افسانہ

”ان گہری آنکھوں میں اس نے عرصے بعد پھر سے امید کی اک کرن دیکھی تھی۔ جانے کتنے عرصے سے وہ اسے بس بے جان ساکت آنکھوں کے ساتھ ہر روز دنیا میں چلتے پھرتے دیکھ رہا تھا۔ بیتے سالوں میں اس کی مسکراہٹ وقت کے اندھیروں تلے دفن ہو گئی تھی اور آنکھوں کی چمک کسی بھیڑیے کی ہوس کی نظر۔ وقت مرہم ہوتا ہے مگر فقط تب جب آپ اس زندان سے نکل چکے ہوں، نہیں تو یہ

Read more

کیا وقت بیت المقدس کے در و دیوار سے ٹپکتے غم کو مٹا پائے گا؟

رنگوں سے سجی، خوشبوؤں سے معطر، حسین سوچوں کا امتزاج یہ پینٹنگ جو وہ جانتا تھا کہ اس صدی کی بہترین پینٹنگ بننے والی ہے۔ سنہرے رنگ سے بڑے گول گنبد کو سجانے کے بعد اس نے پوری پینٹگ پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالی تھی مگر جانے کیوں پوری پینٹگ پر ایک اداسی کی لہر تھی۔ اچانک ہی محرابوں سے خون ٹپکنا شروع ہو گیا تھا۔ اس نے تیزی سے برش اٹھا کر سفید محرابوں کو اور سفید کرنا شروع

Read more

ایبنارمل سے نارمل کا سفر

دریچے کے پار سسکیاں گونج رہی ہیں اور باہر آسمان پر کھڑا چاند شرمندگی سے آنکھیں موندے کالے بادلوں کی آغوش میں اس سارے تماشے سے گویا خود کو چھپائے ہوئے ہے۔ آہ و بکا کرتی دیواریں اور نوحہ کناں ہوائیں بے چینی سے رات کی سیاہ چادر میں ایک اور خواب کو جذب ہوتا دیکھ رہی ہیں اور ان سب سے لاپروا ایک گڑیا دسمبر کی ساری سردی اپنی آنکھوں میں سجائے ساکت کھڑی اپنی ایبنارمل سے نارمل ہونے

Read more

اور سننے والے کو بھی درکار ہوتا ہے اک سننے والا

”لوگوں کی توقعات کبھی کبھار ایک بوجھ بن جاتی ہیں۔ مسلسل نا امیدی سے لڑتے لوگ اکثر اپنوں کی توقعات کے بوجھ سے ڈھ جاتے ہیں۔“ ”یہ رات کے 2 بجتے ہی تمھیں کون سے فلسفے یاد آ جاتے ہیں“ اس نے ایک طویل ٹھنڈی سانس بھر کر پوچھا تھا۔ ” کیا مطلب یہ فلسفہ ہے؟ میں فقط ایک عام سا مشاہدہ بیان کیا ہے“ اس پہلی لڑکی نے جیسے اپنا دفاع کرنا چاہا تھا۔ ”ہاں پر ہر روز ایک

Read more

وقت: گناہگار یا بے گناہ مجرم

وقت کو ظالم کہنے والے نے یونہی تو تاریخ کے اوراق پر اسے ثبت نہیں کیا ہو گا یقیناً مؤرخ نے ثبوت مانگا ہو گا۔ اس نے بھلا کیا ثبوت دیا ہو گا؟ دیا بھی تھا یا رشوت دے کر کام چلوایا تھا؟ ہاں شاید اس الزام کے بعد ہی وقت نے خود کو ظالم بنا کر ثبوت دیا ہو گا۔ کیا ظالم کہنے والا بھی اس کا محبوب تھا جس کو وہ جھوٹا نہیں کہلوانا چاہتا تھا اس لیے

Read more

انسانیت کا درد یہاں بیچنے کو لکھا جاتا ہے صاحب

”ہر روز ایک نیا کیس، ایک نیا واقعہ، ایک نیا ظلم آخر کب جا کر اس ملک میں کوئی قانون آئے گا؟ کتنی اور ماں، بیٹیاں، لڑکیاں ریپ کے لیے ہم درندوں کو پیش کریں گے؟ احتجاج 2 دن ہوتا ہے اور پھر ایک لمبی چپ۔ قراردادیں نہیں چاہیں اب، نہ ہی کرپشن اور چور ڈاکوؤں کی کہانیاں سننی ہیں۔ ہمیں اب تحفظ چاہیے۔ درندوں کے لیے قانون بناتے کیوں انسانیت جاگ رہی ہے؟ اگر وہ انسان ہوتے تو قانون

Read more