بنگلہ دیش میں نظریاتی جمود پگھلنے لگا


دیش کی نوجوان نسلیں 1971 کے المیہ کی تلخیوں سے پیدا ہونے والے اُس جمود کو توڑنے کی خاطر ایک بار پھر تشدد کی راہوں پہ گامزن ہیں، پچاس سالوں سے بنگلہ دیشی قیادت جس کے حصار میں مقید ہے۔ جولائی کے اوائل میں 1971 کی تحریک آزادی کے جنگجووں کی اولادوں کو نوازنے کے لئے سرکاری ملازمتوں میں غیر منصفانہ کوٹہ کے خلاف طلبہ کے احتجاج نے ریاست کی توجہ 1971 کے تعصبات سے باہر نکل کر نئی راہ عمل تلاش کرنے کی طرف مبذول کرائی لیکن پولیس اور حکمران پارٹی کے حامیوں نے مل کر مظاہرین کے ساتھ پُرتشدد طریقے سے نمٹنے کی کوشش میں اِس پُرامن احتجاج کو خانہ سوز تشدد کی طرف دھکیل دیا۔

چنانچہ کشیدگی اور تشدد میں مسلسل اضافہ اب کوٹہ سسٹم میں اصلاحات کے مطالبات تک محدود نہیں رہا کیونکہ بنگلہ دیش میں 2008 کے بعد ایسے شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا جو حکمراں جماعت کی عوامی حمایت اور قانونی حیثیت ثابت کرتا، اسی لئے طلبہ تحریک کا ہدف حکمراں جماعت ہے جس کے لئے انتخابات اب پُرامن احتساب کا طریقہ نہیں رہا، اسی لئے حزب اختلاف کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کی خاطر اپنی طلبہ ونگز کو سڑکوں پہ اتار کے احتجاج کو حکومتی اتھارٹی کے لئے وسیع چیلنج میں بدل دیا۔

ابتدائی تشدد میں کم از کم ڈیڑھ درجن افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایسا شخص بھی شامل تھا جسے پولیس نے ہاتھ کھڑے کرنے کے باوجود گولیاں مار دیں، جس کے بعد ملک کے طول و ارض میں حکومت کے حامی اور مخالف طلبہ میں جھڑپوں کا سلسلہ دراز ہوتا گیا، تشدد پہ قابو پانے میں ناکامی کے بعد گورنمنٹ نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس، موبائل نیٹ ورکس بند اور فوج تعینات کر کے کرفیو نافذ کر دیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سنیچر کی شام تک جھڑپوں میں تقریباً 200 مظاہرین ہلاک اور زخمیوں کی تعداد ہزار سے متجاوز تھی۔

1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی کے فوری بعد ، حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے کوٹہ کا ایسا نظام وضع کیا جس کے تحت آزادی کی جنگ لڑنے والوں کے لئے ملازمتوں میں کوٹہ مختص کیا گیا۔ دہائیوں کے دوران کوٹہ سسٹم میں ترمیم کے نتیجہ میں آزادی کے جنگجووں، ان کے بچوں، پھر پوتے پوتیوں، معذور افراد، نسلی اقلیتوں اور دیگر طبقات کے لئے سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ کا حجم 56 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔ یہی پیش دستی بتدریج ملک میں ایک مراعات یافتہ طبقہ پیدا کرنے کے علاوہ حکمراں کلاس کو 1971 کی تلخیوں میں قید رکھنے کا میکنزم بن گئی تاہم کوٹہ سسٹم میں توسیع کے نتیجہ میں نئی نسل کے لئے بتدریج ترقی کے امکانات محدود ہوتے گئے، پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ روشن مستقبل کے متلاشی نوجوان طلبہ کا کوٹہ سسٹم کے لامتناہی حصار کے اندر دم گھٹنے لگا۔

پہلی بار 2018 میں طلبہ تحریک نے کامیابی کے ساتھ حکومت کو کوٹہ سسٹم ختم کرنے پر مجبور کر دیا، یوں یہ ایشو حالیہ جون تک طے پا گیا جب ڈھاکہ ہائی کورٹ نے حکومتی ایما پہ دائر کی گئی ایک پرائیویٹ درخواست پہ کوٹہ سسٹم کی دوبارہ بحالی کا فیصلہ سنا کر نوجوان نسل کو مشتعل کر دیا۔ حکومت نے بظاہر ہائی کورٹ فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر کے طلبہ کو بہلانے کی کوشش کی لیکن کوٹہ بحالی کا عدالتی فیصلہ طلبہ کو سڑکوں پر لے آیا۔

جولائی کے اوائل میں ہونے والے ابتدائی مظاہرے چھوٹے مگر منظم تھے لیکن حقوق کے لئے آواز اٹھانے والوں کو حکمراں جماعت کی طلبہ ونگ ”بنگلہ دیش چھاترا لیگ“ کی طرف سے متعدد بار فسطائی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، حالات اس وقت زیادہ گمبھیر ہو گئے جب وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے مظاہرین بارے ”رضاکار“ جیسی تضحیک آمیز اصطلاح استعمال کر کے انہیں 1971 کی جنگ میں بنگلہ دیش کی آزادی کے خلاف پاکستانی افواج سے مل کر بنگالی عوام کے خلاف لڑنے والے ”رضاکاروں“ سے تشبیہ دے کر بالواسطہ طور پہ بیرونی ایجنٹ ثابت کرنے کی جسارت کر ڈالی۔

اسی کے ردعمل میں مظاہرین نے وزیراعظم کو آمر قرار دے کر ہم ”رضاکار“ نہیں ”رزاق“ ہیں کا جوابی نعرہ بلند کر دیا۔ علی ہذالقیاس، بنگلہ دیش میں شفافیت کی کمی اور آزادی پسندوں سے وابستہ کوٹہ میں ممکنہ بدعنوانی نے کوٹہ سسٹم کے خلاف وسیع عوامی اضطراب کا جنم دیا، بنگلہ دیشی طلبہ کے علاوہ بہت سے شہری بھی غیر معینہ مدت تک کوٹہ سسٹم کے نفاذ کو غلط قرار دیتے ہوئے اس میں اصلاحات کے مقتضی ہیں۔ چنانچہ آج بنگلہ دیش میں آزادی پسندوں کے کوٹہ نظام میں عدم شفافیت اور بدعنوانی کے امکانات بارے خدشات ایک بڑا تنازعہ بن کر سامنے آ گئے، طویل عرصہ سے پبلک ڈسکورس کوٹہ سسٹم کے اصل مقاصد کے حصول سے مطابقت اور تاثیر کا دوبارہ جائزہ لینے کی اہمیت کو اجاگر کرتا رہا۔ افسوس کہ کوٹوں کی تقسیم میں شفافیت اور انصاف سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کی مساعی بنگلہ دیش میں زیادہ منصفانہ اور میرٹ پر مبنی اعلیٰ تعلیم کے نظام میں حصہ ڈال سکتی تھی لیکن حکمراں اشرافیہ کھلے دل کے ساتھ قوم کو 1971 کے المیہ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے سکی۔

بنگلہ دیش کو ہلا کر رکھ دینے والے پُرتشدد مظاہروں کے محرکات کو سمجھنے کے لیے قوم کے ماضی سے منسلک سیاسی ارتقاء پر نظر ڈالنا پڑے گی۔ اس وقت وہ ہزاروں نوجوان مرد و خواتین جو نوکریوں میں کوٹے کے خلاف لڑائی میں سڑکوں پر پولیس کے مسلح دستوں کا سامنا کر رہے ہیں، ڈھاکہ کے کچھ تاریخی اور سیاسی طور پر حساس مقامات کا محاصرہ کر کے عوامی لیگ حکومت کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ بھی اُس ماضی کو دہرانے کے لئے تیار ہیں، جس سے تم قوم کو نکلنے کی راہ نہیں دینا چاہتے۔

لاریب، ماضی بحالی کی تکرار نے بنگلہ دیشی عوام کے مزاحمتی شعور کی دھار اتنی تیز کر دی کہ مغربی پاکستان کی بالادستی کا حصار توڑنے کے علاوہ اپنی فوجی آمریتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کی بازگشت 53 سال بعد بھی سنائی دیتی ہے۔ واقفان حال کے مطابق یہ کوٹہ 2018 میں حسینہ حکومت کی جانب سے ختم کیے جانے سے قبل 10 فیصد مقرر تھا، حالیہ جون میں ہائی کورٹ کے حکم کے ذریعے اسے 30 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔

عدالتی فیصلہ کے ردعمل میں جیسے ہی تشدد بڑھنے لگا، سپریم کورٹ نے 21 جولائی کو جلدی میں کوٹہ 5 فیصد کرنے کا قدم اٹھایا۔ اگرچہ اس بارے میں کوئی یقین نہیں کہ آگے کیا ہو گا یا موجودہ حکومت بنگلہ دیشی عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کر پائے گی؟ لیکن موجودہ مظاہروں سے بنگلہ دیشی سیاست کا پیراڈائم یکسر بدلنا یقینی ہو گیا۔ طلبہ ایجی ٹیشن نے ایک بڑے اور توانا آواز رکھنے والے سیاسی طبقہ کے ساتھ مل کر قومی بیانیہ کا ایسا نیا انداز پیدا کر لیا جو عقلی قومیت کے نام پر بولتا ہے۔

مبصرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 14 جولائی کی پریس کانفرنس میں مظاہرین بارے شیخ حسینہ واجد کے ”کون نوکریوں میں ریزرویشن کا حقدار ہے؟ آزادی پسندوں یا رضاکار کی اولادیں“ جیسے زہریلے ریمارکس نے احتجاج کرنے والوں کو مشتعل اور زیادہ متحد کر دیا۔ سڑکوں پر قبضہ مکتی جودھوں کی پرانی روایت اور سیاسی وراثت ہے جو بنگلہ دیش کی تاریخ میں مسحور کن پکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ بلاشبہ وہ قتال جس کا بنگلہ دیش کو 1971 میں سامنا کرنا پڑا اکثر 1947 کی تقسیم کے ان اذیتوں کی یادوں کو دھندلا دیتی تھی جسے ہندوستان کی تقسیم جیسے المیہ نے جنم دیا تھا۔

چنانچہ یہاں ”رضاکار“ کا کوئی بھی زبانی یا تحریری حوالہ وطن سے بیوفائی کے مترادف سمجھا جاتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پہ شیخ حسینہ کے مظاہرین بارے ”رضار کار“ جیسے تضحیک آمیز حوالہ پر غیر متوقع ردعمل سامنے آیا۔ ہزاروں نوجوانوں نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل کو بدل کر خود کو ”رضاکار“ بنا لیا، یعنی وزیراعظم کی طرف سے مظاہرین کو ”رضاکار“ کی تہمت دے کر ان کی جدوجہد کی توہین کرنے کے ردعمل میں طلبہ نے ”رضار کار“ جیسی بدنام اصطلاح کو اپنا مقبول عام نعرہ اور نئی شناخت بنا کر پچاس سالوں پہ محیط تعصبات کی نفسیاتی فصیل کو توڑ ڈالا۔

طلبہ نے پوچھا کہ ان کا نام ”رضار کار“ کس نے رکھا؟ کیا یہ ڈکٹیٹر کے سوا کوئی اور ہے! جس کے خلاف وہ سراپا احتجاج ہیں؟ لاریب، تخلیقی صلاحیتوں کی اس کشمکش نے وزیر اعظم کو ایک آمرانہ حکمران کے طور پر ماضی کی ہولناک یادوں کے آسیب میں پھنسا دیا۔ دوسروں کے لیے، رضاکار کی اصطلاح کے اختصاص نے نوجوانوں کو اس قابل بنایا کہ وہ جنگ آزادی کی محدود میراث سمجھے جانی والی بدنام اصطلاحات کو تحلیل کر دیں جسے ہتھیار بنا کر سیاسی مخالفین کا سر کچلا جاتا رہا ہے۔

بلاشبہ طلبہ تحریک کی قیادت نے 1971 اور 1952 کی زبان کی تحریکوں کے سائے سے ہٹ کر عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق نئے سیاسی موضوعات مرتب کرنے میں قوم کو مدد دی ہے۔ جس کی بازگشت طلبہ کے اس اعلان میں سنائی دیتی ہے ”ہم نے 1971 نہیں دیکھا، ہم نے 1952 کا مشاہدہ نہیں کیا، لیکن ہم 2024 کو دیکھ رہے ہیں، ہماری جدوجہد آمریت سے آزادی کی استعارہ ہے“ ۔ 1952 اور 1971 کی جدوجہد میں بھی یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ سب سے آگے تھے، سڑکوں اور عوامی جگہوں پر قبضہ کرنا ماضی میں طلبہ کی کلیدی حکمت عملی رہی جیسا کہ 2018 میں، اسکول کے طلبہ نے ٹریفک حادثات میں دو طالب علموں کی موت کے بعد قوم کی اصلاح کے اجتماعی ایجنڈے کے حصے کے طور پر سڑکوں پر قبضہ کر کے تحریک برپا کر دی تھی۔

جاری تحریک میں، یونیورسٹیاں اور ان کے ہاسٹل طلبہ کی سرگرمیوں اور منصوبہ بندی کے اہم مراکز میں تبدیل ہو گئے ہیں، جسے انہوں نے 1952 میں زبان کی تحریک، 1971 کی جنگ آزادی اور 1990 کے ایجی ٹیشن کے دوران فوجی آمر جنرل ارشاد کا تختہ الٹنے کے لئے کیا تھا۔ ماضی کی یونیورسٹیاں بھی حال کی طرح ایسی جگہیں تھیں جہاں طلبہ کو پناہ ملتی تھی حالانکہ یہی وہ ادارے تھے جنہیں مظاہروں کو کچلنے کے لیے حکام نے سب سے پہلے بند کیا تھا۔

Facebook Comments HS