مدینہ منورہ کے خواجہ سرا

 میں نے دنیا میں آنکھ کھولی تو مدینہ منورہ کو زندگی کا حصّہ پایا۔ میری پیدائش سے پہلے ہی اماں اور بابا کے عشق کا رُخ مدینہ منورہ کی طرف مڑ چکا تھا۔ دونوں میں اگر کوئی قدر مشترک تھی تو وہ یہ منزل تھی، جہاں ہر سال انہیں روضہِ پاک کے سامنے جا کھڑے ہونا ہوتا تھا اور اپنے وجود کے پورے عجز و انکسار کے ساتھ سلام پیش کرنا ہوتا تھا نبیؐ جی کے حضور۔ میں کچھ دن

Read more

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک عبرت ناک ورق

جیسا کہ ہم جانتے ہیں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ سے گہری محبت رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب خود ترک قوم اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں خلافت کا بستر لپیٹ رہی تھی، برصغیر کے کونے کونے میں نہ صرف مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے بلکہ مسلمان عورتوں نے خلافت کے دفاع کے لئے اپنے زیور تک اتار کر چندے میں دے دیے۔ اس دور کا ادب بھی اس مذہبی حمیت

Read more

پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا: پیر صاحب پگاڑا

پاکستان کے ممتاز سیاست دان اور متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ مردان علی شاہ پیر پگاڑا مرحوم کا ایک یادگار انٹرویو روزنامہ جنگ میں 16 جولائی 2000 کو شائع ہوا۔   اس انٹرویو کے پینل میں جناب سہیل وڑائچ، جناب زاہد حسین اور جناب عارف الحق عارف شامل تھے۔ ذیل میں تاریخی دلچسپی کے لئے اس انٹرویو کے کچھ منتخب حصے پیش کئے جا رہے ہیں۔ سوال: پیر صاحب! آپ متحدہ مسلم لیگ کے صدر رہے ہیں، اس حوالے سے گفتگو

Read more

مسلم دنیا میں سائنس کا زوال کیسے ہوا؟

دور جدید میں مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کی تخلیق میں دوسری اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ سائنس کے مورخین بتاتے ہیں کہ 16 ویں صدی عیسوی تک کرۂ ارض پر موجود 3 تہذیبوں میں سائنسی تخلیقات تقریباً ایک ہی معیارکی تھیں۔ چین، مسلم دنیا اور براعظم یورپ کی سائنسی اور ٹیکنالوجی کی تخلیقات میں کوئی نمایاں فرق نہ تھا۔ ہم موجودہ مضمون میں پہلے 16 ویں صدی تک مسلم علاقوں میں سائنسی صورت حال کا جائزہ لیں گے۔

Read more

پنڈت نہرو اور قائد اعظم جناح کے نام ایک طوائف کا خط

مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے آپ کو کسی طوائف کا خط نہ ملا ہو گا۔ یہ بھی امید کرتی ہوں کہ آج تک آپ نے میری اور اس قماش کی دوسری عورتوں کی صورت بھی نہ دیکھی ہو گی۔ یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ کو میرا یہ خط لکھنا کس قدر معیوب ہے اور وہ بھی ایسا کھلا خط مگر کیا کروں حالات کچھ ایسے ہیں اور ان دونوں لڑکیوں کا تقاضا اتنا شدید ہے کہ میں

Read more

تاریخ کی آخری کتاب

پیارے بچو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ برصغیر میں محمد بن قاسم کے حملے سے پہلے انسانوں نے قدم نہیں رکھے تھے اور اسی وجہ سے ہماری درسی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے۔ آپ سب کی سہولت کے لیے ”تاریخ کی آخری کتاب“ پیش کی جا رہی ہے جو برصغیر میں نسل انسانی کی پہلی آباد کاری کے بارے میں آپ کو جانکاری دے گی۔ امید ہے کہ ملک بھر کے ٹیکسٹ بک بورڈ اسے نصاب میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور انہوں نے جو کوتاہی ”اردو کی آخری کتاب“ نصاب میں شامل نہ کرتے ہوئے کی ہے، اس کا ازالہ کر دیں گے۔

یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ محمد بن قاسم سے پہلے برصغیر میں انسان نہیں رہتے تھے۔ اس کتاب کو پڑھ کر بلاوجہ کی بچکانہ تنقید کرنے والے کچھ گمراہ لوگ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات کی طرف اشارہ کر کے آپ کو کہیں گے کہ یہ اس علاقے میں زمانہ قدیم سے انسانوں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ لیکن خدارا گمراہ مت ہوں۔ ان آثار کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ تحریک پاکستان کے مخالف چالاک ہندو بنیوں نے ان آثار کو بنا کر مٹی کے نیچے دبا دیا تھا تاکہ بعد میں ٹی وی کیمروں کے سامنے انہیں کھود نکال کر بھولے بھالے بچوں کو یہ دھوکہ دیا جا سکے کہ محمد بن قاسم سے پہلے بھی اس خطے کی کوئی تاریخ ہوا کرتی تھی۔

دوسری طرف یہ بحث بھی کی جانے لگی ہے کہ کیا بچوں کو نظریاتی تعلیم دے کر اچھا روبوٹ بنایا جائے یا پھر ان کو حقیقت بتا کر خود اچھے برے کی تمیز کرنی سکھائی جائے۔ جس شخص نے بھی آرنلڈ شوارزنیگز کی ٹرمینیٹر نامی فلمیں دیکھی ہیں، وہ بخوبی جانتا ہے کہ دنیا پر جلد ہی روبوٹوں کی حکومت قائم ہونے والی ہے، اس لیے نظریاتی تعلیم دینا ہماری قوم کو وہ عروج دے گا کہ دنیا ہماری مثال دیا کرے گی اور کرہ ارض پر کوئی بھی دھماکہ خیز بات ہو تو ہمارا نام ہی لیا جائے گا۔ دور جدید کی ضروریات جانتے ہوئے اس جدید تاریخی ریڈر میں اس بات کا پورا خیال رکھا گیا ہے کہ بچوں کی نظریاتی بنیاد خوب مستحکم ہو جائے اور وہ صرف خود کو ہی انسان سمجھیں۔ بلاوجہ بچوں کو سچ بولنا سننا سکھا دیا، تو وہ فسادی بن جائیں گے اور اپنا دماغ استعمال کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔

Read more

مادرِ ملت کی ایوب خان کے پاکستان کے بارے میں کیا تلخ ترین رائے تھی؟

پاکستان کی سابق وفاقی وزیر، امریکہ میں سفیر اور ممتاز سیاست دان سیدہ عابدہ حسین اپنی کتاب پاور فیلئر (جس کا اردو ترجمہ "اور بجلی کٹ گئی” کے نام سے شائع ہوا ہے) میں کئی دلچسپ تاریخی واقعات سے پردہ اٹھاتی ہیں۔ ان میں سے ایک وہ ہے جب وہ 1965 کے سیاسی الیکشن میں ایوب خان سے شکست کھانے والی مادرِ ملت فاطمہ جناح سے ملنے ان کے گھر گئیں۔ آئیے پڑھتے ہیں کہ سیدہ عابدہ حسین کیا بتاتی

Read more

اس زمین کو جنگ نہیں، امن اور محبت کی ضرورت ہے

انسانی تاریخ جنگ اور جنگی ہیروز سے بھرپور ہے۔ اس دنیا میں جنگ کو ہمیشہ شاندار بنا کر پش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں سالوں سے ہمیشہ اپنے اپنے جنگجو ہیروز کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ معلوم نہیں کیوں ان لوگوں کا ہمیشہ حوصلہ بڑھا گیا ہے جو قتل و غارت کر کے انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرتے تھے۔ آج بھی قومیں۔ ملک اور قبائل قتل وغارت کرنے والوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔

Read more

عمران خان سے پہلے بھٹو بھی ”نیا پاکستان“ بنا چکے ہیں

چھ جولائی کو جیسے ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید کی سزا سنائی، تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے، جو سوات میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے، احتساب عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے کہا، ”خدا کا شکر ادا کریں کہ آج پہلی بار بڑے چوروں کو سزا ہوئی ہے“۔ بعض باتوں میں تکلیف دہ حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ عمران خان کا ردِ

Read more

بیمار قوم پرستی کی علامت کیوں بن گئے جوہر؟

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں، جن کا نقش آپ کے ذہن پر کنداں ہوجاتا ہے اور پھر وہ مٹائے نہیں مٹتا۔ اُنھی میں سے ایک مولانا محمد علی جوہر کی شخصیت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے مولانا محمد علی جوہر کے بارے میں پہلی مرتبہ کب اور کیا سنا؟ لیکن ان کے بارے میں اتنا سنا کہ ان کی شخصیت کا ایک ہیولا سا میرے ذہن میں بن گیا۔ شیروانی، مخملی دوپلی ٹوپی اور گاندھی نما گول شیشے والی عینک

Read more

انتظار حسین اور فتح محمد ملک بحیثیت مورخ

پروفیسر فتح محمد ملک کا کالم ”انتظار حسین: شخص اور شہر“ دیکھ کر مجھے خیال آیا تھا کہ شاید اس تاریخ کی کوئی اہمیت انتظار صاحب یا حکیم اجمل خان کی زندگی میں رہی ہوگی، لیکن جوں جوں مضمون پڑھتا گیا یہ کھلتا گیا کہ یہ تحریر بھی اسی”مسلم شدھی“تحریک کی ایک کڑی ہے جس کے تحت ملک صاحب اس سے قبل کئی سیدھے سادے مسلمانوں کو، جو اب حیات نہیں اور اپنے دفاع میں کچھ کہہ نہیں سکتے، ملک

Read more