مسئلہ اقلیتوں کے مدفن کا


شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ اور مناسب انتظام اور تدارک سے صرف نظر نہ صرف سے سماجی اور معاشی مشکلات میں اضافی ہو رہا ہے۔ اور تو اور ملک بھر میں قبرستانوں کے لیے جگہوں کمی اور ناپیدگی شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ مخصوص اور بڑے بڑے نجی، سرکاری اور نیم سرکاری ٹاؤن شپس اور سوسائٹیوں کے علاوہ دیگر کھمبیوں کی تعداد میں جو چھوٹے چھوٹے نجی سوسائٹیوں میں قبرستانوں کے کیے جگہ مختص کرانے کا تو سرے سے انتظام ہی نہیں۔ جبکہ جہاں جہاں تھوڑا بہت ہے بھی اس میں اقلیتوں کا حصہ نہیں ہوتا۔ جبکہ زمینوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اس مسلے کو مزید گمبھیر بنا رکھا ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلم اکثریت خواہ میں دیہات ہوں یا کہ شہر میں وہ بھی اس مسلے سے دوچار ہیں۔ کیونکہ حکومت کی اس جانب توجہ اور منصوبہ بندی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان حالات میں اس مسلے سے سب زیادہ دوچار ملک کی اقلیتی برادری ہی ہے۔ تقسیم سے قبل انگریز سرکار کے دور میں ان کے لیے مختلف شہروں میں قبرستانوں، شمشان گھاٹوں اور دیگر مدفون کے لیے جو جو زمینیں الاٹ کی تھیں۔ بس وہی کی وہی ہی ہیں۔ جبکہ ملک کے دیگر لوگوں کی طرح ان کی آبادی بھی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اگر تھوڑا بہت کچھ کام اس پر ہوا بھی ہے تو وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

جبکہ ہر ملک کے قانون و آئین کی طرح مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتی برادری کے دیگر حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کے حق تدفین کا بھی خصوصی پاس رکھے۔

آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان 1973 کی رو سے اقلیتی برادری کو بھی نہ صرف برابری کے حقوق حاصل ہیں بلکہ حکومت ان کو ان کے ایسے حقوق کو تحفظ دینے کی بھی ذمہ دار ہے۔ اسی آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت اقلیتوں کو بھی جان و مال اور آزادی کے ویسے ہی حقوق حاصل ہیں جس طرح دیگر عام اور مسلمان شہریوں کو حاصل ہیں۔ جبکہ آرٹیکل 25 تمام شہریوں کی برابری کی اور مذہب رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک روا نہ رکھنے کی بھی ضمانت دیتی ہے۔ اسی طرح اسی آئین کا آرٹیکل 26 تو واضح اور خصوصی طور پر اقلیتوں کے مذاہب، مذہبی شناخت رسم و رواج، ثقافت کے تحفظ کی نہ صرف ذمہ داری حکومت پر ڈالتی ہے بلکہ ان کے لیے مذہبی عبادت گاہوں بشمول قبرستانوں کے قیام اور دیکھ بھال کو بھی ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔

اسی طرح Colonization of Land Act 1914 اور Punjab land revenue Act 1967 تو حکومت کو اقلیتوں کی قبرستانوں کے لیے زمین فراہم کرنے اور دیکھ بال کی بھی پابند بناتی ہے۔ یہی ہی نہیں پاکستان کی عدلیہ مسلسل اقلیتوں کو برابری کی حیثیت تسلیم کرتی رہی ہے جس میں قبرستانوں کی کے لیے زمین کی فراہمی کے احکام بھی شامل ہیں۔ ان قانونی اور آئینی حقوق کے علاوہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں بہت سے ایسے عالمی معاہدوں پر بھی بحیثیت ممبر بھی دستخط کیے ہیں۔ جو انسانی برابری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ اس وجہ سے بھی پاکستان ان بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور معاہدوں کے مطابق بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند ہے۔

پاکستان میں وزارت مذہبی اور اقلیتی امور کی خیر سے مستقل اور باقاعدہ وزارت بھی موجود ہے اور اس کے زیر سایہ محکمہ اوقاف، محکمہ متروکہ جائیداد سمیت کئی اور دیگر ادارے اور محکمے بھی ہیں۔ جو ایسے امور نمٹانے کے لیے باقاعدہ ابتداء سے لے کے سیکریٹری لیول تک کا عملہ اور دفاتر رکھتے ہیں۔

بس صرف اتنی سی بات ہے کہ وزارت مذہبی اور اقلیتی امور متعلقہ محکمہ جات کے ذریعے اقلیتوں کے تمام برادریوں کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست اور ان کے اسمبلیوں کے منتخب اراکین کے ساتھ اجلاسوں کا انعقاد کرے۔ باقاعدہ تحریری سروے کرا کے اور رپورٹ طلب کریں۔ اقلیتوں کے قبرستانوں کے لیے فراہم کردہ زمینوں اور عمارتوں کی آزادی سے قبل تاحال تعداد، گنجائش، سہولیات اور ضروریات کا اندازہ اور تخمینہ لگائے۔ اور مناسب فنڈ فراہم کر کے ان کے ایسے مشکلات دور کرے اور اپنی آئینی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرے۔

Facebook Comments HS