ہیچ ہیں سب درد مرے


یہ شاید میرے ہی ساتھ ہوتا ہو کہ جب کوئی اچھی کتاب ختم کر لی جائے تو اس پر جلد کوئی رائے یا تبصرہ تحریر نہیں ہو پاتا۔ کچھ دن اس کتاب کو محسوس کرنے میں گزر جاتے ہیں۔ چند دن تک ذہن اس کی باز آفرینی اور فکری باریکیوں میں الجھا رہتا ہے اور معنی کی نت نئی تہیں خاموشی سے کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لکھنے والے کی فنی مہارت سے تخلیق کیے گئے کئی دلگداز مناظر بار بار ذہن کے پردے پر ابھرتے ہیں اور اِک درد بھری خاموشی میں ڈوب جاتے ہیں۔

پھر لکھنے والا بھی وہ، جو نیر مسعود جیسے شاندار تخلیق کار کی ادھوری کہانیوں کی تکمیل جانتا ہو، جو بات کی تہ میں میں دانستہ معنی کی گرہیں ڈالتا ہو اور کچھ نہ کہہ کے بھی سب کچھ کہہ جاتا ہو۔ جس کا قلم تقسیم کی لکیر کے اس پار لکھتا ہو مگر دکھ یہاں وہاں کے مشترک بُنتا ہو، جسے اپنی بات کہنے میں ایسی مہارت ہو کہ کہانی ختم ہونے کے باوجود بھی باقی رہ جائے۔

ایسا ماہر کہانی کار اور کوئی نہیں ”خواب سراب“ ، ”دکھیارے“ ، ”پری زاد اور پرندے“ اور ”ہیچ“ جیسے نایاب ناول اردو ادب کو دینے والے، لکھنوی تہذیب و ثقافت کے نمائندہ ادیب انیس اشفاق ہیں۔ جن کا قلم درد، سوز، گداز، کرب اور تکلیف کا ترجمان ہے۔ وہ جو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، اسے اپنے درد بھرے لفظوں میں یوں متشکل کرتے ہیں کہ قاری اس عہد اور زمانے کے کرب سے باہر نہیں آ پاتا۔

حال ہی میں بک کارنر جہلم سے منظرِ عام پر آنے والا ان کا عصری منظر نامے کی درد بھری روداد پر مشتمل ناول ”ہیچ“ اپنے اندر برصغیر پاک و ہند کے کئی درد و کرب سمیٹے ہوئے ہے۔ تقسیم کے بعد کی صورتحال میں پاکستان آنے والوں کے ساتھ جو کچھ بھی بیتا، اس کی گواہی ہمیں قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین، شوکت صدیقی، خدیجہ مستور، انتظار حسین، مستنصر حسین تارڑ، احمد ندیم قاسمی جیسے کئی نابغوں کے ہاں صاف اور واضح نظر آئی، مگر وہاں رہ جانے والے جدائی کے کس غم و کرب سے گزرے، یہ تقسیم ان پر کتنی بھاری رہی؟ رہ جانے والوں کی اقلیت کو اکثریت نے کیسے رد کیا؟ وہ اپنی زمین پر کیسے غیر اور اجنبی ہوئے؟ ان کی تہذیب، ثقافت، زبان اور مذہب کو کن امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑا؟ خود ان کے درمیان کی شیعہ سنی فرقہ واریت و فساد نے انھیں کیا نقصان پہنچائے؟ ان سب مضطرب سوالوں کا کھرا بیان ہمارے ہاں مشکل ہی کہیں دستیاب ہو پاتا ہے۔

ناول کیا ہے، درد کا لا مختتم بیان ہے۔ ایک ایسی کسک ہے جو ناول پڑھتے ہوئے شروع ہوتی ہے اور اختتام تک زخم کی ایک ٹیس کی مانند بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہر نئے دن کے ساتھ شروع ہونے والی نئی شورشیں، تقسیم کے اس پار اور اس پار کی سیاسی منافقتیں، مقتدر گروہوں کی ہنگامہ آرائیاں، شیعہ سنی فسادات، ہندو مسلم منافرت، اقتدار کی باہمی کشاکش، منتشر سیاسی جلسے اور نفرت کا پرچار، جامعات میں سیاسی ہنگامے، حق پرستی کی تقریریں، گرفتاریاں اور تشدد۔ جانے درد کی کتنی منزلیں ہیں، جن کو سہ کر انیس اشفاق نے اس ناول کی تکمیل کی۔

ناول میں ہندوستان کی مسلم تہذیب و ثقافت، زبان و مذہب کا عصری منظر نامہ اپنی مکمل آب و تاب سے موجود ہے۔ اردو زبان کی سرکاری سطح پر ناپسندیدگی مسلم تہذیب و ثقافت کی بیخ کنی کی جانب پہلا قدم ہے۔ جسے ناول میں بڑے سلیقے سے بیان کیا گیا ہے۔ ناول کے مرکزی کردار شہنام اور اس کے ادارے کے مدیر کے مابین یہ مکالمات دیکھیے :

”اردو وہ کوئی بھی حکومت ہو اس کے حلق سے نہیں اترتی۔ اس ادارے کو فقط ہماری آپ کی منہ بھرائی کے لیے بنایا گیا ہے۔ اردو کو اس کا حق دینا ان کو گوارا نہیں۔

اردو کو دیس نکالا تبھی مل گیا تھا، جب یہ ملک آزاد ہوا تھا۔ یہاں امین الدولہ پارک ہے، وہاں ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں ”ہندوستان“ موٹے حروف میں لکھا ہوا تھا۔ عین 15 اگست والے دن کسی نے اردو والی تحریر مٹا دی۔“

ایک کثیر مذہبی و متنوع الثقافتی خطہ جو صدیوں سے مختلف تہذیبوں کے ملاپ کا مرکز اور علم و تمدن کا گہوارہ رہا اب وہاں مسلم تہذیب و ثقافت کس اجنبیت کا شکار ہے، وہ اس تکلیف کو اپنے ناول کے کرداروں کی زبانی کچھ یوں بیان کرتے ہیں :

” یہ کہ ہمارے بارے میں وہ سب ایک ہی طرح سوچتے ہیں۔ یہاں کی زمین پر ہمارا ہونا انھیں اچھا نہیں لگتا۔

زہر کی یہ لہر سب طرف ایک ہی طرح بہتی ہے۔ عرب ہو کہ عجم، اسے اپنی مملکت میں اپنے ہی لوگ چاہئیں۔ اپنے ہاں دوسروں کے پیر جمنے کے وہ بھی روادار نہیں۔ بس مسافروں کی طرح خیمے لگائیے، اکھاڑیے اور چلتے بنیے۔“

ناول جو لکھنؤ کی خاص تہذیبی فضا سے معطر ہے۔ ابتداء میں شیعہ سنی اتحاد اور امن کی مقدس فضا کا عکاس ہے، جہاں تقسیم کی اذیت ہر جانے والے کے چہرے پر رقم ہے۔ یہاں جدائی کا کرب اپنے اندر کئی محبتوں اور مجبوریوں کی کہانیوں کو سمیٹے ہوئے ہے، پھر امن اور تہذیب کا یہ گہوارہ کیسے شیعہ سنی فسادات کی لپیٹ میں آ کر اجڑتا ہے اس درد کے بیان کو انیس اشفاق نے بڑی مہارت سے اپنے ناول کا حصہ بنایا ہے۔ ناول کا ایک منظر ملاحظہ کیجیے جہاں ناول کی مرکزی کردار شہلا ان فرقہ ورانہ فسادات پر دکھ سے اپنے مالک مکان سے کہتی ہے :

”میں نے فساد کے زمانے میں انھیں یہیں چھپایا تھا۔“
”کون سا فساد؟“
”ارے وہی جس سے لکھنؤ پہچانا جاتا ہے، شیعہ، سنی۔“

”کبھی لکھنؤ کے ذکر میں یہاں کی تہذیب کا نام لیا جاتا تھا، اب یہاں کا ذکر آتے ہی لوگ ان فرقہ ورانہ جھگڑوں کا ذکر کرتے ہیں۔“

یہ ناول یادوں کا چلتا پھرتا منظر نامہ ہے۔ جہاں پرانے مکانوں کے مکینوں کی اپنے بچھڑے مکانوں سے انسیت، ہرے بھرے اشجار سے محبت اور ہوا میں اڑتے پنچھیوں سے قلبی وابستگی ناول کی ایک ایک سطر سے صاف جھلکتی ہے۔ مالک مکان کے باپ کی اسے نصیحت ملاحظہ کیجیے :

”پیڑ اس لیے نہیں کٹوانا کہ میں ایسے ہی پیڑوں پر چڑھ کر اور ان کے پھل توڑ کر بڑا ہوا ہوں۔ ان کی ایک شاخ بھی کٹی تو جانو میری سانس رکی۔ دیوار تڑوانے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ایک آدھ اینٹ پتھر کی نشانی رہنے دو۔ مکین کبھی نہ کبھی اپنے پرانے مکان کی طرف ضرور آتا ہے اور جب وہ آئے تو اس مکان میں کچھ تو ایسا ہو، جسے وہ اپنے ہاتھوں سے چھو سکے اور ہونٹوں سے چوم سکے۔“

ناول کا اختصاص صرف ہندوستان کے حالات کا بیان نہیں بلکہ تقسیم کے اس پار پاکستان کے درد بھرے حالات کا بیان بھی ہے۔ یہاں کی غیر متوازن حکومتوں، سیاسی شورشوں اور اقتدار کے لیے فوجی آمروں کی کشاکش کو وہ اپنے ناول کے کرداروں سے کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ:

”جب سے وہاں فوجی حکومت آئی ہے، سختیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔“

”وہاں فوجی حکومت پہلی بار تو نہیں آئی۔“ میں نے کہا۔ ”ایسا لگتا ہے وہاں کے لوگوں کو فوجی نظام ہی راس آتا ہے۔“

”نہیں، سب کو نہیں۔ اس نظام کے خلاف آوازیں بھی اٹھتی ہیں۔“ شہلا نے کہا۔

”ہم تو جمہوریت کی دہائی دے کر زبان کھولتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ منہ کھولنے کا مطلب معتوب ہونا ہے۔ بولتے ہیں اور کھل کر بولتے ہیں۔“ یہ کہہ کر شہلا نے مجھ سے پوچھا، اب بتاؤ وہ زیادہ بہادر ہیں کہ ہم؟ ”

ہندوستان کے سیاسی افق کی تاریک چیرہ دستیوں کو بیان کرنے میں انیس اشفاق کا یہ ایک ہی جملہ بے مثل ہے۔ ذرا دیکھیے :

”جب الیکشن کا طوفان تھم گیا تو شہلا نے اپنے ایک خط میں صرف اتنا لکھا:
” وہی ہوا جو ہونا تھا، اور اب وہی ہو گا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔“

ناول پڑھتے ہوئے درد و تکلیف کی اذیت اس مقام پر بڑھ جاتی ہے جب وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامے کو اپنے قلم سے کسی کرب کی مانند تحریر کرتے ہیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ اپنے اندر کیسے کیسے سیاسی اتار چڑھاؤ اور سفاک واقعات کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور جمہوریت کے خاتمے پر ذرا انیس اشفاق کی تاریخی بصیرت ملاحظہ کیجیے :

”ایک وردی پوش حاکم کے تیار کیے محضر نامے پر، انصاف کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص نے مہر لگا دی۔ اور یہ مہر لگاتے وقت اس کے ہاتھوں میں لرزش تک نہ ہوئی۔ اگر یہی حال رہا تو دنیا سے عدل معدوم ہو جائے گا۔ میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتی ہوں اندر سے لرز اٹھتی ہوں۔“ شہلا نے دکھ سے کہا۔ ”

ہماری تاریخ کی اسی تلخ اذیت کا ایک اور کرب بھرا بیان دیکھیے :

”ایک تنگ کوٹھڑی میں اپنی موت سے آگاہ ایک شخص، بے کس و بے مایہ۔ جسم پر بے خوفی کا جامہ پہن کر اپنی موت کا انتظار کرتا ہوا۔ سیاہ آسمان کے سائے میں ایک ماں اور ایک بیٹی، اپنے شوہر اور اپنے باپ کا آخری دیدار کرنے، اس کے آخری الفاظ سننے اپنے گھر سے نکلتی ہوئی اور تنگ کوٹھڑی کے قریب پہنچ کر اس سے ملنے کی اجازت مانگتی ہوئی۔ اور اجازت نہ ملنے پر قیدی کا حسرت سے ہاتھ بڑھا کر آخری بار دیکھے جانے والے ہاتھوں کو چھونا۔“

”اٹھتے بیٹھتے خدا کا نام لینے والوں کی بستی میں خدا کی یہ ان دیکھی۔ اللہ کی پناہ!“

ناول کے یہ سبھی مناظر اور ان کا ہولناک بیان قاری کو پل پل ایسے کچوکے لگاتا ہے کہ وہ سنبھل نہیں پاتا۔ گزرتے وقت یہی وہ المناک حادثات و صدمات ہیں جن کو جھیلتے جھیلتے کسی بھی حساس اور باشعور شخص کا عقل و خرد سے ماورا ہو جانا اچنبھے کی بات نہیں۔ یہی بات ناول کی مرکزی کردار شہلا کی زبانی دیکھیے :

”میں نے سلاخوں سے دوستی کر لی ہے۔ میرے لیے دونوں جگہیں ایک سی ہیں۔ باہر کی دنیا بھی کسی قید سے کم نہیں۔ جیل میں اگر کم اور تنگ جگہ میں گھٹن ہوتی ہے تو باہر کی کھلی ہوئی جگہ میں بھی گھٹن ہے۔ اور کھلی ہوئی جگہ کی گھٹن تنگ جگہ کی گھٹن سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ یہ گھٹن میں جانتی ہوں کم نہیں ہوگی۔ لیکن اسے کم کرنے کی کوشش تو کرتے ہی رہنی چاہیے۔“

وہ تاریخ کے ہر ہولناک تاریک عکس کو جان کر یہ بات سمجھ جاتی ہے کہ ہم سب امن کے داعی و محبت پیامبر درحقیقت اپنی تاریخ قلم سے نہیں خون سے رقم کرتے ہیں۔ ہم ظلم کی انتہاؤں پر کھڑے لوگ ہیں جو اپنے جیسے انسانوں کو جینے کا حق کبھی نہیں دیتے اور یہی شعور و ادراک ہماری بے سکونی کا نقطہ آغاز ہے۔ اس خطے کی تلخ تاریخ کا ایک واقعہ رقم کرتے ہوئے وہ اپنے اسی خدشے کا اظہار کرتی ہے :

” 57 ء میں، میں نے پڑھا ہے کہ اس سڑک پہ کتنی لاشیں بچھا دی گئی تھیں۔ اور عبرت کے لیے انھیں دونوں طرف کے درختوں پر بھی لٹکایا گیا تھا۔ کتنا خون بہہ گیا تھا۔ یہ سب پڑھتے ہوئے اور یہ سب جو ہو رہا ہے دیکھتے ہوئے کہیں میں۔ پاگل ہی نہ ہو جاؤں۔“

ماضی و حال کے ایسے ہولناک حالات کی سنگینی کو ایک حساس اور باشعور انسان کہاں تک جھیل سکتا ہے۔ ناول کی مرکزی کردار شہلا کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ اس درد بھری اذیت کا تاوان اس کا سوچنے والا ذہن ہے۔ جو ان صدمات کو جھیل نہیں پاتا۔ موت اس ناول کا سب سے بڑا موضوع ہے، جو پورے ناول پہ کسی آسیب کی مانند چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اختتام میں اس کی دبے پاؤں آہٹ کو قاری کو اپنے دل پر محسوس ہوتی ہے۔

انیس اشفاق کا یہ ناول اپنے اہم عصری موضوعات، تاریخی بصیرت، مضبوط اور باشعور نسائی کرداروں، درد بھرے مناظر کی عکاسی، زبان و بیان کی دلکشی اور مکالمات کی فکری سنجیدگی کے سبب اردو ادب میں ہمیشہ یاد رکھا جانے والا ناول ہے۔ کیسی دلچسپ بات ہے کہ کتاب کا عنوان اور سرورق اپنے اندر کے کرب کا حقیقی ترجمان ہے۔

محترم انیس اشفاق صاحب کو ایسے عمدہ و یادگار ناول کی تخلیق پر دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں۔ بک کارنر جہلم کے محترم گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کے خلوص کا خصوصی شکریہ کہ جنھوں نے ایسے عمدہ فن پارے کی ہم پاکستانی قارئین تک رسائی کو ممکن و سہل بنایا۔ سلامت رہیں تمام اہلِ علم و ادب!

Facebook Comments HS