سندھ کے اسکولوں میں ماحولیاتی تبدیلی کا مضمون پڑھایا جائے!
موسمیاتی تبدیلی اور لوگوں اور وسائل پر اس کے سنگین اثرات سماجی اور معاشی چیلنجز کا باعث بن رہے ہیں۔ آج ہم جو اقدامات اٹھائیں گے وہ مستقبل میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور گرمی کی شدت کو کم کریں گے۔ انسانی آبادی، انفرا اسٹرکچر اور معیشت کو نقصان پہنچنے کے خطرات کو کم کریں گے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اسباب اور اثرات کے بارے میں آنے والی نسلوں کو آگاہ کرنا ہماری ذمے داری ہے، کیونکہ سماجی اور انفرادی دونوں سطح کے اقدامات کے لیے یہ لازم ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا سبجیکٹ نصاب میں شامل کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ زمین، زندگی اور طبعی علوم کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی کہ متعلق طالب علموں کو مختلف ورکشاپ، ٹریننگ اور کیمپین میں مصروف رکھنا چاہیے ۔
ایک برطانوی یونیورسٹی کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آدھے سے زیادہ نوجوان روزانہ کی بنیاد پر آب و ہوا کی پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ مستقبل میں گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے بچوں کو بہتر طریقے سے تیار کرنے کے لیے 2025 سے اسکولوں میں موسمیاتی تعلیم کو لازمی قرار دینے پر زور دے رہا ہے۔
پیرس معاہدے 2015 میں اس مقصد کے بہت سے دستخط کنندگان ہونے کے باوجود صرف چند ممالک اپنے تعلیمی نظام میں موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے کو لازمی قرار دیتے ہیں۔
اب موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پوری دنیا میں دیکھے اور محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پوری دنیا میں اس پر بحث مباحثے ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی کی لہریں، شدید سیلاب اور طوفان روز بروز عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بہت دیر ہونے سے پہلے عالمی سطح پر ٹھوس اقدام نہ اٹھایا گیا تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(موسمیاتی تبدیلی کیا ہے؟ )
(موسمیاتی تبدیلی کیوں اہم ہے؟ )
(موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار کون ہے اور ہم کیسے جانتے ہیں؟ )
(ہم کیا کر سکتے ہیں؟ )
یہ سوالات اتنے اہم ہیں ان کے بارے میں طلبہ کو جب تک بنیادی معلومات نہیں دی جائے گی اور ہمارے سلیبس میں ماحولیاتی تبدیلی کا مضمون شامل نہیں کیا جائے گا تب تک ہماری نسل اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے تیار نہیں ہوگی۔
طلباء ماحولیاتی، حیاتیاتی اور سماجی نظاموں پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا تجزیہ کرنے کے تب تک قابل نہیں ہوں گے۔ جب تک انہیں پرائمری سے لے کر ہائی اسکول تک یہ مضمون پڑھایا نہیں جائے گا۔
موسمیاتی تبدیلی کے مضمون کو سلیبس میں شامل کرنے سے طلباء ماحولیاتی، اقتصادی، سیاسی، اور اخلاقی اثرات کی روشنی میں موسمیاتی تبدیلیوں کے تخفیف اور موافقت کی حکمت عملیوں کا موازنہ کر سکیں گے۔
طلباء آب و ہوا، موسمیاتی تبدیلی، اور تخفیف سے متعلق دعووں کو درست ثابت کرنے کے لیے ڈیٹا اور شواہد کا استعمال کر سکیں گے۔ طلباء آب و ہوا کے عناصر کی وضاحت کر سکیں گے اور زمین کے توانائی کے توازن کا تجزیہ کر سکیں گے جو موسمیاتی تبدیلی کو متاثر کرتی ہے۔
ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے، نصاب کو پرائمری سے لے کر مڈل اسکول، ہائی اسکول تک مضمون شامل کیے جائیں۔ اسباق کے منصوبوں میں فراہم کردہ سلائیڈ شوز، اساتذہ کی زیر قیادت مظاہرے، طلباء کی زیر قیادت تحقیقات، اور ڈیٹا کے گروپ تجزیہ پر مبنی لیکچرز سے لے کر اساتذہ کے مرکز اور طالب علم کے مرکز دونوں طرح کی سرگرمیاں شامل کی جائے۔ جو طلباء کو ماحولیاتی سائنس اور تخفیف کے اختیارات کے بارے میں اپنی سمجھ کو استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ معاشرے کو کاربن کے اخراج کو کیسے کم کیا جائے۔
ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ تمام اساتذہ کے لیے تمام گریڈ لیولز، تمام مضامین موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں پڑھانے کے لیے تاکہ اگلی نسل کو موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں معلومات دی جائے۔
موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا اہم مضمون ہے، جسے ہم سنجیدگی سے نہیں لیتے، ہمیں کہانیوں، کتابوں، وی لاگز، ٹک ٹاک اور اپنے وڈیو پیغامات، گیمز اور کمیونیکیشن کے ذرائع شامل کرنا چاہیے۔
میرا خیال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلقہ مضامین کو اسکول کے نصاب میں شامل کرنے سے نوجوانوں کو عملی اور نفسیاتی طور پر گلوبل وارمنگ کی حقیقت سے بہتر طور پر نمٹنے میں مدد ملے گی۔
پچھلے سال، ایک عالمی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ موسمیاتی تبدیلی تقریباً نصف نوجوانوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ یونیورسٹی آف باتھ کی طرف سے کی گئی یہ تحقیق 10 ممالک میں 10,000 نوجوانوں کے سروے پر مبنی تھی۔ 75 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ”مستقبل خوفناک ہے“ ۔
ماحولیاتی تبدیلی کی تعلیم کے لیے بڑھتے ہوئے مطالبات!
بین الاقوامی ادارے نصاب کے رسمی حصے کے طور پر اسکولوں میں موسمیاتی تبدیلی کے مطالعے کو پڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے 2025 تک تمام اسکولوں میں تدریس کا حصہ ہونا چاہیے۔
دو ہزار پندرہ کے پیرس معاہدے پر دستخط کرنے والوں کے باوجود موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تعلیم کو بہتر بنانے پر اتفاق کرنے کے باوجود، بہت کم ممالک نے اس عزم کو عملی جامہ پہنایا ہے۔
کمبوڈیا نے موسمیاتی تبدیلی کو ہائر سیکنڈری اسکولوں کے لیے ایک نئے اور توسیع شدہ ارتھ سائنس نصاب میں ضم کیا ہے جو 2020 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ کلیدی طریقوں اور ٹیکنالوجیز کے بارے میں سیکھنے کے ساتھ ساتھ، 15 پائلٹ اسکولوں کو درخت لگانے اور آب و ہوا جیسے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے تفویض کیا گیا تھا۔
کچھ دوسرے ممالک بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ارجنٹائن کی پارلیمنٹ نے 2021 میں جامع ماحولیاتی تعلیم کے قومی قانون کی منظوری دی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں میں ہر عمر کی سطح پر ماحولیاتی تعلیم پڑھائی جائے۔ اس سے پہلے ٹیکنالوجی اور سماجی علوم جیسے مضامین میں ماحولیاتی مسائل پڑھائے جاتے تھے۔
برطانیہ میں پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ تاہم، برطانیہ کی حکومت نے 2023 تک ”عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کی تعلیم“ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی تعلیم پر سست پیش رفت!
دنیا بھر میں لاکھوں اساتذہ کی نمائندگی کرنے والی یونین ایجوکیشن انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے ممالک موسمیاتی تبدیلی کی تعلیم فراہم کرنے کے وعدوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اس کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 95 ممالک میں سے جنہوں نے پیرس معاہدے کے اہداف کے لیے اپنی وابستگی کے حصے کے طور پر نئے یا اپ ڈیٹ کردہ قومی تعین شدہ جمع کرائے ہیں، صرف 24 فیصد نے خاص طور پر نوجوانوں کی تعلیم کا ذکر کیا۔

