بجٹ اور عوامی مسائل


پچھلے تین چار سال سے ملک خداداد میں سیاسی خلفشار جاری و ساری ہے اور ساتھ عوام مہنگائی کی چکی میں پستے آ رہے ہیں۔ نئے الیکشن کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ کوئی سیاسی استحکام آ جائے گا اور اس کے بعد عوام کو کچھ ریلیف ملے گا۔ مگر لگتا ہے موجودہ ارباب اختیار ہوں یا ان کے مخالفین کسی کو عوامی مشکلات کی فکر نہیں ان کو تو بس اپنی لڑائی سے فرصت نہیں ہے اور ان کا ایک ہی مطمح نظر ہے طاقت کو برقرار کیسے رکھنا ہے یا کھوئی ہوئی طاقت بحال کیسے کرنی ہے۔

اس طاقت کی لڑائی میں کوئی فریق پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں۔ طاقت کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کے لئے عالمی طاقتوں اور عالمی معاشی اداروں سے مدد لینا بھی مجبوری بن جاتی ہے کیونکہ جب گھر میں لڑائی ہو تو باہر سے مداخلت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ مسلم لیگ نون کی نئی حکومت اس وقت غیرملکی قرضہ لینے کے لئے آئی ایم ایف کی تمام شرائط بغیر کسی چون چراں کے مان چکی ہے اور اس کے نتیجے میں جو بجٹ آیا ہے اس کو کسی طور عوامی بجٹ نہیں کہہ سکتے۔

تو کیا یہ حکومت اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ اپنے طور پر کوئی پالیسی سازی نہیں کر سکتی اور کسی طبقے کو ریلیف نہیں دے سکتی؟ ہمارے وزیراعظم نے کچھ عرصہ پہلے پیٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا تھا مگر ان کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا ہوا جب ان کے وزیر خزانہ نے ان کی بات ان سنی کرتے ہوئے یہ اضافہ بہت معمولی سا کیا۔ اس سے موجودہ حکومت کی صاف بے بسی ظاہر ہوتی ہے اور عوام کو یہ لگتا ہے کہ وزیرخزانہ صاحب کہیں اور سے احکامات لے رہے ہیں۔

معاشی اصلاحات کے نام پر بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں۔ بلیک اکانومی کو لگام دینے کی بجائے عوام اور خاص کر تنخواہ دار طبقے پر بھاری ٹیکسز لگائے جا رہے ہیں۔ مختلف کمزور طبقات کو دی جانے والی سبسڈیز ختم کی جا رہی ہیں۔ عوام کو تسلیاں دی جا رہی ہیں کہ حالات کچھ عرصہ بعد مستحکم ہو جائیں گے مگر اب عوام یہ باتیں سن سن کر عاجز آئے بیٹھے ہیں۔ کیونکہ اب لوگوں کے پاس جو کچھ جمع پونجی تھی وہ بجلی کے بلوں اور دوسرے اخراجات پر صرف ہو چکی ہے۔

حالات ہیں تو دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک دیہات میں رہنے والے اچھی فصلات کی وجہ سے نسبتاً بہتر حالات میں تھے اور ان کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قصبات اور شہروں میں کاروبار اور مختلف کام اچھے چل رہے تھے۔ مگر اس دفعہ گندم، چاول وغیرہ کا جو حال ہوا ہے کسان کی گندم گھر پر پڑے پڑے خراب ہو رہی ہے اور کوئی خریدار نہیں ہے۔ گندم نہ بکنے کی وجہ سے کسان اگلی فصل بھی کاشت نہیں کر سکا ہے اس کے تباہ کن اثرات ابھی سے آنے شروع ہو گئے ہیں اور جب کسان کے پاس پھوٹی کوڑی نہیں ہوگی تو چھوٹے چھوٹے قصبات اور شہروں میں کاروبار بھی ٹھپ ہو رہے ہیں۔

اب وہ لوگ جنہوں نے اچھے وقتوں میں پلاٹ خرید کر رکھ لئے تھے ان کو وہ بیچنا چاہتے ہیں تو نہ تو ان کو خریدار مل رہے ہیں اور نہ اس کی جائز قیمت مل رہی ہے۔ مگر حکومت پنجاب جو اربوں روپے سرکاری دفاتر کی تزئین و آرائش پر لگا رہی ہے اس طرح اربوں روپے سے دیہات کی صفائی کا کرنے کا پلان بنایا جا رہا ہے مگر اس وقت جبکہ ہم اپنے بڑے شہروں کو صاف نہیں رکھ پا رہے ہیں۔ کراچی، ملتان، فیصل آباد، لاہور سمیت جہاں جائیں چند مرکزی شاہرات اور پوش علاقوں کے علاوہ باقی علاقوں میں جہاں عوام کی اکثریت رہتی ہے وہاں صفائی اور سیوریج کے بدترین حالات ہیں۔

دیہات کی معیشت تو ان کی سب سے بڑی فصل یعنی گندم نہ خرید کر جب تباہ کر دی ہوئی ہے تو وہاں صفائیاں کر دینے سے ان کی زندگیوں میں کون سا انقلاب آ جائے گا۔ بس دیہات میں صفائی کے نام پر کنٹریکٹرز اور بیوروکریسی کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ اور گورنمنٹ کے فنڈز پر ہاتھ صاف کرنے کا ایک آسان منصوبہ ہاتھ آ رہا ہے۔ یہ دیکھا گیا ہے جن علاقوں کے لوگ خوشحال ہوتے ہیں وہاں خودبخود صفائی کا معیار بڑھ جاتا ہے۔ معاشی طور پر تباہ حال دیہات کو صفائی کی بجائے ان کی زراعت کی ترقی کے لئے اقدامات کر نے چاہیں۔ ان کو سولر ٹیوب ویل لگا کر دیں۔ بارانی علاقوں میں منی ڈیم بننے چاہئیں، کسانوں کے کھال پکے ہونے چاہئیں، ان کو جدید ترین بیج، زرعی مشینری اور ان کی فصلات کا پورا معاوضہ دینا چاہیے۔

عوامی مسائل حل کرنے کے لئے بجلی گیس وغیرہ کے بلوں میں کمی لانا بہت ضروری ہو چکا ہے پہلے ہی لاکھوں صارفین سولر پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اور گورنمنٹ میں بیٹھا طاقتور ترین آئی پی پیز مافیا اب سولر کے پیچھا پڑا ہوا ہے اور سورج کی روشنی پر ٹیکس لگانے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے۔ حال ہی میں اپٹما کے نام سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کے رہنما گوہر اعجاز نے آئی پی پیز سے بجلی کے معاہدے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات کرنے پر ان کو داد دینی چاہیے اگرچہ نگران حکومت میں وہ خود ایک طاقتور وزیر رہ چکے ہیں مگر اس وقت وہ ایسی کوئی تجویز نہیں پیش کر پائے۔

حکومت کو چاہیے کہ آئی پی پیز سے معاہدوں کی تجدید نہ کی جائے۔ اسی صورت میں مہنگی بجلی سے عوام کی جان چھوٹ سکتی ہے اس کی بجائے ہائیڈل سے بجلی بنائی جائے جو سستی بن سکتی ہے اس طرح سولر پلانٹس لگا کر مختلف قصبات اور گاؤں کو گھروں اور زراعت کے لئے سستی بجلی مہیا کی جائے۔ اس وقت ادویات کی خریداری بھی عوام کی استطاعت سے باہر ہو چکی ہے اس طرح تعلیمی اخراجات بڑھنے سے پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کو پڑھانا ممکن نہیں رہا اور سرکاری سکولوں کی کارکردگی اتنی خراب ہے کہ والدین وہاں بچوں کو نہیں بھیجنا چاہتے۔

سرکاری سکولوں کی حالت زار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ سرکاری ٹیچرز کی کمی پوری کرنے کے لئے نئی بھرتیاں کرنی چاہیے اس طرح بے روزگاری کے خاتمے کے لئے جہاں سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھولے جانے چاہئیں وہاں بچوں اور خاص کر بچیوں کو آئی ٹی اور ووکیشنل سکلز کے جدید ترین کورسز کروائے جانے چاہئیں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

Facebook Comments HS