افسانہ
”ان گہری آنکھوں میں اس نے عرصے بعد پھر سے امید کی اک کرن دیکھی تھی۔ جانے کتنے عرصے سے وہ اسے بس بے جان ساکت آنکھوں کے ساتھ ہر روز دنیا میں چلتے پھرتے دیکھ رہا تھا۔ بیتے سالوں میں اس کی مسکراہٹ وقت کے اندھیروں تلے دفن ہو گئی تھی اور آنکھوں کی چمک کسی بھیڑیے کی ہوس کی نظر۔ وقت مرہم ہوتا ہے مگر فقط تب جب آپ اس زندان سے نکل چکے ہوں، نہیں تو یہ
Read more
