لڑکیوں کے لیے چھوٹی سی ایک کہانی
ایک او لیول کی طالبہ دو ہفتوں کی انٹرن شپ کے لیے ایک ادارے میں گئی جہاں زیادہ تر گاؤں دیہات کے بوڑھے لوگ کام کرتے تھے۔ وہ لڑکی ایک متمول گھرانے سے تھی اور مغربی لباس پہننے کی عادی تھی۔ پہلے دن اسے ریسیپشن ڈیسک پر کھڑا کر دیا گیا تاکہ وہ دیکھ سکے کہ وہاں آنے والوں کو کیسے ڈیل کیا جاتا ہے۔
لڑکی کے لباس کو دیکھ کر وہاں موجود لوگوں نے اسے گھورنا شروع کر دیا۔ ریسیپشن پر کھڑے لڑکے نے گھبرا کر اس سے پوچھا، ”آپ کا دوپٹہ کہاں ہے؟“ یہ سن کر لڑکی کو شدید غصہ آیا۔ اس نے کبھی ایسا سوال نہیں سنا تھا اور نہ ہی دوپٹہ اوڑھنے کی عادت تھی۔
لڑکی نے فوراً اپنی ساتھی کو یہ بات بتائی اور کہا کہ آؤ گھر چلیں کیونکہ میں اب مزید یہاں کام نہیں کر سکتی۔ اس کی ساتھی اسے لے کر ادارے کے مینیجر کے پاس چلی گئی اور ساری بات تفصیل سے بیان کی۔ مینیجر نے دونوں کو بیٹھنے کے لیے کہا، پانی پلایا اور یوں گویا ہوا:
ہمیشہ یاد رکھو، اپنی جنگ خود لڑنی پڑتی ہے۔ ماں، باپ، بہن، بھائی اور دوست ایک حد تک ساتھ دیتے ہیں، لیکن اس کے بعد وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ تمہاری زندگی ہے، تمہیں خود ہی اپنی زندگی کی گاڑی کا ڈرائیور بننا ہو گا۔ تمہیں اپنی لڑائی تب تک لڑنی ہوگی، جب تک جیت نہیں جاتی۔ اگر تمہیں یقین ہے کہ تم صحیح ہو، تو ہمت کبھی نہیں ہارنی۔
جب بھی تمہیں لگے کہ تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا کسی نے تمہاری عزت نفس کو مجروح کیا ہے، تو فوری رد عمل نہ دو بلکہ جواب دو۔ رد عمل دینے کا مطلب ہے کہ تم بغیر سوچے سمجھے، جذباتی ہو کر فی الفور جو منہ میں آئے بول دو، جس سے نقصان کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ جواب دینے کا مطلب ہے کہ تم تھوڑی سی بریک لو، پانی کا گلاس پیو، غصے کو اترنے دو، صورتحال کا درست تجزیہ کرو اور سوچا سمجھا رد عمل دو۔ اس طرح نہ صرف تم اس سچوئیشن سے باہر آ سکتی ہو، بلکہ تمہیں سبکی بھی نہیں اٹھانی پڑے گی اور تمہاری اپنے حریف پر نفسیاتی برتری بھی قائم ہو جائے گی۔
کبھی یہ نہ سوچو کہ اب میں مزید یہاں کام نہیں کر سکتی یا مجھے کہیں اور چلے جانا چاہیے۔ اگر تم صحیح ہو اور تمہارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو ڈٹ جاؤ، اپنے خیر خواہوں سے مشورہ کرو، حکمت عملی اپناؤ اور اپنی لڑائی تب تک لڑو جب تک فیصلہ تمہارے حق میں نہیں آ جاتا۔ میدان چھوڑ کر وہ جائے جس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے نہ کہ تم۔
”پاؤلو کوئلو کہتا ہے کہ جب تم کوئی کام کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہو، تو کائنات کی تمام قوتیں تمہیں کامیاب کروانے کے لیے جت جاتی ہیں“ جب تم ایسی صورتحال کا شکار ہو، تو وقفے وقفے سے صورتحال کا تجزیہ کرتی رہو اور حکمت عملی پر نظر رکھو۔ جہاں ضرورت پڑے، چھوٹی موٹی تبدیلیاں کرتی رہو، اپنے دوستوں اور خیر خواہوں سے مشورہ کرتی رہو۔ یہ تمام باتیں تمہیں یکسو اور باہمت رکھنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
جب بھی ایسی صورتحال کا سامنا ہو، صحیح فورم یا صحیح جگہ پر معاملہ اٹھاؤ جیسے تم میرے پاس آئی ہو۔ میں اب اس لڑکے کو بلا کر اچھی طرح سمجھا دوں گا کہ خواتین سے کیسے ڈیل کرتے ہیں۔ لیکن اگر تم میرے پاس نہ آتیں اور گھر چلی جاتیں، تو تم کتنا بڑا نقصان کرتیں، اب تم بخوبی اندازہ لگا سکتی ہو۔
مینجر کی باتوں نے لڑکی کی سوچ اور اپروچ دونوں کو بدل دیا۔ اس نے مینجر کا شکریہ ادا کیا اور مسکرا کر بولی، ”اگلے چودہ دن آپ سے ملاقات ہوتی رہے گی۔“

