اور سننے والے کو بھی درکار ہوتا ہے اک سننے والا


”لوگوں کی توقعات کبھی کبھار ایک بوجھ بن جاتی ہیں۔ مسلسل نا امیدی سے لڑتے لوگ اکثر اپنوں کی توقعات کے بوجھ سے ڈھ جاتے ہیں۔“
”یہ رات کے 2 بجتے ہی تمھیں کون سے فلسفے یاد آ جاتے ہیں“ اس نے ایک طویل ٹھنڈی سانس بھر کر پوچھا تھا۔
” کیا مطلب یہ فلسفہ ہے؟ میں فقط ایک عام سا مشاہدہ بیان کیا ہے“ اس پہلی لڑکی نے جیسے اپنا دفاع کرنا چاہا تھا۔

”ہاں پر ہر روز ایک مشاہدہ بیان کر کے اس پر گھنٹوں گفتگو کرنے کو فلسفہ ہی کہتے ہیں“
”تم کیا مجھے صرف سن بھی نہیں سکتی“ پہلی لڑکی نے اس کی بات کو یکسر نظر انداز کر کے سوال کیا تھا۔
”نہیں“ دوسری لڑکی نے شاید اپنے نظر انداز ہونے کا بدلہ کٹھور بن کر ایک لفظی جواب دے کر لیا تھا۔

یہ میرا ان کے ساتھ پہلا دن تھا مگر مجھے دوسری لڑکی کا رویہ برا لگا تھا۔ کیا ہو جاتا جو وہ اسے سن لیتی۔ اس کی آواز میں بے چینی اور درد اگر میں محسوس کر سکتی تھی تو وہ کیوں نہیں جو اس کی دوست تھی۔ مگر پہلے دن کی جھجک میں میں کچھ بھی نہ کہہ سکی۔ وقت اگے بڑھا مگر دل نے جو پہلے دن اس کی آواز میں درد محسوس کیا تھا نا وہ ہمیشہ کے لیے ہم دونوں کے درمیان ایک تعلق جوڑنے کا سبب بن گیا تھا۔ میں اسے ہمیشہ سنتی تھی اس کی ہر بات ہر فلسفہ۔ اسے عادت تھی رات 12 بجتے ہی کسی بھی موضوع پر وہ بولنے لگ جاتی تھی اور میں جس بھی حال میں ہوں اسے سنتی رہتی تھی۔ میں نے اس سے کبھی نہیں پوچھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتی ہے۔ ؟ سارا دن ہنسنے والی لڑکی رات کی تاریکی میں کیوں خود کو ڈبو لیتی ہے۔ وہ پہلی رات کی گفتگو اس کے بعد سالوں طویل راتوں میں اکٹھے جاگ کر باتیں کرنے پر ہمیشہ بھاری رہی اور اس ایک لمحے نے ہمیشہ ہمیں برابری کی سطح پر آنے سے روکے رکھا۔ ہماری دوستی کا مقصد صرف ایک تھا اس کا بولنا اور میرا سننا۔

ابھی ان برسوں کو یاد کروں تو عجیب لگتا ہے کہ یہ کیسی دوستی تھی۔ برابری کے رشتے کو ہم دو لوگ مختلف درجوں پر کھڑے نبھا رہے تھے یا شاید فقط میں نبھا رہی تھی۔ اس شاید کا جواب میں اس دن پایا تھا جس دن اس نے پہلی بار خود کو پنکھے سے لٹکایا تھا۔ وہ میرے گلے لگ کر مجھے بتا رہی تھی کہ اس کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔ دوستوں اور رشتوں کی عدم موجودگی اسے اندر سے کھوکھلا کر رہی تھی اور اس کو گلے لگائے میں سوچا تھا اس لسٹ میں اگر میں نہیں ہوں تو میرا مقام ہے کیا؟ پہلی بار میں توقعات جوڑنے اور توڑنے لگی تھی۔ میں چاہتی تھی وہ مجھے میرا مقام بتائے میں اسے دکھانا چاہتی تھی کہ پچھلے تین سال سے میں اس کا ہر لفظ سن رہی ہوں مگر وہی اس پہلی رات کا فلسفہ میں اسے اپنی توقعات کے بوجھ نیچے دبانا نہیں چاہتی تھی۔ میں اس دن کے بعد بھی اسے سنا تھا مگر چند ہفتوں بعد ہی اس کی آنکھوں کی چمک لوٹ آئی تھی۔ 12 بجے والے فلسفے ختم ہو گئے تھے اور وہ رات کی تاریکی میں ڈوبی لڑکی اب رات گئے تک مسکراتی فون کو تکتی رہتی تھی۔ میں اسے خوش دیکھ کر خوش تھی مگر میں اسے روکنا چاہتی تھی۔ میرے اندر سے ایک آواز تھی جو اسے پکارنا چاہتی تھی مگر ہمارا رشتہ تو سننے اور سنانے کا تھا اور جب اس نے سنانا ختم کر دیا تھا تو میں سنتی کیا۔

وقت نے پلٹا کھایا تھا اور میں اپنی زندگی میں گم کہیں دور نکل گی تھی مگر بھولی بھالی یادوں میں بھی اس کا عکس بہت واضح تھا۔ اور آج عرصے بعد وہ مجھے مارکیٹ میں دکھائی دی تھی۔ بے رونق آنکھیں اور پیری زدہ ہونٹ وہ پریوں جیسی لڑکی عرصے سے بیمار کوئی مریضہ لگ رہی تھی۔ میں جوش سے اسے گلے لگایا مگر اس کی آنکھوں میں پہچان کے کوئی رنگ نہ دیکھ کر میں شرمندہ ہو کر اپنا تعارف کرایا تھا اور پھر پہچاننے کے بعد جیسے اسے اپنا کوئی مسیحا واپس مل گیا تھا۔ 2 گھنٹے اسے سننے کہ بعد میں اپنا نمبر دے کر گھر آئی تھی مگر اس کا وہ نہ پہچاننا میرے ذہن پر جیسے ثبت ہو گیا تھا۔ اگلے ایک دو ہفتے تک وہ مسلسل مجھے کال کر کے اپنی رام کہانی سناتی رہی اور میں اسی ایک رات کے سحر میں اپنا سب کام چھوڑ کر اسے سنتی رہی مگر میں آج بھی چاہتی تھی کہ وہ مجھ سے بھی پوچھے میں کیسی ہوں مگر اس کی عادت کہ بس وہ بولے اور سب سنتے رہیں۔ بڑھتے دنوں کے ساتھ میں تھکنے لگی تھی اور پھر ایک دن رات کو سوتے میرے ذہن نے سوچا تھا کہ اس رات اس کا یہ سوچنا کہ وہ دوست اسے آج بھی سنے گی بھی تو ایک توقع تھی۔ اس نے کبھی واپس اس دوست سے کیوں نا پوچھا کہ اسے کیا مسئلہ تھا۔ اور پھر گزرتے دنوں کے ساتھ میں جان گئی تھی وہ لڑکی اپنے سحر میں قید ہے جہاں صرف اس کے اپنے غم اور وہ ہے اور خود کی قید میں لوگ دوسروں کو نہ جان پاتے ہیں نہ رشتے بنا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ خود اپنے اور دوسرے لوگوں کے لیے زہر ہوتے ہیں۔ میں اسے سمجھانا چاہا تھا مگر اس نے مجھے بے حس اور خود غرض کا طعنہ دے کر رابطہ ختم کر لیا تھا مگر مجھے تریاق مل چکا تھا اور وہ تھا ”علم یعنی جان جانا“

Facebook Comments HS