راجہ غلام محی الدین (پہلوان بہادر)
ضلع غذر ماضی قریب میں جغرافیائی اعتبار سے گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں سے زیادہ اہمیت کا حامل خیال کیا جاتا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ علاقہ بشمول چترال گریٹر بدخشاں کے سیاسی حالات سے براہ راست متاثر ہوتا تھا، ضلع غذر اور چترال میں پائیدار سیاسی ماحول کے لئے فیض آباد، بخارا، سمرقند اور کابل کے حکمرانوں سے قریبی تعلقات قائم کرنا نا گزیر تھا۔
مہتر امان الملک کی حکومت کے ابتدائی دور سے ہی ضلع غذر بشمول مستوج کے بڑے سیاسی فیصلے غیر محسوس انداز میں انہی کے ہاتھ میں تھا۔ اسی لئے مہتر نے امیر کابل، فیض آباد کے گورنر، سمرقند و بخارا کے حکمرانوں سے قریبی رشتہ داریاں قائم کیے تھے۔
1860 سے 1870 تک ورشگوم میں ہونے والے سیاسی فیصلے مہتر امان الملک کے ہاتھ میں تھے۔ 1870 میں راجہ میر ولی خان کو حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا، اور مستوج کے حاکم راجہ پہلوان بہادر ورشگوم کا حاکم مقرر ہوا۔
آج میں اپنی تحریر میں راجہ پہلوان بہادر کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی ادنی سی کوشش کروں گا، میں جان بڈلف کی ایک رپورٹ کی روشنی میں جو کہ 1870 سے 1880 کے درمیان لکھی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کے تاریک گوشوں کے مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ورشگوم کی تاریخ میں راجہ غلام محی الدین سے بڑا کوئی رہنما نہیں گزرا۔
اپ نے مشکل سیاسی فیصلے مشکل وقت میں سوچ سمجھ کر کیے، اپ ایک زیرک اور بہادر حکمران کے ساتھ ساتھ ایک مکمل سپاہی بھی تھے۔ پست قد اور مضبوط اعصاب کے مالک انسان تھے، نظریں عقابی رکھتے تھے۔
وقت کی تیز دھار اور اپنوں پر بھروسا نے ان کو سیاسی میدان میں تنہا کر دیا۔ کیونکہ ان کی دوربینی نگاہوں نے مستقبل کے سیاسی حالات کو جانچ لیا تھا اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے کر رہے تھے جو کہ ان کے مخالفین کو ناگوار گزرا۔
ان کے کچھ رفقا کے حسد کی وجہ سے ان کو نہ صرف حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا، بلکہ مختلف ریاستوں کی خاک چھاننے پر بھی مجبور کیا۔ ایک طرف کابل سے سوات تک اور دوسری طرف داریل سے تنگیر کے درمیان پھرتے رہے۔ دو دفعہ یاسین پر حملہ اس غرض سے کیا کہ اپنا سابقہ راج دھانی بحال کر سکے۔
1883 میں رات کو داریل سے براستہ بتھریت، دھمل پہنچتے ہیں وہاں سے اپنے حامیوں کو لے کر ڑورکھن پہنچ جاتے ہیں، قلعے میں کثیر فوج کی موجودگی کے خوف سے رات کو حملہ نہ کر سکے، صبح نظام الملک نے قلعے میں آنے کی دعوت دی، یہ دونوں بچپن کے گہرے دوست رہے تھے، نظام نے امان الملک سے ملاقات کا مشورہ دیا، راستے میں فیصلہ بدلتا ہے، وہاں سے دوبارہ داریل چلا جاتا ہے جہاں، 1884 کے آس پاس ان کو ابدی نیند سلایا گیا۔
ان کی شخصیت کبھی متنازع نہیں رہی، کیونکہ سابقہ حکمرانوں کے برعکس انہوں نے غلاموں کی تجارت پر پابندی لگائی۔ اپنی دس سالہ حکومت کے دوران کسی ایک فرد کو بھی فروخت نہیں کیا۔ زیباک کے پیروں سے قریبی تعلقات قائم کیے۔
گلگت میں تعینات انگریز افسر میجر بڈلف اکتوبر 1878 میں یاسین آتا ہے۔ راجہ پہلوان سے بہت گرم جوشی سے ملتا ہے اور وہ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ بڈلف راجہ پہلوان کی صاف گوئی پر یقین کرتے ہیں اور ملاقات کے لئے کسی ضمانتی یرغمالی کا مطالبہ نہیں کرتے۔ حالانکہ بڈلف کو ہنزہ کا دورہ کرنے کے لئے میر غذن کے فرزند میر محمد نظیم خان کو ضمانتی یرغمالی کے طور پر گلگت طلب کیا گیا تھا۔
بڈلف 1878 میں گلگت میں تعیناتی کے فوراً بعد ہی یاسین کا دورہ کرتے ہیں۔ ایک تو راجہ پہلوان نے ہیورڈ کیس میں انگریز سرکار سے تعاون کیا تھا۔
یاسین میں انتہائی خوشگوار ماحول میں ان کی گپ شب ہوتی ہے۔ بڈلف پہلوان کو انگریز سرکار کے ساتھ مذاکرات کا کہتے ہیں تو راجہ صاحب مذاکرات براہ راست انگریز سرکار کے ساتھ کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ میں ڈوگرہ راج اور کشمیروں پر اعتبار نہیں کرتا۔ بڈلف غیر مشروط طور پر راضی ہو جاتے ہے۔
بڈلف پہلی ملاقات میں ہی راجہ صاحب پر بھروسا کرتے ہیں، کیونکہ ان کے ارادے غیر مبہم تھے۔ راجہ پہلوان میجر بڈلف کو امیر سوات کا ایک خط بھی دکھاتے ہیں جس میں وہ انگریز سامراج کے خلاف جہاد کے لئے پہلوان کو ساتھ دینے کا کہتے ہیں۔ بڈلف خود لکھتا ہے کہ راجہ پہلوان بہادر نے بدخشاں کے سیاسی حالات کے بارے میں مجھے بالکل صحیح معلومات دیں۔
ان سب واقعات سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ راجہ پہلوان کس لیول پر انگریز سرکار سے مذاکرات کر رہے تھے، اس دوراندیش حکمران نے ریاست ورشگوم کی الگ شناخت کو واضح کر دیا تھا اور ورشگوم کی خاندان کٹور کے تسلط سے آزادی کے خواہاں تھے۔
انگریز سرکار نے پہلی بار ورشگوم کو الگ ریاست کے طور پر ڈیل کرنا شروع کیا تھا، حالانکہ اس سے قبل راجہ میر ولی خان نہ صرف چترال کے باج گزار بن گئے تھے بلکہ یہ اپنی مرضی سے ایک گھونٹ پانی بھی پینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
ملاقات کے دوران بڈلف، راجہ پہلوان سے مہتر امان الملک کے بارے میں ان کی رائے لینے کی کوشش کرتے ہیں تو پہلوان بہادر کہتا ہے کہ ”اگرچہ امان الملک میرے ماموں ہیں مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں، لیکن میں اپنے فیصلوں میں آزاد ہوں۔ امان الملک دل کے کالے، بے اعتماد اور بے اعتبار انسان ہیں، میں ان پر بھروسا ہرگز نہیں کرتا“ ۔
راجہ پہلوان کے ان باتوں سے ہمیں اندازہ لگانے میں ذرا سا بھی دقت محسوس نہیں ہوگی کہ ان کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے، دوسری طرف جب انگریز سرکار نے ورشگوم کو الگ ریاست کے طور پر تسلیم کر کے پہلوان بہادر سے براہ راست مذاکرات کے لئے راہیں ہموار کیں تو پس پردہ امان الملک نے ان کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے کی تیاری شروع کر دیا۔ حسد کی آگ تیزی سے جلی، مہتر امان الملک نے اپنے با اعتماد وکلا کو کشمیر دربار روانہ کر دیا۔
یاسین دورے کے بعد میجر بڈلف چترال کا دورہ کرتے ہے لیکن اپنی رپورٹ میں وہ اس کو کامیاب دورہ قرار نہیں دیتے۔ اس سے امان الملک سمجھ جاتے ہیں کہ انگریز سرکار راجہ پہلوان کو مجھ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں میں ان سے براہ راست مذاکرات کے خواہاں ہیں۔
اپریل 1880 میں راجہ پہلوان اپنے لاؤ لشکر لے کر اچانک پونیال پر حملہ کرتے ہیں کیونکہ یہ حملہ بہت غیر متوقع تھا، بڈلف لکھتے ہیں کہ وہ کون سے حالات تھے جنہوں نے پہلوان کو یہ سب کرنے پر مجبور کیا، حالانکہ ان کے تعلقات ہمارے ساتھ بہت دوستانہ تھے، وہ مزید لکھتے ہے کہ شاید ہم نے ان کے سابقہ حریف والی بدخشاں شہزادہ حسن کو گلگت میں سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔ وہ اس لئے مشتعل ہوا ہو۔
راجہ پہلوان بہادر شیر قلعہ میں شکست کھا کر واپس جاتے ہوئے تیرہ میں ایک انگریز ایجنٹ میاں راحت شاہ سے ملاقات کرتا ہے، یہ بہت ہی اہم ملاقات تھی جس کا میں تذکرہ کرنے جا رہا ہوں۔ راحت شاہ کہتا ہے کہ اپ نے پونیال پر حملہ کر کے بہت بڑی غلطی کی جس کی سزا شاید ملے گی۔ راجہ پہلوان میاں راحت شاہ کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے کشمیر دربار سے کوئی خوف نہیں۔
”میرے پاس دو خطوط ہیں۔ ایک وہ خط جس کو گلگت میں تعینات سابقہ گورنر نے میرے نام لکھا ہے جس کو جموں کا ایک وکیل میرے پاس لایا تھا“ ۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آپ کو مہاراجہ کشمیر کی طرف سے بڑا انعام رکھا گیا ہے بس آپ کو یاسین میں حالات مصنوعی طور پر خراب کر کے گلگت میں تعینات انگریز افسر (بڈلف) کو یاسین طلب کر کے قتل کرنا ہے۔
خط کے علاوہ مجھے زبانی طور پر بھی یہی احکامات پہنچائے گئے ہیں۔ پہلوان مزید کہتا ہے میرے پاس مظہر حیات بھی موجود تھے۔ وہ بھی گواہ ہے۔ راجہ صاحب قرآن پاک پر ہاتھ رکھتے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ میں میر ولی کی طرح بے وقوف نہیں ہوں کہ دھوکے میں آ جاؤں یا کسی کے اشاروں پر ناچوں۔ میں اپنے فیصلوں میں آزاد ہوں۔
مہتر امان الملک نے کشمیر دربار سے قریبی تعلقات قائم کیے تھے اور وہ ان کے ہدایات کی پیروی کرتے تھے جبکہ راجہ پہلوان براہ راست انگریزوں سے مذاکرات کر رہے تھے۔
یہی سے کشمیر اور چترال نے مل کر پہلوان کو ہر محاذ پر تنہا کر دیا۔ اسی کشمکش میں انہوں نے پونیال پر حملہ کر کے تاریخی غلطی کی۔ ورنہ پہلوان سرکار انگلشیہ کی سر پرستی میں ورشگوم کو ترقی کی بلندیوں پر لے جاتے، جس کا تذکرہ انگریزوں نے خود بھی کیا تھا۔
ورشگوم کی تاریخ کے یہ دوراندیش حکمران داریل میں جلاوطنی کے دوران، 1884 میں ملک امان کے بیٹے مقدس امان کے ہاتھوں شکار کھلتے ہوئے گولی کا نشانہ بن کر شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔


