اہانت اور گستاخی ایک حساس مسئلہ !
گزارش یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پہ خصوصی توجہ دیں اور کم از کم اسلام کی بنیادی تعلیمات سے انھیں خصوصی طور پہ روشناس کرائیں۔ ایمانیات اور عقیدے کی پختگی ایسے حاصل نہیں ہوتی، ایسا کرنے کے لیے خصوصی اہتمام اور انتظام کرانا ہو گا۔ اسی طرح بچوں پہ نظر رکھیں کہ ان کا تعلق اور اٹھنا بیٹھنا کن لوگوں کے ساتھ ہے۔ بچوں کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ان سے ایک اچھے مسلمان ہونے کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔
نوجوانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام ہمارا دین، لہذا ایک مسلمان کی حیثیت سے اپنے دین کو سیکھنا ہم پر فرض ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر۔ ایمانیات، عقائد، ارکان اسلام اور دیگر بنیادی تعلیمات کو ہر صورت سیکھنا لازمی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی سیرت کے مطالعے اور اس سے مکمل آگاہی کے بغیر ہم دین کی روح کو سمجھ سکتے ہیں نہ اس پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ لہذا لازمی ہے کہ قرآن مجید، احادیث رسول ﷺ اور سیرت رسول اللہ ﷺ کو سیکھنے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔
ایمان کی تازگی، سیرت کی پختگی، اذہان کی صفائی اور قلوب کے اطمینان کے لیے یہ بنیادی لوازم ہیں۔ اگر اسلام کے اس بنیادی علم کو حاصل کیے بغیر دوسرے نظریات پڑھیں گے تو خیالات پراگندہ ہوں گے، ایمان متزلزل ہو گا، افکار کمزور ٹھہریں گے، اذہان و قلوب وسوسوں سے بھر جائیں گے اور بنیادی عقائد تک کمزور اور متزلزل ہو جائیں گے۔ دینی معاملات، حساسیت، نزاکت، احتیاط، احترام اور عقیدت کے متقاضی ہیں لہذا دانستہ یا غیر دانستہ اس حوالے سے بے ادبی، بے باکی، اہانت اور گستاخی سے پرہیز اور احتراز لازمی ہے۔
ہم یہ کہنا بھی لازمی سمجھیں گے کہ اگر خدا نخواستہ کوئی بہت زیادہ اسلام کے حوالے سے عدم اطمینان کا شکار ہے اور اسلام کے مقابلے میں کسی دوسرے نظریے کو قبول کر چکا ہے تو یہ اس کی بدقسمتی ہے، مگر خیال رہے کہ اظہار آزادی رائے کے زعم میں اسلامی تعلیمات، اسلامی اقدار، اسلامی شعائر، اسلامی عقائد اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور ذات کو بے جا موضوع گفتگو بنانا، لاحاصل سوالات کھڑے کرنا، بکواسیات و خرافات بکنا اور تضحیک، مذاق اور گستاخی کا ارتکاب کرنا بہت بڑا قدم اور عظیم جرم ہے۔
ایسے لوگوں کو مسلمان معاشرے کی اکثریت کے احساسات اور جذبات کا خیال اور احترام رکھنا لازم ہے۔ انھیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ دینی معاملات، شعائر اسلام اور خاص کر حرمت رسالت کے حوالے سے مسلمان بہت ہی حساس ہے اور فی الواقع یہ بہت ہی نازک اور حساس معاملہ ہے۔ قانون کی پاسداری کی پٹیاں پڑھانا اپنی جگہ مگر اہانت اور گستاخیاں کرنا بہت بڑا جرم ہے اور عملی لحاظ سے کوئی کمزور مسلمان بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا۔
دستیاب تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے کسی بھی وقت اور کہیں بھی اس معاملے پر مفاہمت نہیں کی ہے اور جان کی پروا کیے بغیر اس کا جواب دیا ہے۔ مسلمان معاشرے ہی کیا، غیر کے معاشروں میں بھی حرمت رسول ﷺ پر لوگوں نے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں۔ یہ ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنا بہت سے مسائل سے چھٹکارے کا سبب ہے۔
جو معاملہ اللہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے حوالے،
ایمان کے حوالے سے،
عقیدے کے حوالے سے اور
اسلامی شعائر کے حوالے سے ہو تو بہت احتیاط کرنا اور کچھ کہنے سے پہلے سوچنا ناگزیر ہے۔


