پیرس کا وی آئی پی کلچر اور اولمپکس
اولمپکس دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے مقابلے ہیں، جن میں 200 سے زائد ممالک کے کھلاڑی میڈلز کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں، ان کھیلوں کی انسپیریشن اولمپیا، یونان میں آٹھویں صدی (بی سی) اور چوتھی صدی (اے ڈی) کے دوران ہونے والے کھیلوں سے لی گئی ہے، 1896 میں پہلے جدید اولمپکس گیمز کا اہتمام ایتھنز، یونان میں ہی کیا گیا، وقت کے ساتھ ان مقابلوں نے خوب ترقی کی اور آج یوتھ اولمپکس، پیرا اولمپکس، ونٹر اور سمر اولمپکس کی شکل میں یہ دنیا کے مقبول ترین مقابلے ہیں۔
جون کے پہلے ہفتے میں، میں پیرس میں تھا، جہاں اولمپکس کی تیاریاں زوروں پر تھیں، دریائے ”سین“ کے کنارے جگہ جگہ عارضی کنسٹرکشن اور سجاوٹ کا کام جاری تھا، سارے شہر کے ان مقامات پر جہاں کھلی جگہ میسر تھی، عارضی اسٹیڈیم قائم کیے جا رہے تھے، جہاں مختلف کھیلوں کا انعقاد ہونا تھا، حتیٰ کہ آئفل ٹاور کے چاروں اطراف، لوور میوزیم، شامپس الیزے اور پارلیمنٹ بلڈنگ کے دالان میں بھی انہوں نے کسی نہ کسی کھیل کا اہتمام کر دیا تھا۔
عمومی طور پر کہا جاتا ہے کہ وی آئی پی پروٹوکول سسٹم صرف ہمارے معاشرے کا خاصہ ہے، مغرب یا ترقی یافتہ ممالک میں اس کا وجود نہیں، لیکن پیرس کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے پولیس کی سائرن بجاتی گاڑیوں کے حصار میں بے شمار وی وی آئی پی کانوائے دیکھے جو کسی بھی ٹریفک سگنل کی پرواہ کیے بغیر تیزی سے گزر جاتے، کیونکہ وہاں موجود پولیس کی گاڑیاں اور افسران بالکل پاکستان کی طرح ٹریفک کو روک رہے تھے۔
ایک تو پیرس سیاحت کے اعتبار سے دنیا کا نمبر ون سیاحتی مقام ہے، اس لیے وہاں پہلے سے ہی خوب چہل پہل اور رش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس پر یہ جلوس بہت کوفت کا سبب بن رہے تھے، لیکن تھوڑی بہت تحقیقات پر پتہ چلا کہ یہ کوئی سیاستدان یا آرمی و سول افسران نہیں ہیں بلکہ اولمپکس کی تیاریاں کرنے والے آفیشلز ہیں، جو اتنے بڑے ایونٹ کو کامیاب بنانے کی تگ و دو میں ہیں، جس پر پورے ملک کی عزت کا سوال ہے، پھر دل میں خیال آیا کہ اتنا بھی کیا ہوا کہ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے؟
26 تاریخ سے اولمپکس کا آغاز ہو چکا ہے، ٹی وی پر اس کی افتتاحی تقریب دیکھی، کیا ہی خوبصورت، انوکھی، آرٹسٹک اور ذوق جمال کو تسکین دینے والی تقریب تھی، پیرس کی خوبصورت تاریخی عمارتوں، گلیوں اور سڑکوں کو فرانس کی تاریخ (جس میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے ساتھ میوزک اور آرٹ رچا بسا ہے ) بیان کرتے ہوئے عمدہ طریقے سے استعمال کیا گیا، کھلاڑیوں کے دستے روایتی پریڈ کی بجائے دریائے ”سین“ میں بڑی بڑی کشتیوں پر جلوس کی شکل میں گزارے گئے، بلا شبہ یہ ایونٹ فرانس کے شایان شان تھا۔
تقریب دیکھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ پیرس میں تیاریوں کی جو آگ لگی تھی اس کا نتیجہ اس سے کہیں بہتر ہے، افتتاحی تقریب کو متاثر کرنے کے لیے پیرس کے ریل روڈ سسٹم میں کچھ خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن سکیورٹی کے اعلیٰ انتظامات کی وجہ سے اس پر فوراً قابو پا لیا گیا، امید ہے کہ یہ اولمپکس انتہائی کامیاب رہیں گے اور دنیا بھر سے آئے سیاح اور کھلاڑی اس سے بھرپور لطف اندوز ہوں گے۔





