مہنگی بجلی۔ مفادات کا گورکھ دھندا
بجلی کے بھاری بھرکم بلز اور موجودہ حکومتی اقدامات نے عوام الناس کا جینا دُوبھر کر دیا ہے۔ آخر ماحول دوست توانائی اور سستی بجلی کے منصوبے پاکستان میں ایک خواب کی مانند کیوں ہیں؟ جہاں دنیا بھر کے ممالک ماحول دوست توانائی کے ذریعے اپنی باسیوں کے لئے سستی بجلی بنانے کے نت نئے طریقے دریافت کرنے میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں تو وہیں دوسری جانب وطنِ عزیز کے حکمران ہیں جو مہنگی سے مہنگی بجلی بنا کر عوام کو لوٹنے میں مگن نظر آتے ہیں۔
لوڈ شیڈنگ کے ساتھ محمود ہو یا ایاز۔ مفادات کے حمام میں سب کے سب برہنہ دکھائی دیتے ہیں۔ آخر کیوں آئی پی پیز سے معاہدے کیے گئے؟ ان معاہدات میں عوام کی بھلائی و بقا کا کون سا راز مضمر ہے آخر کیوں کوئی اس پر سوال نہیں اُٹھاتا؟ تیزی سے ترقی کا سفر طے کرنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی کے اس دور میں آخر کب تک مہنگائی کے چکی میں پسے عوام مہنگی بجلی خریدتے رہیں گے؟ اس سفید ہاتھی کے بوجھ تلے آخر کب تک ملکی معیشت پستی رہے گی؟
2013 ء سے 2023 ء تک کی اس دہائی میں ان آئی پی پیز کو 18 ہزار ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں جن میں سے خریدی جانے والے بجلی کی مالیت تقریباً 9 ہزار 650 ارب روپے ہے جبکہ پیداواری گنجائش کی مد میں ان آئی پی پیز کو تقریباً 8 ہزار 350 ارب روپے کی ادائیگیاں ڈالرز میں کی جا چکی ہیں۔ جوں ہی ڈالر کی شرح بلند ہوتی ہے، بجلی بھی مہنگی ہوتی ہے جس کا فائدہ صرف اور صرف توانائی سیکٹر میں پیسہ لگانے والے سرمایہ دار طبقے کو ہوتا ہے جس سے وہ اربوں کھربوں روپے کما رہے ہیں اور دوسری جانب اسی مہنگی بجلی کے بلز غریب عوام کے لئے موت کا پروانہ بن چکے ہیں۔ ڈیم بنانے میں پرائیویٹ سیکٹر کو لایا جاتا تو نہ صرف سستی بجلی میسر ہوتی بلکہ سمندر میں ضائع ہونے والا پانی زراعت کے لئے بھی استعمال جا سکتا تھا۔ عمران خان نے تین سو چھوٹے ڈیم بنانے کا بڑا دعویٰ کیا لیکن ستم ظریفی تو دیکھئے تین بھی نہ بنا سکے۔
پاکستان میں توانائی کے برسوں پُرانے بحران میں جس کا جو کردار رہا وہ سب ہی لوگ اس قوم کے مجرم ہیں کیونکہ اُنہوں نے اپنی ذات سمیت اشرافیہ کے مفادات کی خاطر من چاہی پالیسیاں ترتیب دیں اور عوام کو کھوکھلے نعروں کی بتی کے پیچھے لگائے رکھا۔ کالاباغ سمیت نا جانے کتنے ہی ڈیم سیاست کی نذر ہو گئے جبکہ داسو اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی وہ الگ قصہ بیان کرتی ہے۔
ایسے میں عوام کی جانب سے بجلی چوری کا رجحان بھی زوروں پر ہے۔ یہ کام متعلقہ محکمے کے اہلکاروں کی سرپرستی سے ہوتا ہے اور اس چوری کو بل والے صارفین کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ہر مہذب ملک کا یہ دستور ہے کہ سہولت، پسے ہوئے طبقے کو دی جاتی ہے لیکن یہاں سہولت کا چراغ صرف اشرافیہ کے لئے جلایا جاتا ہے باقیوں کے لئے ہے تو صرف اندھیرا۔
کہنے کو تو پاکستان قدرتی دولت سے مالا مال ہے لیکن پھر بھی اس کنگال معیشت کے شکار اور آئی ایم ایف کے قرض میں جکڑے ہوئے ایک کمزور پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی حکومت سے سوال کرتا ہوں کہ آپ سے سستی بجلی کے معاہدے کیوں نہیں کیے جاتے؟ ذاتی مفادات کی خاطر اس گورکھ دھندے میں ہم عوام آخر کب تک یوں ہی پستے رہیں گے؟ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی جذباتی نوید سُنانے والے شہباز شریف آخر اس معاملے پر کب اسپیڈ دکھائیں گے؟
صرف 200 یونٹ تک والوں کے لئے ریلیف دیا گیا وہ بھی صرف تین ماہ تک کے لئے (ماشاء اللہ) ۔ حاتم طائی کو بروز حشر شرمندہ کرنے کی اس عجب سی کوشش کو آخر کیا نام دیا جائے۔ ظلِ الہیٰ 200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والے والوں کا بھی خیال کریں۔ خدارا۔ اشرافیہ دوست نہیں بلکہ عوام دوست پالیسیاں بنائیں اس کا فائدہ آپ کو آنے والے الیکشن میں بھی ہو گا اور آئی ایم ایف سے حقیقی معنوں میں چھٹکارے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔


