شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس اور پاکستان کے لیے نئے مواقع
میں اپنے بیٹے موسیٰ کے ہمراہ جو بارہ برس کا ہے بیجنگ کی جانب محو پرواز ہوں۔ اس موسم میں بیجنگ کا درجہ حرارت لاہور سے کم ہوتا ہے مگر شنید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی نسبت سے بیجنگ کا درجہ حرارت بلند ہے۔ اجلاس کا انعقاد تو آستانہ قازقستان میں ہو رہا ہے مگر چینیوں کی ساری توجہ اس وقت اس پر ہی مرکوز ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے سرے سے ہی قائم نہیں کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی بحالی کے لئے امن و امان کی بہت بہتر صورت حال درکار ہے۔
مگر افغانستان انیس سو سینتالیس سے لے کر آج تک ایک ایسا درد سر بنا ہوا ہے کہ جہاں سے نت نئے انداز سے مسائل ہمارے گلے پڑ جاتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او ) کا سربراہی اجلاس اس وقت منعقد ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ رکن ممالک کی سلامتی کو لاحق خدشات سے عہدہ برا ہونے کے لئے اقدامات پر گفتگو کی جائیں گی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ یہ دنیا بھر کی علاقائی تنظیموں میں سب سے بڑی ہے۔
دنیا بھر کی پینتالیس فیصد آبادی اور دنیا کا ایک چوتھائی جی ڈی پی اس تنظیم کے رکن ممالک کے پاس ہے اور اس کی ڈرائیونگ نشست پر براجمان چین اور روس اس تنظیم کو صرف نشستن گفتن برخاستن تک محدود نہیں رکھتے ہیں بلکہ انیس سو چھیانوے میں چین، روس، قازقستان، تاجکستان اور کرغزستان نے جب شنگھائی فائیو کے نام سے تنظیم قائم کی تھی تو اس وقت ہی یہ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اس تنظیم کا مقصد دنیا میں تنہا سپر پاور کے نظریہ کو تسلیم نہ کرنا ہے۔
پھر بیس مئی انیس سو ستانوے کو جب اس وقت کے چینی صدر جیانگ اور روسی صدر بورس یلسن نے ملٹی پولر ورلڈ کے ڈیکلیریشن پر دستخط کیے تو سمت بالکل واضح ہو گئی تھی۔ اسی شنگھائی فائیو کو دو ہزار ایک میں شنگھائی تعاون تنظیم میں تبدیل کر دیا گیا اور اب اس تنظیم میں پاکستان، انڈیا، ازبکستان اور ایران بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم نے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر فار شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے نام سے قائم کیا ہوا ہے۔
خطرے کو بھانپتے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے ایس سی او کی وزرائے خارجہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ تجویز پیش کی ہے کہ ایس سی او ممالک کو افغانستان سے گریٹر ڈائلاگ کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لئے ایس سی او اجلاس اس حوالے سے ایک اہم موقع ہو گا کہ وہ دیگر رکن ممالک کی اس سوچ کو عملی جامہ پہنا سکے اور افغانستان سے ایس سی او کے پلیٹ فارم پر علیحدہ سے دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو ہو اور اس کو اپنی سوچ بدلنے پر قائل کیا جا سکے۔
چین کے معاشی اثرات افغانستان کے لئے بھی اہم ہیں اور یہ بہت ممکن ہے کہ ایس سی او کی سطح پر ایسی کوئی کوشش کامیاب بھی ہو جائے کیوں کہ پاکستان کی تنہا تو ایسی کوششوں کے اب تک مثبت نتائج سامنے نہیں آ سکیں ہیں۔ ایس سی او کے موجودہ اجلاس میں کاؤنٹر ٹیررازم اسٹرکچر اور یوریشیا کی تجارتی گزرگاہوں کے قیام اور اس کو مزید بہتر کرنے پر توجہ مرکوز ہیں اور اس سے لامحالہ سی پیک ایک جڑا ہوا اہم عنصر ہے۔ چابہار بندر گاہ اور 7200 کلو میٹر پر مشتمل انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور جس میں بھارت، ایران، روس، آذربائیجان، آرمینیا، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکی، یوکرین، بیلاروس، عمان اور شام پر شامل ہیں، اہم موضوعات ہیں، حالاں کہ اس میں بھی روس یوکرائن جنگ ایک درد سر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود توقع یہ ہی کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس سے ایس سی او مزید مضبوط ہو گا۔ مگر یہ بات طے شدہ ہے کہ ایس سی او کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ انڈیا کے پاکستان سے کشیدہ اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ چین سے بھی تلخ تعلقات ہیں اور جب تک ان دونوں ممالک سے انڈیا کے معمول کے تعلقات قائم نہیں ہوتے ہیں اس وقت تک ایس سی او کو اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں بہت ساری پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

