مشتاق احمد یوسفی کی چھٹی برسی


muhammad salim gujranwala

مشتاق احمد یوسفی کے متعلق لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے، کیوں کہ انہوں نے اپنی شخصیت، اپنی پیشہ ورانہ اور ادبی زندگی کے متعلق خود ہی اپنی پہلی کتاب چراغ تلے میں اتنا کچھ بتا دیا ہے کہ اس میں کسی کو اضافہ کی ضرورت نہیں ہے۔

مشتاق احمد یوسفی اپنی تحاریر کے برعکس نہایت ہی سنجیدہ و متین اور ایک نستعلیق شخصیت تھے۔ ان کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ ایسا انسان مزاح نگار بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر ظہیر فتح پوری نے مشتاق احمد یوسفی کے متعلق کہا ہے کہ بیسویں صدی مزاح یوسفی کی صدی ہے اور ہم عہد مشتاق احمد یوسفی میں جی رہے ہیں۔ ابن انشاء نے کہا کہ یوسفی کے ہاں رشید احمد صدیقی اور پطرس بخاری کا مزاح ترقی یافتہ شکل میں پایا جاتا ہے۔ جن لوگوں نے مشتاق احمد یوسفی کو مختلف تقریبات میں اپنی تحاریر پڑھنے ہوئے دیکھا اور سنا ہے ان کو علم ہو گا کہ وہ کس قدر سنجیدہ اور متانت بھرے لہجے میں اپنی تحریر سامعین کو سناتے تھے جو ان کی مزاحیہ تحاریر سن کر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے تھے۔ ایک نقاد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کے ہاں مزاح صرف طنز و مزاح نہیں بلکہ اس میں زندگی کی حقیقت بھی پائی جاتی ہے۔ ممتاز دانش ور زہرہ نگاہ کہتی ہیں نہ یوسفی کو بھلایا جائے گا اور ان کی کتابوں کو۔ مشتاق احمد یوسفی جتنا اچھا مزاح لکھتے ہیں اس سے زیادہ اچھا اس کو پڑھتے بھی ہیں۔

وہ 4 ستمبر 1923 کو بھارتی ریاست ٹونک کے شہر جے پور کے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی عبد الکریم خاں یوسفی بلدیہ جے پور کے صدر نشین اور بعد ازاں قانون ساز اسمبلی کے رکن بن گئے۔ مشتاق احمد یوسفی نے راجپوتانہ سے بی اے کیا، آگرہ یونیورسٹی سے فلسفہ کی ڈگری لی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1950 میں پبلک سروسز کا امتحان پاس کر کے مسلم کمرشل بنک سے وابستہ ہو گئے۔ ان کو حسابات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن عملی زندگی میں وہ ایک شاندار بنک کار بن گئے اور پوری عملی زندگی بطور اعلی پائے کے بنک کار اور مزاح نگار کے بسر کردی۔ 1950 میں وہ اور ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان میں آ کر کراچی میں بس گئے، یوں پاکستان کو بیسویں صدی کا ایک اعلی درجے کا مزاح نگار حاصل ہو گیا۔

مشتاق احمد یوسفی کو ان کی ادبی اور بنک کاری کے شعبے میں اعلی خدمات کے اعزاز میں 1990 میں ستارہ امتیاز، 2002 میں ہلال امتیاز اور بنک کاری کے شعبے میں قائد اعظم میموریل اعزاز بھی دیا گیا۔ انہیں ہجرہ ادبی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ کراچی آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز میں بہت سی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے جہاں وہ شرکائے تقریب کے سامنے اپنی ہی مزاحیہ تحریریں پڑھ کر سماں باندھ دیتے۔

پاکستان میں مزاح نگاروں کی فہرست میں پطرس بخاری، شفیق الرحمن، ابن انشاء حاجی لق لق، دلاور فگار، کرنل محمد خان اور ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی فہرست میں جو مقام و مرتبہ اور مقبولیت مشتاق احمد یوسفی کو حاصل ہوئی کسی اور کے حصے میں نہ آئی۔ قارئین نے دوسرے ادباء کا مزاح پڑھا لیکن مشتاق احمد یوسفی کا مزاح پڑھا بھی ہے اور ان کی زبان سے براہ راست سنا بھی ہے۔

ان کا بنک کاری کا سفر ان کے ادبی سفر سے دس برس پہلے شروع ہوا۔ وہ 1950 میں مسلم کمرشل بنک کے ڈپٹی مینجر بنے، 1965 میں یونائیٹڈ بنک کے منیجنگ ڈائریکٹر بنے، 1977 میں الائیڈ بنک کے صدر بنے اور آخر میں پاکستان بنکنگ کونسل کے صدر نشین بنے۔ مشتاق احمد یوسفی اپنی بنکنگ ملازمت کے سلسلہ میں 11 برس تک برطانیہ میں بھی مقیم رہے۔ ان کی اس مدت ملازمت کے مختلف واقعات بھی ان کی لکھی ہوئی کتب میں جابجا ملتے ہیں۔

مشتاق احمد یوسفی کی طنز و مزاح پر مشتمل پہلی کتاب چراغ تلے 1961 میں چھپی جس میں انہوں دیباچے میں اپنا سوانحی خاکہ لکھا۔ 1961 میں خاکم بدہن منظر عام پر آئی جس کو راقم بہت دیر تک (حاکم بدھن) پڑھتا رہا تاوقت میرے اردو کے پروفیسر نے میری تصحیح کی۔ ناول کے انداز میں لکھی ہوئی ان کی تیسری کتاب زرگزشت 1976 میں شائع ہوئی جس میں ان کا مرکزی کردار مرزا صاحب تھے۔

آب گم 1990 میں اور ان کی متفرق تحاریر اور مضامین سے ترتیب دی گئی کتاب شام شعر یاراں 2014 میں آئی جو قارئین کو زیادہ پسند نہ آئی۔ مشتاق احمد یوسفی کو ان کی ان ادبی خدمات پر آدم جی ادبی انعام سے بھی نوازا گیا۔ انہیں ادبیات اکادمی پاکستان کی جانب سے کمال فن انعام سے بھی نوازا گیا۔

یوسفی صاحب کی تحاریر میں لاتعداد ایسے جملے اور فقرے ملتے ہیں جو بذاتِ خود مزاحیہ سطریں بن کر زبان زد عام اور ضرب الامثال کا روپ دھار گئی ہیں جن کو یوسفی شہ پاروں سے موسوم کیا گیا ہے۔ کوئی ان کی ساری کتابیں نہ بھی پڑھے تو صرف یہ شہ پارے پڑھ کر ان کے مزاحیہ ادبی مقام کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ شہ پارے اس گروپ، دوسرے گروپس اور سوشل میڈیا کی مختلف والز پر اکثر نمودار ہوتے رہتے ہیں اور قارئین ان سے بخوبی واقف ہیں۔

انسان جتنی بھی خوبیوں اور خصوصیات کا حامل ہو ایک دن اسے یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہوتا ہے۔ کبھی اس کا خلا پورا ہوجاتا ہے اور کبھی نہیں بھی۔ لیکن اس کی باتیں، یادیں اور اس کے فنی محاسن لوگوں کے اذہان اور کتب میں ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہتے ہیں۔ پاکستانی مزاحیہ ادب کی یہ نابغہ روزگار ہستی آج ہی کے دن 20 جون 2018 کو طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کر گئی۔ ان کی نماز جنازہ سلطان مسجد میں ادا کی گئی اور ڈی ایچ اے کراچی کے قبرستان میں تدفین ہوئی۔ اس وقت کی تمام حکومتی، ملکی اور شعر و ادب کی ممتاز شخصیات نے ان کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کی وفات کو مزاحیہ ادب کے لیے ایک عظیم نقصان قرار دیا۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “مشتاق احمد یوسفی کی چھٹی برسی

  • 26/06/2024 at 9:58 شام
    Permalink

    اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور وہ جنت میں حورو غلمان کے چہروں پر بھی اسی طرح مسکراہٹیں بکھیرتے رہیں۔ اور ہم وہ منظر بھی دیکھیں۔

    میرا مضمون یوسفی صاحب پر

    یوسفی، میں اور سیلفی

    https://www.humsub.com.pk/539541/razi-uddin-ahmad-3/

    جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے برطانیہ وہ بنکنگ کی ملازمت کے سلسلے میں نہیں گئے تھے بلکہ بینکار آغا حسن عابدی انہیں اپنے ساتھ لندن لے گئے تھے جہاں وہ بی سی سی آئی بنک کے ہیڈآفس میں ملازم ضرور تھے لیکن ان کا اصل کام اردو کی ترویج کے لئے بنائے گئے ادارے کی سربراہی تھی۔ افتخار عارف بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔

    • 20/04/2025 at 1:12 شام
      Permalink

      یوسفی بی سی سی آئئ لندن کے ہیڈ اور عابدی مالک تھے قومیانے سے پہلے عابدی یو بی ایل کے صدر تھے اور نیشنلائیزیشن کے بعد یوسفی اس کے سربراہ بنے تھے بعد میں یوسفی نیشنل بینک کے صدر بھی بنے تھے
      عابدی نے ان کی بینکنگ مہارت کی وجہ سے انھیں اپنے بینک کا سربراہ بنایا تھا ناکہ اردو کی وجہ سے
      ویسے تحریر میں اور غلطیاں موجود ہیں

Comments are closed.