آخری مدت استعمال


ہم جب دکان سے ڈبل روٹی لیتے ہیں تو وہ یا تو سخت کھٹی ہوتی ہے یا بدبودار ہوتی ہے۔ لیکن دکاندار کہتا ہے کہ پرچی دیکھ لو، ابھی اس ڈبل روٹی کی آخری مدت استعمال کی تاریخ نہیں آئی ہے۔

دوائیوں پر بھی کچھ ایسی ہی مدت استعمال لکھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض دوائیاں فائدہ نہیں دیتیں کیونکہ اس دوائی کو سرد اور گرم سے بچانے کے لیے جو درجہ حرارت درج ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ شدید درجہ حرارت پر رکھی جاتی ہیں۔ اکثر میڈیکل سٹوروں میں دھوپ کی شدت سے بچانے کا انتظام نہیں ہوتا۔ شکایت پر دکاندار کہہ دیتے ہیں کہ دیکھ لیجیے، دوائی کی آخری مدت استعمال ابھی باقی ہے۔

لیکن اس سے ہوتا یہ ہے کہ دوائی جس مقصد کے لیے بنائی جاتی ہے، اس کے لیے کارآمد نہیں رہتی جیسے کہ ایک لطیفہ ہے کہ ایک مکھی نے مرنے کے لیے زہر کھایا تو اسے چند ڈکار آئے اور ہاضمہ ٹھیک ہو گیا۔ اور وہ پھدک کر اپنا کام کرنے لگی۔ ہم ذاتی طور پر دو افراد سے واقف ہیں کہ جنھوں نے کھانسی کے خاتمے کے لیے کھانسی کی گولیاں لیں تو ان کا پیٹ خراب ہو گیا۔

یعنی اس لا پروائی سے دوائی کچھ کا کچھ کر دیتی ہے۔

میڈیکل کی دکانوں کو چاہیے کہ اپنی دواؤں کو گرمی اور دھوپ سے بچائیں۔ دکان کے اندر کا درجۂ حرارت اتنا برقرار رکھیں کہ جتنا دواؤں کے اندر پرچی پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے اپنی دکانوں کے اندر براہ راست دھوپ کے آنے سے بچاؤ کے لیے پردوں کا انتظام کریں، دکان کے اندر روم کولر لگے ہوں تاکہ اندر کا درجہ حرارت ٹھنڈا رہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم دکانداروں کے لیے زیادہ اخراجات کا کہہ رہے ہیں تو یاد رہے کہ میڈیکل کا کاروبار لاکھوں بلکہ کروڑوں سے شروع ہوتا ہے۔ ائر کنڈیشنر کا اس لیے نہیں کہہ رہے کیونکہ یہ ماحول کے لیے مضر ہے، یہ اندر کا درجہ حرارت تو کم کر دیتا ہے لیکن باہر کا زیادہ گرم کر رہا ہے۔

اکثر حکیمی دوائیوں پر آخری مدت استعمال درج نہیں ہوتی حالانکہ ہمارا تجربہ ہے کہ وہ بھی کچھ عرصے بعد خراب ہوجاتی ہیں۔

Facebook Comments HS