لفظ ‘نیشن’ کی تاریخ


انگریزی زبان میں لفظ ‘نیشن’ کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا تھا ابتدا میں اس لفظ کے کیا معانی تھی اور پھر صدیاں گزرنے کے بعد یہ لفظ کس طرح نئے نئے معانی اختیار کرتا چلا گیا۔ اور جدید معنوں میں نیشن کا تصور کب وجود میں آیا؟

(اس تحریر میں اس لفظ کی تاریخ بیان کرنے کی سعی کی گئی ہے جو میری کسی ذاتی تحقیق کا نتیجہ نہیں بلکہ مطالعے کے افادات ہیں۔)

نیشن کا لفظ لاطینی زبان کے جس لفظ سے ماخوذ ہے اس کا تعلق پیدائش کے ساتھ ہے۔ لاطینی میں ناتیو (natio) پیدا ہونے والی چیز کو کہا جاتا تھا۔ روزمرہ کی گفتگو مییں ناتیو کا لفظ انسانوں کے اس گروہ پر بولا جاتا تھا جو ایک ہی شہر یا علاقے میں پیدا ہوئے ہوں۔ یہ گروہ کلین (Clan) سے چھوٹا ہوتا تھا لیکن خاندان سے بڑا۔ کسی فیملی کو کبھی ناتیو نہیں کہا جاتا تھا۔

بنی نوع انسان کی تمدنی تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ مفصل علاقوں سے لوگ روزی روٹی، روزگار کی تلاش میں شہروں میں آ جاتے تھے اور مختلف خدمات سرانجام دیتے تھے۔ وہ شہر میں اجنبی ہوتے تھے اور شہر ان کے لیے پرایا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ لوگ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ محلے بنا کر رہنا شروع کر دیتے تھے۔ وہ اپنی زبان بولتے، اپنا لباس پہنتے، اپنی خوراک کھاتے اور اپنے رسوم و رواج پر عمل کرتے تھے۔ کسی رومی شہر میں باہر سے آ کر بسنے والوں کو ناتیو کہا جاتا تھا اور یہ کلمہ تحقیر تھا۔ چیچرو نے حقارت سے یہودیوں اور اہل شام کو ناتی اونس (nationes) کہا تھا، یعنی وہ گروہ جو غلام بنائے جانے کے لیے پیدا ہوئے تھے۔

یہ لفظ چونکہ بدیسیوں کے لیے از رہ تحقیر استعمال کیا جاتا تھا اس لیے رومیوں نے خود کو کبھی ناتیو نہیں کہا تھا۔ بدیسیوں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ صدیوں تک جاری رہا ہے اور شاید آج بھی اس سے مکمل چھٹکارا نہیں مل سکا۔ علاوہ ازیں روایتی طور پر بدیسی فرد اشرافیہ کے لیے تفریح طبع کا باعث بھی رہا ہے۔ بدیسی کی زبان اور اس کا لہجہ دنیا بھر میں لوگوں کے ہنسی کا سبب بنتا ہے۔ جب کوئی شخص سٹیج یا سکرین پر آ کر عجیب و غریب لہجے میں غلط زبان بولتا ہے تو ناظرین قہقہے لگانے لگتے ہیں۔

رومی سلطنت کے صدیوں بعد اطالوی زبان میں بھی یہ لفظ اسی مفہوم میں بولا جاتا تھا۔ ڈانٹے ان لوگوں کو نیشن (nazione) کہتا ہے جو ایک ہی شہر یا صوبے میں پیدا ہوئے ہوں۔

مختلف یورپی زبانوں میں یہ لفظ کئی اور مفاہیم میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ سولھویں صدی کا انگریزی زبان کا شاعر ایڈمنڈ سپنسر حیوانوں کی مختلف انواع کو نیشن کہتا ہے اور پرندوں کی نیشن کا بھی ذکر کرتا ہے۔

اسی طرح مختلف پیشہ ورانہ گروہوں کو بھی نیشن کہا جاتا تھا۔ فرانسیسی زبان میں سترھویں صدی کے ایک فرانسیسی شاعر بولُو Boileau نے شاعروں کو قوم کہا تو اٹھارویں صدی میں مونتیسکیو نے راہبوں کو قوم قرار دیا۔ انگریزی میں بن جانسن نےطبیبوں کو اور سیموئیل بٹلر نے وکیلوں کو قوم کہا۔ اور حد یہ ہے کہ جرمن زبان میں گوئٹے نے عورتوں کے لیے نیشن کا لفظ استعمال کیا۔ (پیشوں کو قوم کہنے کا رواج ہمارے ہاں بھی رہا ہے جیسے قوم لوہاراں، قوم ترکھاناں وغیرہ)

قرون وسطیٰ میں جب چھوٹے شہروں میں یونیورسٹیاں قائم یونے لگیں تو ان میں دور دراز علاقوں سے طلبہ تحصیل علم کے آنے لگے۔ وہ طلبہ اپنی زبان اور کھانوں کی بنا پر اپنے الگ گروہ بنا لیتے تھے۔ ان کو بھی نیشن کہا جاتا تھا۔ البتہ طالب علموں کی ان یونینوں میں معاملہ مشترکہ زبان یا جنم بھومی کے اشتراک سے کچھ بڑھ گیا۔ ایک ناتیو کا رکن یہ توقع رکھتا تھا کہ دوسرے افراد پیشہ ورانہ امور میں اس کی مدد کریں گے اور کڑے وقت میں اس کے مفادات کا تحفظ بھی کریں گے۔ بارھویں صدی کے بعد ان یونینوں نے ایک اور کردار اپنا لیا اور وہ تھا اپنے علاقے کی مشترکہ روایات یا اپنے گروہ کے افکار و خیالات کا دفاع کرنا۔ اس مفہوم میں ان یونینوں کو جدید دور کی پیشہ ورانہ تنظیموں یا ٹریڈ یونینوں کی ابتدائی صورت کہا جا سکتا ہے۔

اگرچہ طلبہ یونینوں کے ان معاملات کی نیشن کے جدید مفہوم سے کچھ ادنی مماثلتیں موجود ہیں لیکن ان سے جدید نیشن کے معانی اخذ کرنے کے لیے بہت کھینچا تانی کرنی پڑے گی۔ اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ازمنہ وسطیٰ کی یہ درسگاہیں چرچ کے ادارے تھے۔ ان اداروں نے ایک روحانی وحدت کے تصور کو جنم دیا جو پہلے موجود نہیں تھا۔ تاہم یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ اس دور تک بھی نیشن کا لفظ اجنبیوں اور غیر ملکیوں کے لیے ہی استعمال ہوتا تھا۔

 چرچ کے زمانے میں جو بھی اختلافات برپا ہوتے تھے ان کا تعلق مذہبی مسائل کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس وقت انسانوں کی روحانی فلاح اور بالیدگی کا مسئلہ ہوتا تھا۔ ان کا سیاست یا علاقائی اور نسلی معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ چودھویں صدی میں کیتھولک مسیحیت کو ایک بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا جب پاپائیت دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک پوپ روم میں بیٹھا تھا اور دوسرا جنوب مشرقی فرانس کے شہر ایوینو Avignon میں براجمان تھا۔ یہ انتشار سنہ 1377ء سے 1417ء تک جاری رہا تھا جسے چرچ کی تاریخ میں ‘مغربی افتراق’ کہا جاتا ہے۔ سنہ 1417ء میں چرچ کونسل نے بالآخر دونوں دعوے داروں کو معزول کرکے نئے پوپ کا انتخاب کیا۔ اس طرح انتشار کا خاتمہ ہو گیا اور بظاہر چرچ کی وحدت بحال ہو گئی۔

اسی زمانے میں چرچ کے اعلی عہدیداروں میں ایک نیا رجحان پیدا ہوا۔ ایک تحریک چلی جس کا مقصد یہ تھا کہ پوپ کو تنہا فیصلہ سازی کا اختیار نہیں ہونا چاہیے بلکہ کونسلز کی ایک پارلیمنٹ ہو اور پوپ اس کا محض صدر ہو۔ مسیح کے نائب اور پیٹر کے جانشین کو مطلق العنان سربراہ کے بجائے کلیسائی ریپبلک کا صدر ہونا چاہیے۔ اس کلیسائی ریپبلک میں چرچ کے مختلف مکاتب کے نمائندے ہی نہیں تھے بلکہ دنیاوی حکمرانوں کے نمائندے بھی تھی۔ ان مختلف گروہوں کو بھی نیشنز کہا گیا تھا۔

پوپ کا اقتدار کمزور پڑنے سے جب چرچ کونسلز وجود میں آ گئیں تو اب نیشن کے لفظ نے نئی معنی اختیار کر لیے۔ اب نیشن سے مراد تھا نمائندہ ادارہ جس کے افراد کسی نہ کسی طور کسی مخصوص علاقے سے تعلق رکھتے ہوتے تھے۔

 مونتسکیو نے جب یہ کہا تھا کہ فرانس کی پہلی دو بادشاہتوں کے زمانے میں نیشن کا اکثر و بیشتر اجتماع ہوا کرتا تھا تو نیشن سے اس کی مراد تھی، اشرافیہ اور بشپس۔ اس وقت فرانسیسی زبان میں نمائندہ اسمبلی کا مطلب تھا اشرافیہ کے نمائندگان۔

چودھویں صدی کی ابتدا میں فرانسیسی بادشاہ کو مختلف النوع تنازعات کے حل کے لیے جاگیرداروں کی میٹنگ طلب کرنا پڑتی تھی۔ جاگیرداروں کی ان میٹنگوں کا مقصد ٹیکس جمع کرنے کے سوا کچھ اور نہ ہوتا تھا۔ ان اجلاسوں میں شریک ہونے والوں کو نیشن کہا جاتا تھا۔ جاگیرداروں، اشرافیہ اور چرچ کے اعلیٰ عہدیداروں کو نیشن قرار دینا فرانس تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر یورپی علاقوں میں بھی یہی رواج تھا۔ کئی صدیاں بعد تک اشرافیہ، حکومتی افسران اور چرچ کے نمائندوں کو ہی نیشن کہا جاتا تھا۔

سنہ 1731 میں ٹرانس سلوینین (موجودہ رومانیہ) پارلیمنٹ کے اجلاس میں ایک نوجوان پریسٹ شریک ہوا۔ اس کی عمر سے لگتا تھا کہ جیسے وہ سیدھا مکتب سے آ رہا ہو۔ جب اس نے بولنا شروع کیا تو اس کی لاطینی بہت خراب تھی، لفظوں کا تلفظ خوفناک تھا جس پر اشرافیہ کے لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ لیکن جب اس نے یہ کہا کہ وہ ولاکین قوم کے حقوق کی بات کرنے آیا ہے تو اشرافیہ نے یک زبان ہو کر کہا، ولاکین نیشن نام کی کوئی چیز نہیں، وہاں صرف عوام بستے ہیں۔

بات یہ نہیں تھی کہ ولاکیہ (رومانیہ) میں لوگ نہیں بستے تھے۔ لوگ تھے لیکن ان میں کوئی اشرافیہ کلاس نہیں تھی۔ اس لیے وہ پارلیمنٹ میں نمائندگی کے اہل نہیں تھے۔

رومانیہ کے باشندے اس وقت غریب، غیر تعلیم یافتہ اور متلون مزاج تھے۔ ان کے پاس کوئی طبقہ خواص نہیں تھا نہ کوئی اہم روحانی شخصیات۔ بشپ جان میکو پہلا شخص تھا جو امرا کے حلقے میں نمائندگی کے لیے پیش ہوا۔ یہاں لفظ نیشن واضح طور طبقہ امرا کے لیے مخصوص تھا کہ وہی نیشن کہلانے کے سزاوار تھے۔

جوزف دا مائستری (1753-1821) نے اس سوال کہ ‘قوم کیا ہے؟’ کا جواب دیا تھا: حکمران اور اشرافیہ۔ نیشن کا لفظ بمعنی ‘اشرافیہ کا گروہ’ بہت دیر تک مستعمل رہا ہے۔ اس کی مثال شوپنہار کے ہاں ملتی ہے جب اس نے یہ کہا تھا، جو شخص لاطینی نہیں جانتا اس کا شمار عوام میں ہو گا چاہے وہ کسی فن میں کتنی ہی مہارت کیوں نہ رکھتا ہو۔

 اٹھارویں صدی کے نصف دوم میں نیشن اور سٹیٹ کے الفاظ کا استعمال بہت عام ہو گیا تھا لیکن فرانس کے شہنشاہ لوئی چہاردہم (عہد حکومت 1643 تا 1715ء) کے زمانے میں یہ دونوں لفظ استعمال نہیں ہوتے تھے۔ سبب اس کا یہ تھا کہ اس وقت بادشاہ اور ریاست ہم معنی تھے۔ لوگ بادشاہ کہہ کر ریاست اور ریاست کہہ کر بادشاہ مراد لیتے تھے۔ اس لیے لوئی چہاردہم کے عہد میں ان الفاظ کے استعمال کا کوئی محل نہیں تھا۔ اس وقت نیشن، اشرافیہ کے گروہ، کا کوئی حکومتی کردار نہیں تھا۔ لیکن اس کا جانشین مطلق العنان نہیں تھا۔ وہ گروہ اشرافیہ کا ایک سربلند فرد تھا۔ وہ تمام گروہ مل کر ریاست کی تشکیل کرتا تھا۔

 اسی زمانے میں ریاست کا ایک نیا تصور سامنے آیا جس کے مطابق حکومت کا مقصد محض ٹیکس جمع کرنا ہی نہیں بلکہ عوام کو سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔ اس تصور کے مقبول ہونے کے بعد ریاست اور نیشن کے الفاظ کی اہمیت بھی بڑھ گئی۔

 مغربی اور شمالی یورپ میں سولھویں صدی کے بعد عام شہریوں میں ایک نیا طبقہ پیدا ہو گیا تھا جس کے پاس دولت آ گئی تھی اور اس کے نتیجے میں وہ بھی لائق احترام ہو گیا۔ اب اس طبقے کی بھی ہر ممکن کوشش یہی تھی کہ وہ اپنے آپ کو ان عوام سے الگ رکھے جو ہاتھ سے کام کرکے روزی کماتے تھے اور ہر طرح کے حقوق و مراعات سے محروم ہوتے تھے۔

 ان نو دولتیوں اور عوام میں اس فرق کو 1858ء میں شائع ہونے والے ایک پمفلٹ میں بخوبی واضح کیا گیا تھا: "وکیلوں نے شمشیر کی مدد کے بغیر ہی عوام سے اپنا مرتبہ بلند کر لیا ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ بھی ہوریس کی پیروی میں عوام کو گھٹیا سمجھتا ہے۔ جو لوگ فنون لطیفہ کی آبیاری کرتے ہیں ان کو عوام کہنا درست نہیں۔ اسی طرح کاروباری طبقے کو بھی عوام کہنا غلط ہے کیونکہ تجارت سے بھی عزت و توقیر حاصل کی جا سکتی ہے۔ بلکہ تاجر طبقہ نے تو اپنا رتبہ اتنا بلند کر لیا ہے کہ وہ اعیان حکومت کی ہمسری کرنے لگے ہیں۔ اب ان کو عوام کہنا بالکل لغو بات ہو گی۔”

 جدید معنوں میں نیشن سے مراد کسی ریاست کے تمام شہری ہوتے ہیں نہ کہ اشرافیہ کے نمائندے۔ جدید معنی بہت متعین اور قطعی نہیں ہیں بلکہ ان میں اچھا خاصا ابہام پایا جاتا ہے۔ لیکن ان معنوں کا آغاز کب ہوا، اس سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔ یورپ کی تیس سالہ جنگ میں ان معنوں میں کوئی قوم شریک نہیں تھی جس کے اپنے کچھ خصائص ہوں یا ایسا گروہ جو کسی طرح کے سیاسی مقاصد رکھتا ہو۔ ویسٹ فالیا کا معاہدہ لسانی سرحدوں کے متعلق نہیں تھا بلکہ مختلف حکمرانوں کی سلطنتوں کی نئی حد بندی کی گئی تھی۔

وی آنا کانگرس کے موقع پر بھی صرف پرنسز تھے جو کانفرنس کی میزوں پر بیٹھنے کا استحقاق رکھتے تھے۔ ولہلم کے سر پر تاج جرمن قوم نے نہیں بلکہ جرمن شہزادوں نے رکھا تھا۔ جدید نیشن کا ظہور انیسویں صدی میں ہوا ہے۔

پس نوشت:

 (اس تحریر میں بیان کردہ معلومات اس مضمون سے مستفاد ہیں۔ Guido Zernatto. Nation: The History of a Word. “THE REVIEW OF POLITICS”. 1944. 6:3(

 

Facebook Comments HS