مساوی مشکلات اور ہم


*وطن عزیز میں مہنگائی نے اقلیت اور اکثریت میں فرق ختم کر دیا*

ملک کی 97 فیصد عوام کے مہنگائی اور دیگر مسائل رنگ و نسل اور مذہبی شناخت سے بالاتر ہیں یا یہ کہا جائے 3 فیصد نے 97 فیصد عوام کو یہ یقین دلایا ہے کہ *مساوی حقوق* دینا ابھی ممکن نہیں، *مساوی مشکلات* سے فل حال کام چلایا جائے۔

کہتے ہیں عوام طاقت کا سرچشمہ ہوتی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے یہی عوام مختلف اکائیوں میں تقسیم نظر بھی آتی ہے چاہے وہ مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہو یا دیگر موجودہ وطن عزیز کے معاشی حالات عام آدمی کو مجبور کر دیتے ہیں کہ زندہ کیسے رہا جا سکتا ہے۔

کرپشن، لوٹ کھسوٹ کرائم ریٹ کے بڑھنے کی بنیادی وجہ نظر آتی ہے۔
اب بات کرتے ہیں اپنے حکمرانوں کی

الیکشن سے قبل ہر سیاسی جماعت عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کی بات کرتی ہے اگر صاف الفاظ میں کہا جائے تو عام آدمی کو ایموشنل بلیک میل یا ان ہی پر سیاست کرتی ہے اور ان کے سیاسی وعدے آئیڈیلزم سے قریب اور حقیقت پسندی سے کہیں دور نظر آتے ہیں۔ ہر حکومت جب اقتدار سنبھالتے ہی دعوی کرتی ہے کہ خزانہ خالی ہے پہلی حکومت نے کچھ بھی نہ چھوڑا

پہلی حکومت نے وہ سخت شرائط پر قرض لیا جو واپس کرنے کے لیے ہمیں ٹیکس اور دوسری چیزوں کی قیمتوں کو زیادہ کرنا پڑے گا۔

عوام پھر مان جاتی ہے لیکن حکومتی انتظامیہ اور وزراء کروڑوں کی گاڑیاں مفت پٹرول اور شاہی سہولیات خود وصول کرتے ہیں سیاسی جماعتیں یہ بھی دعوی کرتیں ہیں کہ وہ غریب دوست ہیں

لیکن یہ عجیب گورکھ دھندا ہے کہ اسی عوام کا پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے لیکن وزیراعظم وزیراعلی اور باقی وزراء کو لاکھوں کے خرچ پر پروٹوکول اور سہولیات لینا ضروری ہے کیا اگر یہ ملک غریب ہے تو یہ تمام سہولیات لینے سے انکار کرنا بہتر ہو گا آج ایک تحصیلدار اور اسسٹنٹ کمشنر کو ہی کروڑوں کی گاڑیاں اور لاکھوں کی ماہانہ سہولیات عوام کے پیسہ کا نقصان ہے ہم آئی ایم ایف اور دوسرے ملکوں سے سے قرض کیوں لیتے ہیں اس لیے کہ عوام کو وہ تمام سہولیات دی جائیں نئے سکول بنائے جائیں نئے پروجیکٹ شروع کیے جائیں نئے ہسپتال بنائے جائیں نئے روزگار دیے جائیں

اگر ملکی پیسہ بچایا جائے تو بہت کچھ ممکن ہے۔

آج اسکولوں میں تعلیمی نظام ادھا بھی نہ رہا ہے سکولوں کی حالت خستہ ہو رہی ہے بچوں کا تعلیمی معیار بدتر سے بدتر ہوتا جا رہا ہے ہسپتالوں میں میڈیسن کا فقدان نظر آتا ہے ڈاکٹرز مرضی سے کام کرتے ہیں زیادہ اپنے پرائیویٹ ہسپتالوں پر دھیان دیتے ہیں۔

پولیس عام آدمی کو حق اور انصاف دلانے میں ناکام نظر آتی ہے
قانونی کام بھی کروانے کے لیے ہزاروں کی رشوت کا لفظ بدل کر مٹھائی کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے۔

الیکشن سے پہلے ملک کی بڑی جماعتوں نے 300 یونٹ تک بجلی فری دینے کا دعوی کیا جو اس وقت اقتدار میں ہیں لیکن آج عام شہری بجلی بل کی وجہ سے اس قدر پریشان ہے کہ حکمرانوں کے لئے دعائیں تو دل سے نکلتی نہیں ہوں گی۔

حقیقی لیڈر اپنے ملک کی غریب عوام کو بہتر زندگی بسر کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے

موجودہ صورتحال تو یہ ہے کہ سیاسی نمائندوں کے گھر کے باہر کھڑا چوکیدار تک بھی یہ جواب دیتا ہے کہ صاحب یہاں موجود نہیں ہیں

کاش کوئی عوام کی پریشانی دیکھے اور حل کرنے میں مدد اور رہنمائی کرے نہ کہ ٹیکس اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرے ٹیکس ادا کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے حکومت کو چاہیے کہ تمام لوگوں کو اس کی آئی ڈی کارڈ کے مطابق خود سے ہی فائلر کرے اور ٹیکس جمع کرنے کے بعد وہ پیسہ عوام کی سہولیات میں لگایا جائے

عوام کو بنیادی سہولیات، ملک میں امن، سیفٹی چاہیے

وطن عزیز میں اب کوئی فرق نہیں رہا کیا اقلیت اور کیا اکثریت دونوں ہی خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں جس کا ثبوت چند دن پہلے قومی اسمبلی میں حکومتی وزرا نے خطاب کے دوران بھی کیا کہ پاکستان میں کوئی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں ہیں۔

عزم استحکام شاید امن و امان بحال کرنے میں مدد فراہم کرے۔

میرے مطابق اس سے بھی زیادہ ضروری ہے مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے اور پاکستانیت کو فروغ دیا جائے اور اس کی ابتدا ہمارے تعلیمی نصاب میں تمام مذہب پر امن بھائی چارے اور محبت کا درس دیا جائے تمام مذاہب کے بچوں کو نظر میں رکھتے ہوئے ان کے مذاہب کی تعلیمات کو بھی نصاب کو میں شامل کیا جائے اس پر ایمرجنسی بنیادوں پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو محفوظ اور خوشحال وطن دے سکیں۔ کیونکہ وطن عزیز ہمیں بہت قربانیوں سے ملا ہے اس کے لیے کیا اکثریت اور کیا اقلیت دونوں نے مل کر اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے پاکستان خدا کی طرف سے ملنے والی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس میں تمام شہری مساوی حقوق کے حقدار ہیں

آئین کے مطابق ہر شہری قانون کی نظر میں برابر اور مساوی تحفظ کا حقدار ہے آج تمام جماعتوں کو اپنے سیاسی مفادات سے ہٹ کر سوچنا ہو گا۔

Facebook Comments HS