ضلعی عدلیہ کے مسائل اور ان کا حل


کسی بھی محاذ پر لڑنے کے لیے ہراول دستہ ہی سب سے اہم ہوتا ہے اگر اوپنر پرفارم نہ کر سکیں تو میچ جیتنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نظام عدل میں اصل ہیروز ضلعی عدلیہ ہے جو تمام تر قلعتوں کے باوجود اچھا پرفارم کرنے کی کوشش میں ہے۔ جوڈیشری میں سب سے زیادہ ورک لوڈ ججز کی کمی کا شکار ضلعی عدلیہ پر ہے۔ اندازہ لگائیں کے پنجاب میں 2015 سے آج تک صرف ایک سو نو (109) نئے سول ججز بھرتی کیے گے جب کہ کافی ریٹائرڈ بھی ہو گے جبکہ صرف لاہور میں ایک دن میں کئی سو نئے مقدمات دائر ہوتے ہیں۔ ججز کی تقرری میں سخت پالیسی اور ضرورت کے مطابق ججز بھرتی نہ کرنا موجودہ جج صاحبان کی پروموشن میں بھی رکاوٹ ہے، کمال یہ ہے کہ 2008 میں سول جج بھرتی ہونے والا بیچ سولہ سال سروس کرنے کے باوجود آج بھی سول جج ہے۔

اور سونے پر سہاگا یہ کہ سول جج کو میرٹ پر ایڈیشنل سیشن جج کے امتحان میں حصہ لینے کی بھی اجازت نہیں ہے، کوئی بتائے کہ صرف پٹواری ہی وہ واحد شخص ہے جو پروموشن کا خواہشمند نہیں ہوتا اور پٹواری ہی فوت ہونا چاہتا ہے باقی تمام لوگ ترقی کرنا چاہتیں ہیں اور سول جج بھرتی ہونے والے دوست بھی محنت کر کے ترقی و پروموشن چاہیے ہیں۔ صرف legal acumen کے نام پر ڈیفر کرنا تو ظلم ہے۔ کیونکہ اگر آپ ایک طرف تو اس کی کم قانونی ذہانت پر ڈیفر کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ قتل جیسے سنگین مقدمات کے فیصلے کر رہا ہے اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے تو مجھے تو لگتا ہے کہ پھر ڈیفر کرنے والوں کا legal acumen کم ہے۔

پورے ملک کی طرح جوڈیشری میں بھی دو طبقاتی نظام ہے، اگر ہفتہ کا روز ہائی کورٹ کے ججز کے لیے ججمنٹ ڈے ہے تو ضلعی عدلیہ کے لئے ججمنٹ ڈے کیوں نہیں، اگر ہفتہ والے دن عدالت کرنا ضروری ہے تو اعلی عدلیہ کے لئے بھی ضروری ہے اور اگر سٹریس سے بچنے اور زیرالتوا فیصلے کرنے کے لیے اعلی عدلیہ کی ضرورت ہے تو وہی ضرورت ضلعی عدلیہ کی بھی ہے، نبی کریم کا فرمان ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیے بھی وہ ہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، مگر ہم خود کو براہمن اور ماتحتوں کو شودر سمجھتے ہیں جو کم از کم عقلمندی کا ثبوت نہ ہے۔

بہترین کام بہترین ماحول میں ہی ممکن ہوتا ہے اور وہ ماحول ضلعی عدلیہ کو میسر نہیں ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں واقع ضلعی عدلیہ کے کمرہ عدالت، اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے واش رومز سے بھی تنگ ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ”اگر کام ایک جیسا تو معاوضہ بھی ایک جیسا“ مگر ضلعی عدلیہ سے کام تو عدلیہ میں سب سے زیادہ لیا جاتا مگر تنخواہ اور مراعات سب سے کم، بڑے شہروں میں ججز کے پاس سرکاری رہائشیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک تو ظلم یہ کہ صادق آباد سے لاہور ٹرانسفر اوپر سے رہائش کوئی نہیں کیا کبھی صاحبان اقتدار نے سوچا کہ منصفوں کو بھی انصاف دیا جائے؟ گھر سے مناسب فاصلہ پر تعیناتی اور مناسب سرکاری رہائش ان کا بھی بنیادی حق ہونا چاہیں، کبھی کوئی سروے کروا لے کہ کتنے ججز کے پاس اپنے گھر ہیں اور کیا کوئی شخص اس تنخواہ میں اپنا گھر بنا سکتا ہے یقیناً جواب نفی میں ہو گا تو انہیں بچوں کے لئے دائمی چھت تو دیں یا کم از کم بغیر سود کے گھر کے لیے قرضہ ہی دے دیں۔ روٹی، کپڑا مکان تو ان کا بھی بنیادی حق ہے۔

میں پچھلے دس سال سے وکالت کر رہا ہوں، ایک بہترین کالج میں قانون پڑھاتا ہوں، تحصیل بار کی بطور جنرل سیکرٹری نمائندگی بھی کر چکا ہوں، یقین مانیں میں نے ضلعی عدلیہ کے اکثر جج صاحبان کو اعلی عدلیہ سے زیادہ محنتی اور عزت کرنے والا پایا ہے۔ برے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ضلعی عدلیہ میں بھی چند لوگوں کو اپنے آپ کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت موجود ہے، شائستگی، تحمل اور دوسروں کو عزت دینا انصاف رائج کرنے کی پہلی ترجیح ہوتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک آپ عدلیہ کے اس ہراول دستے، ضلعی عدلیہ کے ججز کو اپگریڈ نہیں کری گے، ان کی تعداد نہیں بڑھائیں گے، ان کے مسائل حل نہیں کریں گے انہیں آسانیاں مہیا نہیں کریں گے تب تک وہ بہترین پرفارمنس نہیں دے سکیں گے اور تب تک ادارہ انصاف پر لوگوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا۔ جب تک آپ کا فرنٹ لائن پر بیٹھا منصف خود انصاف کا متلاشی رہے گا تب تک عدلیہ مسائل میں گھری رہے گی۔

آئین کہتا ہے کہ عدلیہ آزاد ہو گی اور فوج حکومت کے تابع ہو گی مگر پتہ ہے کہ میرے ملک میں فوج آزاد اور عدلیہ تابع کیوں ہے کیونکہ وہ جنگل میں کھڑے اپنے سپاہی کو بھی وقت پر روٹی، اسے اور اس کی فیملی کو علاج و رہائش اور ریٹائرمنٹ کے بعد تحفظ دیتی ہے اور آپ کا جج سروس میں ہوتے ہوئے ٹھوکریں کھاتا ہے، اس کی عدالت کو چند لوگ تالا لگا دیتے ہیں اس کے باوجود کہ تالا لگانے والوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا وہ بچارا اگلے دن پھر وہی عدالت کر رہا ہوتا ہے۔ وڈے قاضی صاحب یا آنے والے چیف جسٹس پاکستان کو چاہیں کہ عدلیہ کو ہر طرح کے پریشر سے آزاد کریں خاص طور پر ضلعی عدلیہ کے ججز کے تنگ کمرہ عدالت، سرکاری و ذاتی رہائش، دور دراز کی پوسٹنگ، غیر فطری ورک لوڈ، کم تنخواہ و سہولیات کی کمی جیسے پریشر سے ضرور آزاد کریں۔

پالیسی کی بجائے ہر کیس کو میرٹ پر فیصلہ کرنے کی بھی آزادی دیں اور اس کے بعد سخت ترین احتساب کریں۔ کام نہ کرنے، نالائقی یا ذاتی مفاد میں خلاف قانون فیصلہ کرنے والوں کی گرفت کریں اور ان سے ادارہ کو پاک کریں۔ یقین مانیں عدلیہ آئین کے مطابق آزاد ہو جائے گی۔ اور آزاد اور طاقتور عدلیہ ہی ملک کی عوام کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور آئین کی محافظ ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اگر پولیس کی طرز پر جوڈیشل فورس بھی بنانی پڑھے تو گریز نہ کریں۔

آزاد عدلیہ ایک بہترین، بولڈ اور اہل بار کے بغیر بھی ممکن نہیں، بنچ کو چاہیے کہ وہ بار کو اپنا ضروری حصہ سمجھے، بار کا بھرپور تعاون آزاد عدلیہ کی پہلی سیڑھی ہے۔ بار اور بنچ کی لڑائی دراصل ”تقسیم کرو اور حکومت کرو” پالیسی کا تسلسل ہے۔ بار کو بھی چاہیے کہ اپنا سخت احتساب یقینی بنائے۔ زیر التوا مقدمات کا فوری فیصلہ کرنے سے بھی بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے، اس مقصد کے لیے موجودہ ججز کو سپیشل پیکج دے کر جوڈیشل ایمرجنسی لگاتے ہوئے عدالتی اوقات کار 12 گھنٹے کر دیں یا ایڈہاک ججز بھرتی کر کے اسی انفراسٹرکچر میں شام میں عدالتیں لگا کر تمام زیر التوا مقدمات کا حل نکالیں اور بعد میں ہر طرح کے مقدمات کے فیصلہ کے وقت تعین کر کے اس پر سختی سے عمل کروائیں۔

اس سے بڑا ظلم اور نا انصافی کیا ہو گی کہ اعلیٰ عدلیہ جوڈیشل فیصلوں میں تو لکھے کہ ہر کیس کے اپنے حقائق ہوتے ہیں اور انہیں حقائق پر فیصلہ ہو مگر ضلعی عدلیہ کو آف دی ریکارڈ پالیسی دی جائے کہ حقائق کی بجائے پالیسی کو پریفر کیا جائے۔ لوگ بیرونی پریشر سے آزاد عدلیہ کے خواہشمند ہیں مگر ضلعی عدلیہ کو کو اندرونی پریشر سے بھی آزادی درکار ہے۔ ایک بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ضلعی عدلیہ کی آزادی ہی آزاد عدلیہ کا تصور پورا کر سکتی ہے۔ آئیں مل کر عدلیہ کی آزادی، بہتری اور ضلعی عدلیہ کے ججز کے حقوق کی کوشش کرتے رہیں۔ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔

Facebook Comments HS

One thought on “ضلعی عدلیہ کے مسائل اور ان کا حل

  • 18/07/2024 at 6:49 صبح
    Permalink

    ماشاء اللہ
    بہت عمدہ کاوش اپنے پروفیشن سے مطلقہ مسائل کے حل کے لئے بہترین تحریر

Comments are closed.