ڈجیٹل مردم شماری اور خدشات


بیورو آف اسٹیٹسکس نے 2023 کی ڈجیٹل مردم شماری کے نتائج پبلک کر دے ہیں اور اس کے مطابق پاکستان کی آبادی اب 24 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور ملک میں آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.55 ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اگر آبادی کے بڑھنے کی شرح یہ ہی رہی تو 2050 تک ہماری آبادی 50 کروڑ تک ہو جائے گی۔ ابھی تو ہمارے ملک کو 24 کروڑ آبادی کو پالنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر یہ آبادی 50 کروڑ ہو گئی تو اس ملک کی کیا حالت ہوگی۔ ملک کے وسائل بڑی تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں اور ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اور اس پر بہت کم لوگ بات کرتے ہیں۔ اگر کسی نے بات کر بھی دی تو اس کو کوئی نہیں سنتا اور ہمارے میڈیا پر بھی آبادی کو کنٹرول کرنے کی بات نہیں ہوتی۔ وسائل کی کمی، روزگار کا نہ ہونا اور علاج معالجہ نہ ہونے پر تو ضرور بات ہوتی ہے مگر لوگوں کو ایجوکیٹ نہیں کیا جاتا کہ آپ کا علاج تب ہی ہو سکے گا جب آپ آبادی کو کم کریں گے۔ جتنے ہسپتال اور اسکول حکومت بنائے گی وہ کم پڑ جائیں گے۔

مردم شماری ہمارے ملک کا اہم مسئلہ ہے، کیوں کہ ڈیٹا کہ بغیر کسی کام کو کرنے کے لیے کوئی بھی حکمت عملی نہیں بنائی جا سکتی۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہر پانچ سال کے بعد جب بھی مردم شماری ہوتی ہے لوگ مردم شماری کے اعداد و شمار کو نہیں مانتے۔ کیوں کہ ہر مردم شماری میں ایسا لگتا ہے کہ کسی صوبے یا کمیونٹی کو کم گنا جا رہا ہے کسی کو زیادہ گنا جا رہا ہے۔ اس کا احساس 2023 کی ڈجیٹل مردم شماری میں بڑھ گیا ہے۔

کراچی کے لوگوں کا ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے کراچی کی آبادی کو کم گنا جاتا ہے مگر اس دفعہ لگتا ہے کراچی کے اردو بولنے والوں کو خوش کرنے کے لیے ان کی آبادی کو بے حساب بڑھا دیا گیا ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ کراچی میں 2017 کی مردم شماری کے مطابق کراچی میں اردو بولنے والوں کی آبادی 42 ٪ تھی جو 2023 میں 50.62 کر دی گئی ہے جس کو کسی طرح بھی جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ باقی کراچی میں رہنے والوں کی آبادی کم ہو گئی ہے جن کے لوگ کراچی میں دوسرے علاقوں سے آ کر بس رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں کی آبادی دیہات کی آبادی سے کم فیصد بڑھتی ہے کیوں کے شہر کے لوگ دیر سے شادی کرتے ہیں اور وہ زیادہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنے بچے اپنے وسائل کے حساب سے پیدا کرتے ہیں مگر دیہات میں لوگوں میں یہ احساس ہی نہیں ہوتا۔ مگر سندھ کے دیہات کی آبادی کم دکھائی گئی ہے اور کراچی میں ایک آبادی کو زیادہ دکھایا گیا ہے۔ اگر اس مردم شماری کو کسی نے کورٹ میں چیلنج کیا تو کورٹ اس مردم شماری کو کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

2017 کی مردم شماری کے مطابق پورے ملک میں سندھیوں کی آبادی 14.57 تھی جو 2023 میں کم ہو کر 14.31 ہو گئی ہے جب کہ سندھی لوگ سب سے کم ملک چھوڑتے ہیں مگر سمجھ نہیں آتی کہ ان کی آبادی کیسے کم ہو گئی۔ 2017 کی مردم شماری کے مطابق سندھ میں سندھی بولنے والے 61.6 تھے جو کہ 2023 میں کم ہو کر 60.14 ہو گئے ہیں۔ جبکہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق سندھ میں اردو بولنے والوں کی آبادی 18.2 فیصد تھی جبکہ 2023 کی ڈجیٹل مردم شماری میں اردو بولنے والوں کی آبادی 22.3 فیصد کر دی گئی ہے۔

سندھ میں ایک خاندان کے لوگوں کو بھی کم گنا گیا ہے۔ پورے ملک میں آبادی کی شرح فی گھر افراد 6.3 ہے مگر سندھ میں ایسا نہیں کیا گیا۔ سندھ کی آبادی اگر 6.3 کے حساب سے گنی جائے تو سندھ میں گھروں کی تعداد 9871378 ہے اور اس حساب سے سندھ کی آبادی 6 کروڑ 21 لاکھ 89 ہزار بنتی ہے مگر افسوس ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

جب ڈجیٹل مردم شماری کا اعلان کیا گیا تھا اس وقت سندھ کے لوگوں نے اپنے خدشات ظاہر کیے تھے مگر ان کو نہیں سنا گیا مگر اب احساس ہو رہا ہے ان کے خدشات درست تھے۔

مردم شماری کے نتائج کا ہماری سیاست پر بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ کل جب حلقہ بندی ہوگی تو سب کو اعتراض ہو گا۔ اور لوگوں میں نفرت بڑھے گی مگر ہمارے ادارے یہ نہیں سوچتے جس کا نقصان ملک کو ہوتا ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کم از کم مردم شماری کو ٹرانسپیرنٹ کیا جائے تاکہ ملک میں رہنے والے سارے لوگ اسے تسلیم کریں۔

Facebook Comments HS