ہیں۔
بابا نور منشی صاحب کے پاس جاکر وہ ہی اپنا حسب معمول سوال کرتا ہے
”میرے بیٹے کی چٹھی تو نہیں آئی“
منشی کے انکار کرنے پر وہاں سے چپ چاپ واپس چلا جاتا ہے۔
اس پورے افسانے میں احمد ندیم قاسمی جنگ کے ان اثرات کو بیان کرتے ہیں جس کی طرف شاید ہی کبھی کسی کا دھیان گیا ہو کہ کس طرح جنگ بہت سے گھروں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مالی نقصان کی بات تو الگ ہے یہ بات ہے ذہنی اور جذباتی نقصان کی۔ اس معاشرے میں کتنے ہی ایسے بابا نور موجود ہیں جو آج تک اپنے بیٹے کے آنے کے انتظار میں ہیں۔

