کیلاشی قبرستان، کیلاشی عورت اور اس کا مقام


پھر جیسے میرے اندر کھُد بُد سی ہونے لگی۔ اندر جا کر تو دیکھوں۔ پر لڑکا بھی بڑا کائیاں تھا۔ ”وہاں کوئی مقامی عورت نہیں جا سکتی۔ اور آپ کس کھیت کی مولی ہیں۔ “

میں نے پلٹ کر اس ایف۔ اے پاس گائیڈ کو دیکھا جو محاوروں کی صورت اپنی علمیت کا مظاہرہ کر رہا تھا۔ میرے بچے میں تو دو کنال کے گھر کی چھوٹی سی کیاری کی مولی بھی نہیں اور تم بات کرتے ہو کھیت کی۔ پھر یوں ہوا کہ بشالینی کے اندر کا اسرار گھسیٹ کر مجھے وہاں لے گیا۔

ادھ کھلے دروازے میں گاٹی ڈالنے کی دیر تھی کہ چار پانچ خونخوار آنکھیں چیلوں کی طرح مجھ پر جھپٹیں۔ بھاگی۔ ذرا فاصلے پر گائیڈ کی آواز سنائی دی۔ سامنے سے ایک جیپ بھی آتی نظر پڑی۔ غصیلی آواز کچھ ایسی تھی۔ آپ کو بتایا تھا کہ بشالینی ناپاک ہو جاتی ہے اور ایسی حماقت کرنے والا بھی ناپاک ہو جاتا ہے۔ صد شکر کہ جیپ ڈرامہ یونٹ والوں کی تھی جو دوپہر کا کھانا کھانے ریسٹ ہاؤس جا رہے تھے۔ میں اس میں بیٹھی اور اونچے سے بولی۔

”میاں بشالینی تو پہلے ہی ناپاکیوں سے لپی پتی ہے رہی میں تو مجھے چھوڑو۔“

ریسٹ ہاؤس میں دال چاول منتظر تھے۔ اُن سے نپٹ کر ندی پر آئی۔ خیر سے یہاں مشی خان پتھروں پر بیٹھی کپڑے دھونے کا شوق پورا کرتی تھی اور مردانہ عملہ اُسکے ساتھ چہلوں میں مصروف تھا۔

سہ پہر پھر کراکال کی نذر ہوئی۔ کالاشیوں کے گڑھ اس گاؤں کا قبرستان بھی زمانوں پرانا ہے۔ جب کالاشی بہت معصوم تھے مُردے کے ساتھ اس کے زیور کپڑے بھی تابوت میں رکھ کر اُسے سونپ آتے تھے۔ آیون کے ہوشیار اور چالاک لوگ انہیں اُڑانے میں بڑے طاق۔ اب یہ بھی سیانے ہو گئے ہیں صرف چارپائی کی ہی قربانی دیتے ہیں۔

قبرستان ٹوٹے پھوٹے لمبے لمبے تابوتوں سے اٹا پڑا تھا ان میں لیٹی ہڈیاں۔ بکھری کھوپڑیاں سال خوردہ چارپائیاں دہشت پھیلاتی تھیں۔ درختوں کے جھنڈ تلے بیٹھ کر میں ایک پل کے لیے بھی خود کو اس تابوت میں ہونے کا تصور تک کرنا نہیں چاہتی تھی۔ بلھے شاہ صوفی شاعر ہی نہ تھا انسانی نفسیات کا رمز شناس بھی تھا تبھی تو بول اٹھا تھا۔

بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور

میں بھاگی تھی۔ چوبی پُل کے پار زندگی کی رنگینی حرکت اور خدمت کے جذبے سے لبالب بھری آبشار کے نظارے سے بُجھی ہوئی آنکھوں اور احساس کو طراوت دینے کے لیے۔ کراکال وادی کو روشنی یہی آبشار دیتی ہے کہ 40 کلو واٹ کا بجلی گھر اسی کے دم قدم سے آباد ہے۔

جستھاکن نیا تعمیر شدہ تھا۔ ستونوں چھت اور دروازوں کی نئی نکور لکڑی کی عبادت گاہ میں پھیلی مخصوص سی باس ستونوں پر گھوڑے کے منہ والے مجسموں کی آرائش دیواروں پر بھیڑ بکریوں اور بے معنی سی پینٹ شدہ تصویریں سب مل جُل کر ایک پُراسرار سا ماحول پیدا کرتے تھے۔ سرما کے تہواروں کی رقص گاہ بھی یہی ہے۔

مرلی کی دلنواز دھن مجھے کشاں کشاں اخروٹ کے اُس درخت کے پاس لے گئی جس کے نیچے بڑے سے پتھر پر بیٹھی سولہ سترہ سن کی وہ مہ لقا بانسری بجا رہی تھی۔ اس کی نیلی کچور آنکھیں ہنستی تھیں۔ دور کھیتوں میں دو عورتیں چارہ کاٹتی تھیں۔ فضا پر بکھرے سناٹے کو ندی کا شور اور بانسری کی تان توڑتی تھی۔ میرا گائیڈ بھی مجھے کھوجتا یہیں آ گیا۔ گیت کے بارے میں استفسار پر وہ بولا۔

” یہ جو گا رہی ہے بہار کا گیت ہے۔ بہار کا وقت ہے گل و بلبل کا موسم ہے۔ اے میرے پھول تو میری طرف آ جا تاکہ میرا دماغ بھی تیری خوشبو سے معطر ہو جائے۔ “

”چلو کچھ کالاش کی تمدنی زندگی پر بات ہو جائے۔“
”اس معاشرے میں مرد کو اونچا مقام حاصل ہے کالاشی عورت بہت کمتر سمجھی جاتی ہے۔ “

” لو مرد تو قدیم و جدید ہر سوسائٹی ہر معاشرے ہر تہذیب میں ہمیشہ ٹُلے پر چڑھا رہا۔ بیچاری عورت زمانوں سے نیچ رہی۔ نیچے کے معاشرے میں آج بھی پاؤں کی جوتی ہے جب چاہا پہنی جب چاہا اُتار پھینکی۔“

” نر جانور کا گوشت اُسے منع ہے۔ “
”بھئی یہ نر کی تخصیص کیوں؟ ویسے گوشت تو اب ڈاکٹروں نے خوراک سے منہا کرنا شروع کر دیا ہے۔“
” ہاں کالاشی مرد عورت پر کبھی ہاتھ نہیں اُٹھاتا۔ اُسے لعن طعن نہیں کرتا۔“

”یہ ہوئی نہ قابل تعریف بات۔ میں ہنسی۔ ارے میاں نیچے تو اچھی بھلی پڑھی لکھی کماتی کھاتی عورت روئی کی طرح دھنک دی جاتی ہے۔ ذرا سی بات پر گھر سے نکل جانے کی دھمکی۔ جہیز نہ لانے پر جلائے جانے کی وارداتیں۔ بیچاری بڑی مظلوم ہے۔“

لڑکا بولے چلا جا رہا تھا۔ میری ٹانگوں میں اینٹھن تھی۔ چائے کی طلب تھی۔ سامنے والے پہاڑوں پر دھوپ کے رنگ سبزے کی آمیزش کے ساتھ اتنے بھلے لگتے تھے کہ اُنہیں خاموشی سے ایک ٹک دیکھنا بھی نہایت دلچسپ تھا۔

اور جب میں ریسٹ ہاؤس میں چائے پیتی اور اپنے آپ سے کہتی تھی کہ۔ اگر مجھے کسی مقامی فیملی کے ساتھ رہنے کا موقع مل جائے تو کتنا اچھا ہو۔

اجنبی جگہوں پر دعائیں کتنی جلدی قبول ہو جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS