زبان ریجن کی ہوتی ہے ریلیجن کی نہیں


”زبان ریجن کی ہوتی ہے ریلیجن کی نہیں“ جاوید اختر کا یہ جملہ بڑا ہی کرارا تھا جو اردو ہندی کے دوست نما دشمنوں کے دل پہ تیر کی طرح لگا۔ اردو کی تاریخ ہزار سال پرانی ہے اور اس کا نام چند سو سال پرانا ہے، حالانکہ یہ ممکن نہیں کہ زبان کے وجود میں آنے کے کئی سو سالوں بعد اس کا نام وجود میں آئے۔

اردو ادب کی تاریخ کے مطابق اردو زبان نے بھی لسانی عمل میں اپنے نام تبدیل کیے ہیں کبھی یہ برج بھاشا کبھی یہ پراکرت کبھی یہ کھڑی بولی کبھی یہ ہندوی کبھی یہ ہندی اور کبھی یہ اردو معلیٰ کہلائی۔ زبان کے نیچرل فنامنے کے مطابق ہر زبان اپنے بولنے والوں کے تحت پہچانی جاتی ہے یا بولنے والے اپنی زبان کے تحت پہچانے جاتے ہیں، جیسے انگریز سے انگریزی افغان سے افغانی پنجاب سے پنجابی، جرمنی سے جرمن، فارس سے فارسی، عرب سے عربی، فرانس سے فرانسیسی اسی طرح اردو بھی ہندوستان کی سرزمین میں جنم لینے والی عوامی بولی تھی اور یہ ہندوستان سے ہندوستانی کہلائی پھر ایسا کیا ہوا کہ یہ ہندوستانی سے اردو بن گئی۔ ہندوستانی زبان کو اردو بنانے کی کوششوں کا آغاز کس دور میں ہوا؟ کس نے کیا؟ اور کیوں کیا؟ یہ ایک الگ اور تفصیل طلب بحث ہے۔

زبان ریجن کی ہوتی ہے ریلیجن کی نہیں ”یہ جملہ ہر ذی ہوش کو بہت معقول اور عقلیت پسند لگتا ہے جس کے دلائل آپ کے معاشرے میں آس پاس بکھرے ہوتے ہیں۔ ہر انسان اپنے بچے کا نام اپنی بھاشا یا اپنی زبان میں ایسے الفاظ پر رکھتا ہے جس کے معنی اسے معلوم ہوں اور بھلے ہوں۔ ہمیں ہندوستان اور پاکستان ایران عرب اور یورپی ممالک میں جا بجا ایسے نام سنائی دیتے ہیں جو اپنی اپنی بھاشا میں مظاہر فطرت سے مطابقت رکھتے ہیں، جیسے چاند نواب، قمر الزمان ضیا، آفتاب، فضا، آکاش، نجم، ستارہ، کائنات، سنی، مونا لیزا، مون، سنو وائٹ سیلاب خان، جبل خان، شمس، آفتاب، خورشید، ساون، کرن، موتی اور گوہر جیسے ہزاروں نام ہیں جو دنیا کی تقریباً تمام زبانوں اور معاشرے میں اپنے اپنے معاشرے کے مطابق بلا تخصیص مظاہر قدرت کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔

مظاہر قدرت کا اور ان ناموں کا کوئی مذہب اور کوئی دین نہیں جیسے ساون ریکھا برکھا اور شبنم کوئی ہندو نہیں اور نہ ہی کرن، شیر، امبر، فضا، حنا جیسے الفاظ کوئی مسلم نہیں مگر کچھ تنگ نظر لوگوں نے کائنات کی کئی چیزوں کے ساتھ ساتھ اب الفاظ کے بھی مذہب رکھ لیے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک مثال پیش کروں گی کہ مسلمان سنی نام رکھ لیتے ہیں جو کہ انگریزی کا لفظ ہے، شمس نام رکھ لیتے ہیں جو کہ عربی کا لفظ ہے، اسی طرح خورشید اور آفتاب بھی بڑی ذوق و شوق سے رکھتے ہیں جو فارسی کے الفاظ ہیں،

ان تمام عربی فارسی انگریزی الفاظ کا اردو لفظ ہے ”سورج“ یہ لفظ ہم صبح شام استعمال کرتے ہیں پاکستان اور انڈیا میں بولی جانے والی بولی اردو میں شمس کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

شمس آفتاب یا خورشید جیسے الفاظ ادبی افسانوں اور شاعری میں ملتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر بولے جانے والے لفظ پر جب بچے کا نام رکھنے کی باری آتی ہے تو ”سورج“ لفظ ہندو بن جاتا ہے۔ وہ کیسے؟ اس کی عقلی لاجک سمجھ سے باہر ہے۔ اگر مسلمان سنی، آفتاب، خورشید اور شمس رکھ سکتے ہیں تو سورج میں کیا قباحت ہے جب طوفان خان اور سیلاب خان رکھا جا سکتا ہے تو ساون خان میں کیا اعتراض ہے؟ پھر بات وہی عقلی دلائل پر ثابت ہوتی ہے کہ زبان ریلیجن نہیں ریجن کی ہوتی ہے۔

لفظ موتی پر مسلمان گھرانوں میں نام نہیں رکھا جاتا ہے مگر فارسی کا لفظ گوہر بڑی فخر سے رکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ گویا ان الفاظ اور ان کے معنی میں لسانی امتیاز برتنے کی کوئی بھی عقلی لاجک یا دلائل نہیں تھے بلکہ سماج میں عرصے سے جو اصول رائج ہیں وہی چلے آرہے ہیں۔

زبان سے متعلق ناموں کو مذہب کے حوالے سے بدلنے کا عمل ہندوستان میں جب شروع ہوا جب یہاں کی مقامی آبادی نے اسلام قبول کیا اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ زبان مذہب کے ساتھ وہیں جوڑی جاتی ہے جہاں عقل اور خودی کو گرہن لگ جائے۔ عرب میں اسلام آنے کے بعد عرب میں یہ روایت تھی ہی نہیں کہ مذہب کے ساتھ ساتھ نام کی تبدیلی کا عمل بھی شروع ہو۔ ابو سفیان اسلام کا سخت ترین دشمن تھا اور ابو سفیان مسلمان ہو کر بھی ابوسفیان ہی رہا۔ تمام صحابہ کرام اپنے نام کے ساتھ ہی دائرہ اسلام میں داخل ہوئے عمر عمر ہی رہے، ابوبکر ابوبکر ہی رہے، خالد بن ولید خالد بن ولید ہی رہے یہ چند ایک مثالیں ہیں۔

جب اسلام ہندوستان کی چھوٹی ذاتوں کے لوگوں نے قبول کیا اور خود کو کمتر سمجھتے ہوئے اپنا ماضی دفن کیا اور خود کا رشتہ عرب سے جوڑا پھر ونود عامر قریشی بن گیا، پدمنی عائشہ صدیقی بن گئی اور جمنا فرزانہ انصاری بن گئی، کیونکہ ونود کے ساتھ قریشی اور پدمنی کے ساتھ صدیقی لگا کر وہ عرب سے رشتہ جوڑنے میں ناکام رہتے اور یقینی طور پر ان کا تعلق ہندستان سے ظاہر ہوتا۔ یہیں سے اس خطے میں ناموں اور الفاظ کو عربی فارسی اور مسلمان بنانے کا عمل شروع ہوا اور ساتھ میں ہندی اردو تنازعہ بھی خوب جما جس نے اس خیال اور تصورات کو مزید چمکایا اور اسے خوب پروان چڑھایا۔

اردو ہندی کے اختلاط کی گتھی سلجھانا اور سمجھنا بہت مشکل کام ہے۔ سوچ لفظ پراکرت کا ہے اور وچار لفظ سنسکرت کا ہے ہندی میں اسے سوچ وچار کہہ کر عقل اور سمجھ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے اسے سوچ بچار کر کے اردو میں بولنا شروع کیا اردو کو اردو اور ہندی سے الگ ظاہر کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئیں آج وہ ناکام نظر آتی ہیں اور یہی جہت زبان سے پہلے اپنی قومی تشخص کو بدلنے میں نظر آتی ہے۔ قوم اور نسل بدلیں گے تو زبان بدلنے کے راستے ہموار ہوں گے لیکن تاریخ گواہ ہے تبدیل شدہ مذاہب زبان۔ کلچر اور روایات کو کبھی بدل نہیں پاتے ہیں۔

اردو کے قدر دان دوستوں ہی نے نہیں سرحد پار ہندی کے یاروں نے بھی پراکرت الفاظ جو اس زبان میں تھے الگ کر کے مشکل اور ثقیل سنسکرت الفاظ ٹھونس ٹھونس کر ڈالے مگر دونوں طرف یہ کام کرتے ہوئے اہل زبان یا ماہرین لسان یہ بھول گئے کہ زبان تو بولی جاتی ہے اس کی زندگی اس کی بول چال میں ہے اور بول چال میں دونوں طرف کے لوگ با آسانی بات چیت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب سے قریب تر ہوتے جاتے ہیں۔ فلم ڈرامہ، گانے، شارٹ ویڈیو، لطیفے، محاورے کن کن پروڈکٹس سے آپ دور رکھ پائے۔ بھونڈے اور جعلی علیحدہ پن اور تاریخ مسخ کرنے سے سچ چھپتا نہیں۔

ملک کی آزادی کو 75 سال سے زیادہ ہو گئے ہیں اور تاریخ کا اصول کہ سو سال کے اندر اندر تاریخ کے دودھ میں ملایا ہوا پانی تاریخ خود نکال پھینکتی ہے۔ تاریخ کا عمل لاشعوری طور پر بڑھتا ہے اور سچ کچھوے کی چال بھی چل لے تو منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ ہندوستان کی جعلی تاریخ۔ لسان کے بناوٹی اصول اور الفاظ۔ قوم و نسب کا جھوٹ، یہ سب کا چولے اترنے کی صدی ہے مزید 25 سال میں یہ سب اور بھی برہنہ دکھائی دیں گے ہو سکتا ہے کہ ہم نہ ہوں لیکن یہ برہنگی بر حق ہے کیوں کہ یہ تاریخ اور فطرت کا اٹل فیصلہ ہے۔

Facebook Comments HS