پھیپھڑوں کی فولادی مشین – آئرن لنگ مشین
آج ایک ایسی مشین کے بارے معلومات بہم پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جس نے سائنسی دنیا میں انسانی خدمت کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ جس کی بدولت انسانیت کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ آج کل کی پھیپھڑوں کو آکسیجن پہچانے والی مشین وینٹی لیٹر کی ابتدائی شکل تھی جو ترقی کرتے کرتے آج کے جدید دور میں مختلف شکل میں نظر آ رہی ہے۔ پھیپھڑوں کی فولادی مشین جسے عرف عام سائنسی اصطلاح میں ”آئرن لنگ مشین“ کہا جاتا رہا۔ ایک ایسی منفی پریشر کی وینٹی لیٹر مشین جو ایک کیپسول یا خول کی مانند تھی۔ جس میں انسانی زندگی کو آکسیجن کی ضرورت اس کے جسمانی وزن کے حساب سے مہیا کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔ یہ انسانی تنفس کو برقرار رکھنے کا کام دیتی۔
فلپس ڈرنکر اور لوئیس شاہ نے مل کر اس مشین کو 1928 ء میں ایجاد کیا۔ ابتدائی طور اسے کوئلے کی زہریلی گیس سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایجاد کیا گیا۔ بعد میں پولیو کے مریضوں کے تنفس کے مسئلے میں اس کا استعمال ہوا جو اس کی وجہ شہرت بنا۔ بعد ازاں جان ہیون ایمرسن نے 1931 ء میں اس میں اختراع لاتے ہوئے اسے عام استعمال کے قابل بنا دیا۔ اس یاد کا سہرا جان مائیو کے سر جاتا ہے جس نے 1670 ء میں بیرونی منفی پریشر کے تنفسی نظام بارے نظریہ پیش کیا کہ کس طرح اس جیسی مشین بنی نوح انسانی کے کام آ سکتی ہے۔ فلپس ڈرنکر اور لوئیس شاہ کے تنفس کا ماڈل بھاری بھر کم تھا۔ جس کا متبادل 1937 ء آسٹریلیا میں ایجاد ہوا۔ جسے ہسپتالوں میں زیر استعمال لانے اور اسے جدید کرنے میں برطانوی فلن تھراپسٹ کا سرمایہ کام آیا۔
جب پولیو کا مرض 1940 ء تا، 1950 ء کے درمیان وبائی صورت اختیار کر گیا تو اسی وینٹی لیٹر کو ہسپتالوں کے وارڈوں میں زیر استعمال لایا گیا۔ جدید وینٹی لیٹر اور پولیو کی ویکسین نے مل کر اس بیماری سے بنی نوع انسان کو چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد فراہم دی۔ سائنسی ترقی نے مزید راہیں کھولتے ہوئے اس میں ہوا کے مثبت پر یشر کو زیر استعمال لاتے ہوئے نئی اختراع ڈالی۔ ویسے بنی نوع انسان منفی پریشر کو زیر استعمال لاتے ہوئے اپنے تنفس کو برقرار رکھتے ہیں۔ مارتھا للرڈ امریکی اس کرہ ارض پر لنگ مشین استعمال کرنے والی اکیلی ہی رہ گئی ہے۔ تصویر ملاحظہ فرمائیں اب یہ مشین متروک ہوتی جا رہی ہے سائنسی ترقی نے نئی قسم کی تنفس والی مشین دنیا میں متعارف کرا دی ہے۔ جس کے نتائج بھی بہتر ہیں اور یہ وزن میں بھی آئرن لنگ مشین سے کم ہے۔ اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ بہ آسانی لے جایا جا سکتا ہے۔
آج کل تنفس کی نئی مشین کے استعمال کا دورانیہ بھی کم ہو گیا ہے جب کہ آئرن لنگ مشین میں مریض کو کافی وقت بے ہوشی کے عالم میں گزارنا پڑتا تھا۔ پاول الیگزینڈر نے اس مشین میں ستر سال گزارے جو ایک ریکارڈ ہے۔ 6 سال کی عمر سے لے کر 76 سالوں تک اس کا اور اس مشین کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ رہا۔ اس کے سر کے علاوہ اس کا تمام دھڑ اس مشین کے اندر ہی رہا۔ اس مشین میں رہنے کا دورانیہ ہر مریض کی سانس کی بیماری تک منحصر تھا۔ جن مریضوں کے سینے کے ریشے کمزور پڑ گئے تھے ان کے لئے یہ مشین نہایت کارآمد تھی۔ گو کہ اس کا استعمال اتنا آسان نہ تھا لیکن مرض کے مقابلے اس کی تکلیف کچھ بھی نہ تھی۔ انسانی بنیادی ضرورت مثلاً کھانا پینا، ضرورت حاجت، غسل وغیرہ کرنا۔ ان سب کا خیال اس مشین کے ڈیزائن میں رکھا گیا۔ اس مشین کی دونوں اطراف بڑے بڑے سوراخ رکھے گئے تھے۔ جن کے بدولت ضرورت زندگی کے کار انجام دیے جاتے۔ اکثر مریض اس مشین میں تھوڑا عرصہ ہی گزارتے تھے لیکن وہ مریض جو انتہائی نگہداشت کے حامل ہوتے انہیں زیادہ عرصہ گزارنا پڑتا۔ سائنسی ترقی نے اس مشین میں جدت پیدا کی۔ اور اب جدید دور میں آسانی سے استعمال ہونے والی مشین کو ایجاد کیا گیا۔ جو بنی نوع انسان کے لئے نہایت فائدہ مند اور کارآمد بھی ہے۔ سائنسی ترقی میں ایسی مشین کا ذکر اس لئے لازم ہے تا کہ ہمیں علم ہو اس کرہ ارض میں کیسی کیسی ایجادات ہوئیں اور ان کے لئے کتنی انتھک محنت کی گئی۔ ان سائنسدانوں کی عظمت کو سلام جنہوں نے دن رات ایک کرتے ہوئے نئی ایجادات متعارف کروائیں۔ چند صدیوں سے مسلمان سائنس کے میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ انہیں دوبارہ اپنی تعلیم کو ازسر نو منظم کرنا ہو گا اور ایسا تعلیمی ماحول طلباء کو میسر کرنا ہو گا۔ جس میں ان کی صلاحیتوں کو صحیح طور پرکھا جا سکے۔ آج بھی ہمارے طلباء مختلف سائنسی علوم میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ لیکن حکومتوں کی تعلیمی پالیسی اس سلسلے میں ناکام ہو رہی ہے کہ کس طرح ان ذہین طلباء کو اپنے ہی ملکوں میں اعلٰی تعلیم کے بعد روزگار مہیا کیا جا سکے اور انہیں اچھے مواقع میسر ہوں تا کہ وہ بھی نئی ایجادات کے لئے محنت کر سکیں۔
آج ایک ایسی مشین کے بارے معلومات بہم پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جس نے سائنسی دنیا میں انسانی خدمت کے لئے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ جس کی بدولت انسانیت کو بہت فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ آج کل کی پھیپھڑوں کو آکسیجن پہچانے والی مشین وینٹی لیٹر کی ابتدائی شکل تھی جوترقی کرتے کرتے آج کے جدید دور میں مختلف شکل میں نظر آرہی ہے۔ پھیپھڑوں کی فولادی مشین جسے عرف عام سائنسی اصطلاح میں "آئرن لنگ مشین” کہا جاتا رہا۔ ایک ایسی منفی پریشر کی وینٹی لیٹر مشین جو ایک کیپسول یا خول کی مانند تھی۔ جس میں انسانی زندگی کو آکسیجن کی ضرورت اس کے جسمانی وزن کے حساب سے مہیا کرنے کا کام لیا جاتا تھا۔ یہ انسانی تنفس کو برقرار رکھنے کا کام دیتی۔
فلپس ڈرنکر اور لوئیس شاہ نے مل کر اس مشین کو 1928ء میں ایجاد کیا۔ ابتدائی طور اسے کوئلے کی زہریلی گیس سے نبرد آزما ہونے کے لئے ایجاد کیا گیا۔ بعد میں پولیو کے مریضوں کے تنفس کے مسئلے میں اس کا استعمال ہوا جو اس کی وجہ شہرت بنا۔ بعد ازاں جان ہیون ایمرسن نے 1931ء میں اس میں اختراع لاتے ہوئے اسے عام استعمال کے قابل بنا دیا۔ اس یاد کا سہرا جان مائیو کے سر جاتا ہے جس نے 1670ء میں بیرونی منفی پریشر کے تنفسی نظام بارے نظریہ پیش کیا کہ کس طرح اس جیسی مشین بنی نوح انسانی کے کام آسکتی ہے۔ فلپس ڈرنکر اور لوئیس شاہ کے تنفس کا ماڈل بھاری بھر کم تھا۔ جس کا متبادل 1937ء آسٹریلیا میں ایجاد ہوا۔ جسے ہسپتالوں میں زیر استعمال لانے اور اسے جدید کرنے میں برطانوی فلن تھراپسٹ کا سرمایہ کام آیا۔


