!ہجوم کے ہتھے چڑھ جانا


عزیزم مراد علی نے سوال اٹھایا کہ ”ایک لمحے کے لیے تصور کریں کسی بھی انجان جگہ کوئی کوئی بھی اور کسی بھی طریقے سے آپ کو گستاخ ڈکلیئر کر دے اور ہجوم کی بھینٹ چڑھ جائیں!“

ہمارے چچا زاد بھائی کے ساتھ ہونے والا ماضی کا ایک واقعہ یاد آ گیا جو انھوں نے یوں بیان کیا کہ

تیمرگرہ ہنڈی والوں سے رقم وصول کرنے کے لئے آنا ہوا کہ یہاں ایک بابا جنہیں میں جانتا تھا کو دیکھا جو بہت بے قرار اور مضطرب دکھائی دے رہے تھے اور ہر کسی کو مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے، میں خیریت دریافت کرنے کی غرض سے ان کے قریب ہی ہوا تو بابا جی غضب ناک نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے فوری وہاں سے نکل گئے۔ یہاں سے فارغ ہو کر قریبی ہوٹل کھانا کھانے چلا گیا تو دیکھا بابا جی بھی وہی کھانا کھانے میں مصروف تھے لیکن ان کی نظریں مسلسل ادھر ادھر مرکوز تھیں اچانک مجھ پر نظر پڑتے ہی بڑی سرعت کے ساتھ وہاں سے نکلے اور ایسا نکلے کہ پیچھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا، ہوٹل والا مسلسل آوازیں دیتا رہا کہ بابا پیسے تو دیتے لیکن بابا تھے کہ قریباً بھاگے ہی جا رہے تھے۔

قصہ مختصر یہ کہ تیمرگرہ سے فارغ ہو کر میں واڑی بازار ایک جاننے والے کی دکان پر پہنچا تو حسن اتفاق سے بابا جی بھی یہی موجود تھے اور جیسا ہی مجھ پر نظر پڑی تو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے میری طرف لپکے اور ہاتھ اٹھانے کے ساتھ ہی نعرہ بھی بلند کیا کہ تیری ”ایسی کی تیسی“ 😅 اور ساتھ ہی شور مچانا شروع کر دیا کہ ”بڑا ڈاکو“ ہے اور تیمرگرہ ہی سے میرے پیچھے لگا ہوا ہے، کافی لوگ بھی اکٹھے ہو گئے لیکن اچھا یہ ہوا کہ دکاندار جاننے والا تھا اور اس نے لپک کر مجھے پکڑا اور بابا کو کہا کہ فکر مت کریں آپ کا ”ڈاکو“ میں نے قابو کر لیا۔

ہم دکان میں بیٹھ گئے اور بابا نے پوری کہانی سنائی کہ کس طرح یہ ”ڈاکو“ صبح سے میرے پیچھے لگا ہوا ہے اور کہاں کہاں مجھے لوٹنے کی کوشش کی ہے، یہ تو اچھا ہوا کہ گھر سے نکلتے وقت گھر والوں نے مجھے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ وہاں قدم قدم پر جیب تراش، ڈاکو ہوں گے اور خاص کر ہنڈی والوں کے آس پاس تو ہر دوسرہ تیسرا بندہ کھلاڑی ہو گا، اس لئے میں بڑا محتاط رہا اور اس بندے کو پہلی نظر میں پہچان ہی لیا کہ ”ماہر کھلاڑی“ ہے۔

اس پر وہاں موجود سارے لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ بابا کو غصہ چڑھا اور گالیاں بکتے ہوئے کہنے لگا کہ دانت کیوں نکال رہے ہو؟

دکاندار بھائی نے انھیں سمجھایا کہ بابا یہ بندہ تو فلاں ملک صاحب کا بھتیجا ہے۔ بابا نے حیران ہو کر معذرت کی۔

میں نے تو اللہ کا شکر ادا کیا کہ اگر یہ نعرہ مستانہ بابا تیمرگرہ میں بلند فرماتے کہ یہ ”بڑا ڈاکو“ ہے اور میرے پیچھے لگا ہوا ہے تو لوگ تو میری ہڈی پسلی ایک کر کے پورے بازار میں گھماتے کہ ایک بہت بڑے ڈاکو، جیب تراش کو پکڑ کر گویا ایک عظیم کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔

کسی صحافی کی یہ خبر نظر سے گزری تھی کہ سنیما کی ٹکٹ نہ ملنے اور نظر انداز کرنے پر بدلہ لینے یوں ترکیب سوجھی کہ منیجر کے ساتھ بلند آواز میں تو تو میں میں شروع کی اور بات ہاتھا پائی تک پہنچی اور یوں آواز بلند کی کہ اس بد بخت نے قائد اعظم کو گالیاں دی، پھر کیا تھا قطار میں کھڑے لوگ منیجر اور سینما پر ٹوٹ پڑے اور لمحوں میں سنیما کو آگ لگا کے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیا۔

چند مہینے پہلے لاہور کے علاقے اچھرہ میں عربی کیلی گرافی پر مبنی لباس پہنے ایک خاتون کو ہجوم نے گھیر لیا۔ یہ تو اچھا ہوا لاہور پولیس کی اے ایس پی شاہ بانو نے موقع پر پہنچ کر بہادری کا مظاہرہ کر کے خاتون کو بچا کر ساتھ لے گئیں وگرنہ قریب تھا کہ لوگ اس کی تکہ بوٹی کرتے۔

ہجوم کی نفسیات یہی ہے کہ وہ کسی تحقیق کے چکروں میں پڑتے ہی نہیں بس کوئی مذہبی یا قومی حساس معاملے پر ان کو اشتعال دلانا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا۔ تخریب کار اور سازشی لوگ کم ہوتے ہیں لیکن دیگر لوگ جذبات اور اشتعال کی رُو میں بہہ جاتے ہیں۔

قانون شریعت بھی اس حوالے سے واضح ہے کہ ہجوم کو خود عدالت لگانے، فیصلہ کرنے اور سزا دینے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ دیکھنے کو ملتا ہے تو ملزم کو پولیس کے حوالہ کرنا چاہیے تاکہ مکمل تحقیقات کے بعد عدالت اسے مجرم قرار دے اس کے بعد ریاست ہی مجرم کی متعلقہ سزا کو یقینی بنائے۔

اگر ایک لمحہ کے لئے یہ دلیل مان بھی لی جائے کہ ہجوم کو مذہبی اہانت کرنے والے کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے تب بھی یہ تحقیق کرنا لازمی ہے کہ واقعی ایسا کچھ ہوا بھی ہے کہ نہیں۔ محض کسی نے آواز بلند کی اور ہجوم اسی آواز کے پیچھے ہو لیا اور کسی کو بھی موت کے گھاٹ اتار کر اپنے جذبات کی تسکین کرائی۔ یہ کوئی معقول رویہ اور طرزِ عمل ہرگز نہیں اور عدل و انصاف کے بھی سراسر خلاف عمل ہے۔

یاد رہنا چاہیے کہ شریعت کی نظر میں کسی انسان کی جان بہت ہی قیمتی اور محترم ہے اور اسے ناحق قتل کرنا شدید ترین گناہ ہے۔ جہاں معاملہ انسانی جان کا ہو وہاں بہت زیادہ احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔

یہ پہلو بھی نظر انداز کرنے والا نہیں ہے کہ دنیا میں کوئی بھی قوم ہے مسلمان ہے یا غیر مسلم، تہذیب یافتہ ہے یا رجعت پسند ہر کسی کی ایک ریڈ لائن ضرور ہوتی ہے جسے کراس کر کے اسے چیلنج کرنا ہوتا ہے اور اسے اشتعال دلانا ہوتا ہے اور آگے بڑھ کر معاملہ مذہب کا ہو تو یہ بہت ہی حساس اور نازک ہوتا ہے اور اس حوالے سے کسی مفاہمت کی گنجائش نہیں ہوتی۔ محض قانون کی پٹی پڑھانے سے لوگوں کے جذبات کو ختم نہیں کرایا جاسکتا۔ عافیت اسی میں ہے کہ ہر کوئی لوگوں کے جذبات سے کھیلنے سے باز رہے۔ اور بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی حماقت اور جہالت کی جرات و جسارت سے دور رہا کرے۔

ہر دو حوالوں سے عوام کی تربیت لازمی ہے۔ معاشرے میں تعلیم اور تربیت ہی کے ذریعے اعتدال لایا جاسکتا ہے اور رواداری، برداشت، صبر و تحمل اور دینی شعائر و معاشرتی اقدار، روایات اور آداب کی آگاہی اور اس حوالے سے شعور کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔

یہ کام ریاست کا بھی ہے اور اسلامی تحریکات، دینی تنظیمات اور علماء کرام و مبلغین کا بھی ہے جسے پوری دردمندی اور اخلاص کے ساتھ سرانجام دینا چاہیے۔

Facebook Comments HS