درویش صفت استاد
بچوں کو صبح سویرے جگایا جاتا۔ صبح کی نماز کے بعد وہ سپارہ پڑھنے کے لیے باجیوں کے پاس چلے جاتے۔ تین بیٹیوں اور ایک والدہ پر مشتمل یہ گھرانا سارے محلے میں باجیوں کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سارے محلے کے بچے صبح شام باقاعدگی کے ساتھ باجیوں کے پاس سپارہ پڑھنے کے لیے جایا کرتے۔ واپس آتے تو وقت کی کمی کے باعث تم جلدی جلدی انہیں نہلا دھلا کر تیار کرتیں۔ یونیفارم پہناتے وقت کسی کی ٹائی گم ہوتی۔ کسی کا سکول بیج نہ ملتا۔
کسی کی پانی کی بوتل کی ڈھنڈیا پڑ جاتیں۔ اس مختصر سے وقت میں بچوں کو ناشتہ کروانا۔ مکمل یونیفارم پہنانا۔ ان کا بستہ اور دوپہر کے کھانے کے لیے ٹفن تیار کرانا روز مرہ کا معمول تھا۔ اگر میرے پاس وقت ہوتا تو میں انہیں سکول میں چھوڑتا ہوا آگے چلا جاتا۔ دوسری صورت میں تم انہیں انگلی لگا کر سکول چھوڑ دیتیں۔ ڈیڑھ دو بجے کے قریب بچے گھر آتے۔ کھانا وغیرہ کھا کر سکول کا دیا ہوا ہوم ورک کرنے بیٹھ جاتے۔ سکول والے بھی بچوں کی عمر کا دھیان کیے بغیر خوب دبا کے گھر کا کام دینے لکھتے لکھتے بچوں کی انگلیاں درد کرنے لگ جاتیں۔
یہاں سے فارغ ہو کر وہ باجیوں کے پاس ٹیوشن پڑھنے چلے جاتے۔ مغرب کے وقت واپس آتے۔ میں خود بھی سکول ٹیچر تھا۔ حصول علم کی اس دوڑ میں اپنا حصہ ڈالنا ضروری خیال کرتے ہوئے مغرب سے عشاء تک میں بھی ان پر خصوصی توجہ دیا کرتا۔ عشاء کے بعد میں تو کلب چلا جاتا اور بچے اپنا سکول کا یاد کرنے والا کام کرنے میں مصروف ہو جاتے۔ بلال پانچویں جماعت میں تھا اور اصفیٰ اور آمنہ بالترتیب تیسری اور پہلی کلاس میں تھے۔ جب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو بہت ظالمانہ ٹائم ٹیبل ہے۔
انہیں کھیل اور آرام کے لیے بھی وقت دیا جانا چاہیے۔ گھر کے پاس ہی میری اکیڈمی تھی۔ جہاں دو بڑے بڑے کمرے موجود تھے۔ وہاں میں نے دو کمرے اور ایک بڑا سا برآمدہ مزید تعمیر کروایا۔ بی ٹی ایم ہائی سکول کے ایک ریٹائرڈ ٹیچر طفیل صاحب کو اپنے ساتھ ملا کر اس اکیڈمی کو ایک چھوٹے سے سکول کی شکل دے دی گئی۔ بچوں کو ٹیوشن پڑھانے والی ایک باجی کو بھی یہاں سکول ٹیچر کے طور پر تعینات کر دیا گیا۔ اس سکول میں سب سے پہلے داخل ہونے والے بچے ہمارے بچے بلال اصفیٰ اور آمنہ تھے۔
طفیل صاحب کو ہدایت کر دی گئی۔ کہ صبح آتے وقت بچوں کو وضو کروا کر سپارہ پڑھایا جائے گا۔ اور بچوں کو کوئی ہوم ورک نہیں دیا جائے گا۔ آپ یقین مانیں کہ وہ بچے جن کو چوبیس گھنٹوں میں بمشکل آٹھ گھنٹے سونے کے لیے ملتے تھے۔ باقی سولہ گھنٹے ہر وقت پڑھائی پڑھائی اور پڑھائی۔ اب بڑی موج میں تھے۔ صرف سکول کے اوقات کار میں ہی مصروف ہوتے۔ باقی اٹھارہ گھنٹے وہ بالکل فارغ۔ بس مغرب سے عشاء کے درمیان میں انہیں دیکھ لیا کرتا۔
اس ٹائم ٹیبل میں رہتے ہوئے ان کی تعلیمی کارگردگی پہلے سے کہیں بہتر تھی۔ طفیل صاحب بہت ہی نیک اور فرشتہ صفت انسان تھے۔ ان کے چہرے پر ہر وقت چھایا رہنے والا سکون اور اطمینان باری تعالیٰ کی ذات پر ان کے بھروسے اور توکل کا مظہر تھا۔ میں نے ان کی زبان سے کبھی کسی شخص کی برائی نہیں سنی۔ بہت دھیمی آواز میں بات کیا کرتے۔ اختلاف رائے کی صورت میں عموماً بحث و تکرار کی بجائے کنارہ کشی کرنے کو ترجیح دیا کرتا۔
بلال کا فرسٹ ایر کا نتیجہ آیا۔ تو اس کے حاصل کردہ نمبر متوقع نمبروں سے کچھ کم تھے۔ مجھے مایوسی بھی ہوئی اور بلال کی ناقص کارکردگی پر غصہ بھی آیا۔ میں بلال کو اخلاقی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے ایک بہت اچھا ڈاکٹر دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ شاید ان اردو اور پنجابی فلموں کا اثر تھا۔ جو میں نے اپنی نوجوانی کے دور میں وافر مقدار میں دیکھی تھیں۔ جہاں ڈاکٹر کو ہمیشہ ایک سحر انگیز شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اب بلال کے ساتھ میرے رویے میں سرد مہری اور سختی آتی جا رہی تھی۔
حالاں کہ اب تک میں نے اسے بالکل دوستوں کی طرح رکھا تھا۔ شام کو کلب جاتے وقت عموماً اسے بھی ساتھ لے جایا کرتا۔ میرے اس بدلے ہوئے رویے کو تم نے بڑی شدت سے محسوس کیا اور باتوں باتوں میں مجھے سمجھانے کی کوشش کی۔ کہ چلو کوئی بات نہیں کوئی ڈاکٹر بننا ضروری ہے اور بھی بہت سے کام ہیں۔ جن کی بدولت انسان معاشرے میں عزت کی زندگی گزار سکتا ہے۔ بہر حال میں ایک ایسے چکنے گھڑے کی شکل اختیار کرچکا تھا۔ جس پر وعظ و نصیحت کی ایسی پڑنے والی چند بوندیں قطعاً بے اثر تھیں۔
ایک دن تم سکول میں گئیں۔ وہاں طفیل صاحب کو اس ساری صورت حال سے آگاہ کر دیا۔ طفیل صاحب کی نیک سرشت شخصیت سے تم بھی بہت متاثر تھیں۔ طفیل صاحب نے تمہیں ان الفاظ میں تسلی دیں۔ آپ نے بالکل گھبرانا نہیں اور خالد صاحب کو بھی بتا دیں۔ کہ وہ بھی نہ گھبرائیں۔ بلال نے انشاء اللہ ڈاکٹر بن جانا ہے۔ بلکہ صرف بلال نے ہی نہیں آپ کے سبھی بچوں نے ڈاکٹر بن جانا ہے۔ تم نے خوشی خوشی گھر آ کر مجھے یہ سب بتایا۔ تو میں نے میں سب جانتا ہوں کی کیفیت میں جواب دیا کہ انہیں کیا پتہ ہے۔ وہ تو اس دوڑ سے ہی باہر ہو گیا ہے۔ اب ڈاکٹر کیا خاک بنے گا۔ لیکن اس درویش صفت انسان کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ بلال کو اسی سال کے آخر میں شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان میں سیلف فنانس بنیاد پر ایڈمشن مل گیا۔ اگلے سال کیوبن گورنمنٹ کے میڈیکل ایجوکیشن کے لیے سکالر شپس آئے۔ بلال نے بھی درخواست گزار دی۔ وہاں بھی وہ میرٹ پر منتخب ہو گیا۔ اور شیخ زید میڈیکل کالج کو چھوڑ کر کیوبا چلا گیا۔ اور وہاں سے ایم بی بی ایس کر کے واپس آیا۔ اور آج کل وہ بوریوالا میں ہی میڈیکل سپیشلسٹ کے طور پر اور اس کی اہلیہ سکن سپیشلسٹ کے طور پر اپنا ایک چھوٹا سا سیٹ اپ چلا رہے ہیں۔
بلال کے بعد اصفیٰ نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے ویژن سائنسز میں ماسٹر ڈگری حاصل کی اور وہ آج کل آسٹریلیا میں ہے۔ جہاں وہ اپنی تعلیم کے لحاظ سے ایک آپٹومیٹرسٹ ہے۔ جو آنکھوں کا ڈاکٹر کہلاتا ہے۔ آمنہ نے ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری حاصل کی۔ اور مائرہ نے علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کر لیا۔ اور ہمارا سب سے چھوٹا بیٹا پنجاب یونیورسٹی سے ایچ آر میں ماسٹر کر رہا ہے۔ ہمارے چار بچوں کی حد تک طفیل صاحب کی پیش گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔ بدر کا اب میڈیکل کے شعبے میں جانے کا تو کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن شاید وہ پی ایچ ڈی کر کے طفیل صاحب کی کہی گئی بات کو سچ ثابت کر دکھائے۔ واللہ اعلم بالصواب


