پنڈت نہرو اور قائد اعظم جناح کے نام ایک طوائف کا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وحشی مسلمانوں نے اس کے پستان کاٹ کر پھینک دیے تھے۔ وہ پستان جن سے ایک ماں، کوئی ماں، ہندو ماں یا مسلمان ماں، عیساعی ماں یا یہودی ماں اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے اور انسانوں کی زندگی میں، کائنات کی وسعت میں تخلیق کا ایک نیا باب کھولتی ہے وہ دودھ بھرے پستان اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ کاٹ ڈالے گئے۔ کس نے تخلیق کے ساتھ اتنا ظلم کیا تھا۔ کسی ظالم اندھیرے نے ان کی روحوں میں یہ سیاہی بھر دی تھی۔ میں نے قرآن پڑھا ہے اور میں جانتی ہوں کہ راولپنڈی میں بیلا کے ماں باپ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اسلام نہیں تھاوہ انسانیت نہ تھی، وہ دشمنی بھی نہ تھی، وہ انتقال بھی نہ تھا، وہ ایک ایسی سعادت، بے رحمی بزدلی اور شیطانیت تھی جو تاریخ کے سینے سے پھوٹتی ہے اور نور کی آخری کرن کو بھی داغدار کر جاتی ہے۔

بیلا اب میرے پاس ہے، مجھ سے پہلے وہ داڑھی والے مسلمان دلال کے پاس تھی۔ بیلا کی عمر بارہ سال سے زیادہ نہیں تھی جب وہ چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی۔ اپنے گھر میں ہوتی تو آج پانچویں جماعت میں داخل ہو رہی ہوتی۔ پھر بڑی ہوتی تو اس کے ماں باپ اس کا بیاہ کسی شریف گھرانے کے غریب سے لڑکے سے کر دیتے، وہ اپنا چھوٹا سا گھر بساتی، اپنے خاوند سے، اپنے ننھے ننھے بچوں سے، اپنی گھریلو زندگی کی چھوٹی چھوٹی خشیوں سے، لیکن اس نازک کلی کو بے وقت خزاں آ گئی۔

اب بیلا بارہ برس کی نہیں معلوم ہوتی۔ اس کی عمر تھوڑی ہے لیکن اس کی زندگی بہت بوڑھی ہے۔ اس کی آنکھوں میں جو ڈر ہے، انسانیت کی جو تلخی ہے یا اس کا جو لہو ہے، موت کی جو پیاس ہے قائداعظم صاحب شاید اگر آپ اس کو دیکھ سکیں تو شاید اس کا اندازہ کر سکیں۔ ان بے آسرا آنکھوں کی گہرائیوں میں اتر سکیں۔ آپ تو شریف آدمی ہیں۔ آپ نے شریف گھرانے کی معصوم لڑکیوں کو دیکھا ہو گا، ہندو لڑکیوں کو، مسلمان لڑکیوں کو، شاید آپ سمجھ جاتے کے معصومیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ ساری انسانیت کی امانت ہے، ساری دنیا کی میراث ہے جو اسے مٹاتاہے اسے دنیا کے کسی مذہب کا کوئی خدامعاف نہیں کر سکتا۔

بتول اور بیلا دونوں سگی بہنوں کی طرح میرے ہاں رہتی ہیں۔ بتول اور بیلا سگی بہنیں نہیں ہیں۔ بتول مسلمان لڑکی ہے، بیلا نے ہندو گھر میں جنم لیا۔ آج دونوں فارس روڈ پر ایک رنڈی کے گھر میں بیٹھی ہیں۔ اگر بیلا راولپنڈی سے آئی ہے تو بتول جالندھر کے ایک گاؤں کھیم کرن کے ایک پٹھان کی بیٹی ہے۔ بتول کے باپ کی سات بیٹیاں تھیں، تین شادی شدہ اور چار کنواریاں، بتول کا باپ کھیم کرن میں ایک معمولی کاشتکار تھا۔ غریب پٹھان لیکن غیور پٹھان جو دیوں سے کھیم کرن میں آ کے بس گیاتھا۔

جاٹوں کے اس گاؤں میں یہی تین چار گھر پٹھانوں کے تھے۔ یہ لوگ جس امن و آتشی سے رہتے تھے شاید اس کا اندازہ پنڈت جی آپ کواس امر سے ہوگاکہ مسلمان ہونے پر بھی ان لوگوں کو اپنے گاؤں میں مسجد بنانے کی اجازت نہ تھی۔ یہ لوگ گھر میں چپ چاپ اپنی نماز ادا کرتے، صدیوں سے جب سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے عنان حکومت سنبھالی تھی کسی مومن نے اس گاؤں میں اذان نہ دی تھی۔ ان کا دل عرفان سے روشن تھا لیکن دنیاوی مجبوریاں اس قدر شدید تھیں اور پھر رواداری کا خیال اس قدر غالب تھا کہ لب وا کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔

بتول اپنے باپ کی چہیتی لڑکی تھی۔ ساتوں میں سب سے چھوٹی تھی، سب سے پیاری، سب سے حسین، بتول اس قدر حسین ہے کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہوتی ہے، پنڈت جی آپ خود کشمیری النسل ہیں فن کا ر ہو کر یہ بھی جانتے ہیں کہ خوبصورتی کسے کہتے ہیں۔ یہ خوبصورتی آج میری گندگی کے ڈھیر میں گڈ مڈ ہو کر اس طرح پڑی ہے کہ اس کا پرکھ کرنے والا کوئی شریف آدمی اب مشکل سے ہی ملے گا، اس گندگی میں گلے سڑے مارداڑی، گھن، مونچھوں والے ٹھکیدار، ناپاک نگاہوں والے چور بازاری ہی نظر آتے ہیں۔

بتول بالکل ہی ان پڑھ ہے۔ اس نے صرف جناح صاحب کا نام سنا تھا۔ پاکستان کو ایک اچھا تماشا سمجھ کر اس نے نعرے لگائے تھے۔ جیسے تین چار برس کے ننھے بچے گھر میں انقلاب زندہ بادکرتے پھرتے ہیں۔ گیارہ بر س کی ہی تو ہے وہ ان پڑھ بتول۔ وہ چند دن ہی ہوئے میرے پاس آئی ہے۔ ایک ہندو دلال اسے میرے پاس لایا تھا۔ میں نے اسے پانچ سو روپے میں خرید لیا۔ اس سے پہلے وہ کہاں تھی یہ میں نہیں کہہ سکتی۔ ہاں لیڈی ڈاکٹر نے مجھ سے بہت کچھ کہا ہے کہ اگر آپ اسے سن لیں تو شاید پاگل ہو جائیں۔

بتول بھی اب نیم پاگل ہے اس کے باپ کو جاٹوں نے اس بے دردی سے مارا ہے کہ ہندو تہذیب کے پچھلے چھ ہزار برس کے چھلکے اتر گئے ہیں اور انسانی بربریت اپنے وحشی ننگے روپ میں سب کے سامنے آگئی ہے۔ پہلے تو جاٹوں نے اس کی آنکھیں نکال لیں۔ پھر اس کے منہ میں پیشاب کیا، پھر اس کے خلق کو چیر کر اس کی آنتیں تک نکال ڈالیں۔ پھر اس کی شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ منہ کالا کیا۔ اسی وقت ان کے باپ کی لاش کے سامنے ریحانہ، گل درخشاں، مرجانہ، سوہن اور بیگم ایک ایک کر کے وحشی انسان نے اپنے مندر کی مورتیوں کو ناپاک کیا۔

جس نے انھیں زندگی عطا کی، جس نے انھیں لوریاں سنائی تھیں، جس نے ان کے سامنے شرم و عجز سے اور پاکیزگی سے سر جھکا دیا تھا۔ ان تمام بہنوں، ماؤں اور بہوؤں کے ساتھ زنا کیا۔ ہندو دھرم نے اپنی عزت کھو دی تھی اپنی رواداری تباہ کر دی تھی، اپنی عظمت مٹا دی تھی۔ آج راگ وید کا ہر منتر خاموش تھا۔ آج گرنتھ صاحب کا ہر دوہا شرمندہ تھا۔ آج گیتا کا ہر اشلوک زخمی تھا۔ کون ہے جو میرے سامنے اجنتا کی مصوری کا نام لے سکتا ہے، اشوک کے کتبے سنا سکتا ہے، ایلورا کے صنم زادوں کے گن گاسکتا ہے۔

بتول کے بے بس بھنچے ہوئے ہونٹوں، اس کی بانہوں پر وحشی درندوں کے دانتوں کے نشان اور اس کی بھری ہوئی ٹانگوں کی ناہمواری میں تمہاری اجنتا کی موت ہے۔ تمہارے ایلورا کا جنازہ ہے۔ تمہاری تہذیب کا کفن ہے۔ آؤ آؤ میں تمہیں اس خوبصورتی کو دکھاؤں جو کبھی بتول تھی۔ اس متعفن لاش کو دکھاؤں جو آج بتول ہے۔ جذبے کی رو میں بہہ کر میں بہت کچھ کہہ گئی۔ شاید یہ سب مجھے نہ کہناچاہیے تھا۔ شاید اس میں آپ کی سبکی ہے۔

شاید اس سے زیادہ ناگوار باتیں آپ سے اب تک کسی نے نہ کی ہوں گی نہ سنائی ہوں گی۔ شاید آپ یہ سب کچھ نہیں کر سکتے۔ شاید تھوڑا بھی نہیں کر سکتے۔ پھر بھی ہمارے ملک میں آزادی آگئی ہے۔ ہندوستان میں اور پاکستان میں اور شاید ایک طوائف کو بھی اپنے رہنماؤں سے پوچھنے کایہ حق ضرور ہے کہ اب بیلا اور بتول کا کیا ہوگا۔

بیلا اور بتول دولڑکیاں ہیں، دو قومیں ہیں، دو تہذیبیں ہیں۔ دو مندر اور مسجد ہیں۔ بیلا اور بتول آج کل فارس روڈ پر ایک رنڈی کے ہاں رہتی ہیں جو چینی حجام کی بغل میں اپنی دکان کا دھندہ چلاتی ہے۔ بیلا اور بتول کو یہ دھندہ پسند نہیں۔ میں نے انہیں خریدا ہے۔ میں چاہوں تو ان سے یہ کا م لے سکتی ہوں۔ لیکن میں سوچتی ہوں میں یہ کام نہیں کروں گی جو راولپنڈی اور جالندھر نے ان سے کیا ہے۔ میں نے انہیں اب تک فارس روڈ کی دنیاسے الگ تھلگ رکھاہے۔

پھر بھی جب میرے گاہک پچھلے کمرے میں جا کراپنا منہ ہاتھ دھونے لگتے ہیں، اس وقت بیلا اور بتول کی نگاہیں مجھ سے کہنے لگتی ہیں۔ مجھے ان نگاہوں کی تاب نہیں۔ میں ٹھیک طرح سے ان کا سندیسہ بھی آپ تک نہیں پہنچا سکتی ہوں۔ آپ کیوں نہ خود ان نگاہوں کا پیغام پڑھ لیں۔ پنڈت جی میں چاہتی ہوں کہ آپ بتول کو اپنی بیٹی بنالیں۔ جناح صاحب میں چاہتی ہوں کہ آپ بیلا کو اپنی دختر نیک اختر سمجھیں۔ ذرا ایک دفعہ انہیں اس فارس روڈ کے چنگل سے چھڑا کے اپنے گھرمیں رکھیں اور ان لاکھوں روحوں کا نوحہ سنئے، یہ نوحہ جو نواکھالی سے راولپنڈی تلک اور بھرت پور سے بمبئی تک گونج رہا ہے۔ کیا صرف گورنمنٹ ہاؤس میں اس کی آواز سنائی نہیں دیتی، یہ آواز سنیں گے آپ؟

آپ کی مخلص: فارس روڈ کی ایک طوائف
05 / 03 / 2017

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کرشن چندر کی دیگر تحریریں
کرشن چندر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں