جین مندر، لاہور: ثقافتی وراثت اور مذہبی مرکز


لاہور میں واقعہ جین مندر جو خاص طور پر قابل ذکر ہے وہ انارکلی بازار میں اورنج لائن سٹیشن کے پاس واقعہ ہے یہ مندر اپنے وقت میں جین برادری کی مذہبی رسومات اور اجتماعات کا اہم مقام تھا۔ جین مذہب کی تاریخ میں 18 صدی کے آخر پر اور 17 صدی کے آغاز میں مغل حکمرانوں کے دور میں جین نمائندے اسلام اور جین مت کے بارے میں مختلف موضوعات پر بات کرتے تھے جیسے کہ اسلام کی سچائی جینوں کا واحد خدا پر ایمان۔ جین مصنفین نے ان مباحثوں کو سنسکرت میں لکھا جو عموماً مورخین اور سنسکرت کے علماء کو معلوم نہیں ہے

شوتامبر جین مت کی دو بڑی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔ دوسری دگمبر ہے شوتامبر جین مت کے پیروکار اپنے رہنماؤں کو لباس پہننے کی اجازت دیتے ہیں جبکہ دگمبر جین مت کے پیروکار برہنگی  پر زور دیتے ہیں۔ شوتامبر کے ایک گروہ تاپاگچھ کی بنیاد تیرہویں صدی میں اچاریہ جگت چندرا سوری نے رکھی تھی اس شاخ کو ماننے والے اپنے رہنماؤں کو آچاریہ کہتے ہیں اور ان کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں تاپاگچھ کے پیروکار جین مت کے اصولوں پر سختی سے عمل کرتے ہیں جس میں عدم تشدد، سچائی، چوری نہ کرنا پاکیزگی اور سادگی شامل ہے۔

مغلیہ دور میں تاپاگچھ کے رہنما مغل دربار میں مذہبی مباحثوں میں حصہ لیتے تھے۔ یہ مباحثے اور تاپاگچھ کے رہنماؤں کی مغلیہ دربار میں موجود گی اس بات کی مثال ہے کہ جین مت کے عقائد اور رسومات ایک اسلامی سلطنت میں کیسے زندہ رہے۔ جین رہنماؤں کو مغلوں کی طرف سے متعدد چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑا، ان میں تین اہم واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں جو شاہی ماحول میں مذہبی تنوع کو سنبھالنے کی اہم مثالیں ہیں۔

پہلا واقعہ 1580 کی دہائی میں پیش آیا جب اکبر کے وزیر، ابو الفضل نے مبینہ طور پر تاپاگچھ کے رہنما، ہیر وجے سے اسلام کی درستگی کے بارے میں سوال کیا۔ دوسرا واقعہ 1592 میں پیش آیا جب برہمنوں نے اکبر کو تاپاگچھ پر الحاد کا الزام لگانے کے لیے قائل کیا، جس پر وجے سینا، جو ایک کمیونٹی رہنما تھے اور بعد میں ہیر وجے کے جانشین بنے، نے زور دار ردعمل دیا۔ تیسرا واقعہ سترہویں صدی کے اوائل میں پیش آیا جب ایک جین راہب سدھی چندر نے بادشاہ جہانگیر کے حکم پر شادی کرنے سے انکار کر دیا، جس پر بادشاہ ناراض ہوا۔

سدھی چندر نے اس جھگڑے کی ذاتی گواہی دی، جس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آیا سنیاسی عہد جین فلسفیانہ اصولوں کے مطابق ہیں یا نہیں (بحوالہ آڈرے ٹرشکے) ۔ برطانوی نوآبادیاتی دور میں بھی جین مذہب کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانوی حکمرانوں کی پالیسیوں اور مغربی اثرات نے جین برادری کی زندگی کو تبدیل کر دیا۔ نئی تعلیمی اصلاحات کے تحت، جین لوگوں نے انگریزی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ برطانوی قوانین نے جین مذہب کی رسومات پر اثر ڈالا اور اقتصادی پالیسیوں نے جین تاجروں کو متاثر کیا۔

اس دور میں، جین برادری نے اپنی مذہبی اور ثقافتی اقدار کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات کیے۔ انہوں نے تعلیمی ادارے اور تنظیمیں بنائیں، برطانوی حکام سے مذاکرات کیے، اور سماجی خدمات میں حصہ لیا۔ برطانوی نو آبادیاتی دور میں 1940 میں جینیوں کے اصرار پر انارکلی بازار کے قریب جین مندر تعمیر کروایا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور کی جین برادری نے بھارت ہجرت کی اور مندر کو چھوڑ دیا گیا۔ پاکستان میں ابھی ہمیں صرف سندھ میں جین مذہب سے تعلق رکھنے والے چند گھرانے ملتے ہیں۔

1992 میں بابری مسجد کے واقعہ کے بعد اس مندر کو بھی عبرت کا نشان بنایا گیا۔ 2021 میں دوبارہ سے اس مندر کو تعمیر کروانے کا کام شروع ہوا اور چھ ماہ بعد یہ چھ میٹر اونچا مندر دوبارہ تعمیر ہوا تاہم اس مندر میں مورتیاں ابھی نہیں رکھی گی جین مندر میں محکمہ اوقاف کی طرف سے کام کرنے والے ایک صاحب زاہد منیر سے جب میں نے مورتیوں کو کب تک لانے کا سوال کیا تو انہوں نے کہا۔ محکمہ اوقاف نے پچھلے دو سال سے آرڈر دیا ہے وہ سندھ میں بن رہی ہیں جلد ہی پہنچ جائیں گی۔

Facebook Comments HS