آؤ سماج پر ماتم کریں


چند روز ہوئے کچھ دوست شام ڈھلے آم پارٹی سے لطف اندوز ہونے ہمارے گھر آ پہنچے کیونکہ بسنتی رنگ کے پھلوں کے بادشاہ آم کی چاشنی کے مزے اُڑانے سے بھلا کون کافر انکار کرنے کی ہمت رکھتا ہے؟

محفل جم چکی تھی، قہقہے پہ قہقہہ اور یارانہ دوستانہ جاری تھا۔ سورج بھی سارا دن قہر برسانے کے بعد اب دُور پہاڑیوں کی اوٹ جا کے چُھپ چکا تھا اور شام سانولی رنگت میں ڈھلتی جاتی تھی۔ خالصتاً پنجابی ثقافتی ماحول، یاروں کا اکٹھ اور آموں کے خمار کے ساتھ ساتھ شام بھی خوب رنگیلی ہوئی جاتی تھی۔

یکایک نجانے کس کی شرارت سے گفتگو پر سنجیدگی اور افسردگی کا رنگ چھانے لگا۔ ایک آدھ بار ہم نے ٹوک کر چتاونی بھی دی کہ ’بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی‘ ، مگر بات سے بات نکلتی رہی اور پھر حکومت کی مشکلات، بارشوں سے متوقع تباہی، معاشرے میں انتہا پسندی، عدم رواداری، اخلاقیات اور اقدار کو دیمک، کرپشن، ٹرمپ اور ماحولیاتی آلودگی غرض دنیا بھر کے موضوعات کنگھال چھوڑے ہم نے۔ مگر اس سے ہوا یہ کہ دوستوں کی محفل معاشرتی جائزہ لیتے لیتے ہمارے دوست ناصر ولیم جو جہاں بھر کا درد سینے میں سجائے سماج سیوا اور سماج کے بدلاؤ پر پختہ یقین رکھتے ہیں کی قیادت میں رواں ’فکری نشست‘ میں ڈھل گئی۔ رات کب چاند کی چاندنی کے آنچل میں جا ڈوبی اس کی خبر ہمیں بھی نہ ہوئی۔

چند ہفتوں سے انتہائی غیر انسانی رویوں کے واقعات کے تناظر میں دوست کہنے لگے، بینجی یار! کبھی انسانی وقار، احترام اور تکریم کی بڑھوتری اور ترویج پربھی کوئی ایک آدھ مضمون لکھ ڈالو۔ ہم نے کہا کہ ماتمی واقعات سے فرصت ملے تو تبھی ناں۔ ہم تو معاشرتی طور پر ہمہ وقت ماتم کناں رہتے ہیں۔ آئے روز یومِ سیاہ مناتے، احتجاج کرتے، ہڑتالیں سہتے اور سانحات سے گزرتے ہیں۔ کہیں اغوا پر چیخ و پُکار تو کہیں نعشوں پر بین ہیں۔ ہمارا کون سا دن قومی سطح پر ماتم زدہ ہوئے بغیر گزرتا ہے؟ ماں یا باپ نے بچوں کو نہر میں پھینک کر خود کُشی کرلی تو ماتم، سیاحوں یا باراتیوں کی بس کھائی میں جا گری تو ماتم۔ ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں تو ماتم۔ زندگی تو تسلسل سے ماتم کا طواف کیے جاتی ہے اور ہم سماج پر ماتم در ماتم۔

گزشتہ دنوں خبر آئی کہ، ملتان میں تیسرے بچے کو جنم دینے والی 20 سالہ ثانیہ زہرا کو شوہر نے بے دردی سے قتل کر ڈالا مگر اُس کے ماں باپ قاتل کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ ماتم۔

پچھلے ہفتے ایک انگریزی اخبار نے خبر لگائی کہ صرف منڈی بہائو الدین میں جولائی کے مہینے میں لڑکیوں کے اغوا اور جبری زیادتی کے 45 کے قریب واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 7 کم عمر بچیاں اور 4 جوان لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ 13 لڑکیاں جبراً شادی کے لئے اغوا اور 21 کو مجرمانہ ارادے سے غیرقانونی حراست میں رکھا گیا جبکہ 3 لڑکیوں کو مجرمانہ نیت سے قابو کرنے کی کوشش کی گئی۔ مجموعی طور پران متاثرہ لڑکیوں کی عمریں 10 سے 28 سال جبکہ اکثریت کی عمریں 10 سے 18 سال تھیں۔

اِن واقعات پر ماتم کے ساتھ ساتھ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ ملک میں جنسی زیادتی کے خلاف سخت ترین قوانین، حتیٰ کہ سزائے موت بھی شامل ہے مگر خواتین کے خلاف واقعات کی تعداد میں حیران کن طور پر اضافہ ہوتا نظر آتا ہے۔

وطنِ عزیز میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں اور خصوصاً مسیحیوں کی صورتحال پر انسانی حقوق کی تنظیم ڈگنٹی فرسٹ کی ’پراسیکیوشن واچ‘ نامی رپورٹ کے مطابق مسیحیوں کے خلاف جنوری تا جون کے چھ ماہ میں 70 سے زائد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ گھروں کے سربراہوں کو قتل کیا گیا، جوان لڑکیوں کو اغوا، جنسی زیادتی اور جبراً مذہب تبدیل کروایا گیا، گھروں اور عبادت گاہوں پر مشتعل ہجوم نے حملے کیے ۔ گویا اُن کی زندگیوں میں روز کا ماتم چھایا رہا۔

معاشرتی ماتم کی ایک دردناک تصویر گزشتہ روز صوبہ سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں نظر آئی جہاں ثوبیہ بتول نامی نوجوان لڑکی نے جب ازدواجی زندگی کی زیادتیوں سے تنگ آ کر طلاق کے حق کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکایا تو اُس کے باپ نے اُس کے اس فیصلے کو پدرانہ معاشرے اور غیرت پر گہری چوٹ تصور کیا۔ باپ نے ثوبیہ کو حق کے لئے آواز اُٹھانے پر کلہاڑی کے پے در پے وار کر کے اُس کی دونوں ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ گویا اونٹنی کا قصہ اب پُرانا ہوا۔ جاگیر دارنہ سوچ اور ظالمانہ سماج نے باپ بیٹی کی محبت کو پاش پاش کر ڈالا۔ سوچتا ہوں اُس روز لال آندھی تو ضرور آئی ہوگی کہ ایک باپ نے اپنی بیٹی کا خون بہایا تاکہ وہ سماج میں گردن اُونچی کر کے چل سکے۔ ظفر کاکوی کے بقول:

فسانہِ غم نہیں اپنا یہ ایک ماتم ہے زندگی کا
چراغِ اُمید بجھ چکا ہے عجیب عالم ہے تیرگی کا

اُسی باپ نے اپنی لاڈوں پلی ثوبیہ کو زندگی بھر کے لئے دونوں ٹانگوں سے معذور کر دیا جس کے بچپن میں لڑکھڑاتے ہوئے زندگی میں پہلا قدم اُٹھانے پر باپ خوشیوں میں نہا گیا تھا۔ اُس کے ایک ایک قدم تلے اپنا ہاتھ رکھتا تھا کہ اُس کے پاؤں کو کسی پتھر سے ٹھیس نہ پہنچے۔ مگر کلہاڑی کے وار سے جب ثوبیہ کی چیخیں نکلی ہوں گی تو باپ کا اپنا کلیجہ کیوں نہیں پھٹ گیا؟ ثوبیہ نے باپ کو یہ کہہ کے روکا تو ہو گا کہ نہیں کرو بابا، آپ کی گڑیا بِٹیا کو بہت درد ہو رہا ہے، مر جائے گی آپ کی لاڈلی، بابا جانی! مگر باپ نجانے کون سی غیرت سر پر اُٹھائے پھرتا تھا کہ اپنا ہی کلیجہ پاؤں تلے روند ڈالا۔ اب معاشرے کے پاس باپ اور بیٹی کے پیار کی لازوال محبت کی مثالیں دینے کو کیا بچا ہے؟

اب ہم ہر روز کے واقعات پر کیا ماتم کریں؟ اب تو سارے کا سارا سماج ہی مجموعی طور پر مردہ ہو چکا ہے۔ اب کسی کی عزت باقی نہیں ہے، نہ کسی کے حقوق اور نہ تحفظ۔ تمام معاشرتی اقدار اور روایات سپردِ خاک سمجھو، لہٰذا چلو اب سماج کا ماتم کرتے ہیں کہ جینے کو بچا ہی کیا ہے؟

Facebook Comments HS