کپتان کی سیاست


پی ٹی آئی کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی درحقیقت اس کی بڑی ناکامی بن جاتی ہے۔ سرکاری ملازم کی بنیاد پر کامیابی کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سسٹم کے اندر موجود افراد کو ایکسپوز کر دیتی ہے۔ لاہور کا ایک۔ پشاور کے دو۔ منگلا کا ایک کورکمانڈر اور کئی دیگر جگہوں پر فوج میں کپتان کی سرپرستی کرنے والے ہٹا دیے گئے۔ غیر اہم بنا دیے گئے یا ریٹائر کر دیے گئے۔

اسی طرح جج صاحبان کی حقیقی تعداد نشستیں دلانے کے بے فائدہ اور فضول ترین شوق میں کام آ گئی ہے۔ سسٹم اب انہیں اگل (eject) دے گا۔

روز اول سے بلکہ عمران خان کی سیاست کے پہلے روز سے لکھ رہا ہوں کہ عمران خان کو پوری دنیا بھی چاہے تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ عمران خان کسی فوج کا کمانڈر نہیں ہے کہ حملہ کرے ایوان صدر پر قبضہ کرے اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہونے کا دعوی کر دے۔

عمران خان بالآخر ایک سویلین ہے۔ جسے ایک الیکشن لڑ کے اقتدار میں انا ہے۔ سویلین کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ڈائیلاگ کرنے کے لیے آمادہ ہو اور ڈائیلاگ میں کچھ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ عمران خان فطری طور پر ان دونوں صلاحیتوں سے محروم ہے۔ جب تک عمران خان کے اندر مخالفین سے ڈائیلاگ کرنے اور مخالفین کے لیے سپیس دینے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوگی۔ اس وقت تک عمران خان کا ہر بڑے سے بڑا داؤ ضائع ہو گا اور ہر بڑے سے بڑا حامی مایوس ہو کر ختم ہو جائے گا۔

سیاسی عمل کی بنیاد ’مخالف سے ڈائیلاگ کرنا گفتگو کے ذریعے اپنی بات منوانا اور اپنی بات منوانے کے لیے اپنے ٹارگٹ کے علاوہ سب کچھ مخالف کے حق میں ترک کر دینا ہوتا ہے۔

آصف علی زرداری نے این ایف سی ایوارڈ کے لیے اس وقت عدالتی فورم کو مکمل طور پر ترک کیا اور 2008 سے 2013 تک فوجی بالادستی کو بھی چیلنج نہیں کیا۔ جب اس نے معاشی طور پر صوبائی خود مختاری حاصل کر لی تو آج وہ اگلے قدم کے لیے تیار ہے اور موجودہ لڑائی میں ہر صورت میں عدالتی محاذ کو پارلیمان کے جھنڈے تلے لانے میں اس کی کامیابی یقینی دکھائی دے رہی ہے۔

جب بھی عدالتی محاذ پر کامیابی آصف علی زرداری یا پیپلز پارٹی کو حاصل ہو جائے گی تو اس کے بعد فوج تنہا طویل عرصہ تک مزاحمت کرنے کے لائق نہیں رہے گی اور پالیسی اور فوج پر بھی پارلیمان کو کمان حاصل ہو جائے گی۔

اس لیے موجودہ صورتحال میں ریاستی بندوبست کے اندر سے جو سسٹم بھی عمران خان کی مدد کرے گا وہ صرف ہو جائے گا کنزیوم ہو جائے گا خرچ ہو جائے گا مگر عمران خان کو کچھ نہیں دے سکے گا۔ کیونکہ عمران خان بنیادی طور پر جمہوری۔ پارلیمانی اور سیاسی مٹیریل نہیں ہے۔

Facebook Comments HS