بہت ہو گیا۔ اب انسان کی تکریم پر بات کی جائے
میری عمومی عادت ہے کہ ٹرینڈز والی پوسٹ کرنے سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ وجوہات ہیں کہ ہر ٹرینڈ کے پیچھے مقاصد ہوتے ہیں اور ہم نادانستہ طور پر ان مقاصد کی تکمیل کے آلہ کار بن کر کسی کی پراکسی وار میں بھاڑے کے ٹٹو بھی نہیں بلکہ مفت کے سپاہی بن کر لڑ رہے ہوتے ہیں۔
خلیل قمر والا ایشو بھی بنیادی طور پر ایک ایسی جنگ ہے جس کے ایک طرف فیمنسٹ اور لبرل طبقہ ہے جو انسانی آزادی اور خصوصاً عورتوں کے حقوق کا علمبردار بنتا ہے تو دوسری طرف مساجنسٹ اور اسلامسٹ ہیں جو مردوں کی بالادستی کو اسلام سے لنک کر کے خواتین کی ایک حد سے آگے آزادی کے مخالف ہیں۔ بہت عرصہ پہلے ”میرے پاس تم ہو“ والے خلیل قمر کے ”دو ٹکے“ والے ڈائیلاگز نے فیمنسٹوں کو بہت زک پہنچائی اور اسلامسٹوں نے اسے ہیرو بنا کر اپنے کندھوں پر اٹھایا اور اسلامی شعائر کا علم اس کے ہاتھوں میں تھما دیا۔
اسلامسٹوں نے اپنا سارا کریڈٹ اور سرمایہ اس گھوڑے پر لگا دیا جو کسی صورت یہ بوجھ اٹھانے کے قابل نہ تھا۔ مجھے پہلے دن سے ان کے معیار اور چناؤ پر افسوس تھا مگر معلوم نہیں کیوں لوگ نظریات کی بجائے ہیرو تراش کر خود ہی ان کی پرستش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر ہیرو کو مرنا ہی ہوتا ہے اور خلیل قمر کا ہیرو تو آخری قسط میں ضرور مرتا ہے سو یہی ہوا۔ ہمارا یہ ہیرو مکافات عمل، سازش یا نادانی کا شکار ہو کر اخلاق کے سنگھاسن سے منہ کے بل جا گرا اور اس معرکہ میں نالائق گھوڑے نے اسلامسٹوں کو دھول چٹا کے رکھ دی۔
اب مخالف طبقے کی طرف سے اس جیت پر جشن کا سماں ہے اور وڈیوز اور میمز بانٹی جا رہی ہیں اور میں، آپ اور ہم سب اس جشن میں اصلی وارئیر یا مفت کے وارئیر بن کر شریک ہیں۔ ہر ٹرینڈ کے پیچھے ہمیں شغل بچتا ہے جب کہ ہمارے شغل سے کسی کے مشن کی تکمیل وابستہ ہوتی ہے۔ میں اس سلسلے میں دوسرے فریق سے بھی کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں۔
یہ کیوں سمجھا جا رہا ہے کہ ویڈیو خلیل قمر کی لیک ہوئی ہے۔ کیا فیمنسٹوں کو اس ویڈیو میں ایک جیتی جاگتی خاتون نظر نہیں آ رہی؟ کیا اس خاتون کی ویڈیو لیک نہیں ہوئی؟ کیا اس کے حقوق کی پامالی نہیں ہوئی؟ کیا اس کو بطور چارہ استعمال نہیں کیا گیا؟ اور کیا کوئی عورت جب چارہ بنتی ہے تو اس پر جشن منایا جاتا ہے؟ محض اس لئے کہ خلیل ہٹ ہوا ہے کسی کو اس خاتون کے ڈیمج کا خیال نہیں آیا؟
اسلامسٹوں سے تو مجھے ہمیشہ جذباتیت اور سطحیت کا شکار ہونے کا گلہ رہا ہے۔ انہوں نے جنگ کیا جیتنی تھی جنہوں نے خلیل جیسے گھوڑے پہ شرط لگائی ہوئی تھی۔ مجھے فیمنسٹوں اور لبرلز سے گلہ ہے۔ تم لوگ عقل سے سوچنے کا دعویٰ کرتے ہو، دلیل سے بات کرتے ہو۔ انسانی حقوق کا فلسفہ پیش کرتے ہو۔ تم کسی کی ذاتی ویڈیو ریلیز ہونے پر کیسے جشن منا سکتے ہو؟ تم کیسے بنیادی انسانی تکریم کی پامالی اور ایک خاتون کی عزت کی دھجیاں اڑنے پر جشن منا سکتے ہو؟ کیا یہ تماشا اسلامسٹوں کے آپ کے بارے میں خدشات کو تقویت نہیں پہنچاتا؟ کیا اس سے ان کے آپ کے بارے میں پیدا شدہ نظریات اور خدشات کو شہ نہیں ملتی؟ اب رائٹ ٹو پرائیویسی کہاں کھڑا ہے؟
یہاں رہ رہ کر عاصمہ جہانگیر یاد آتی ہیں جنہوں نے اپنی جدوجہد کو شخصیات سے کبھی منسلک نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے سب سے بڑے مخالفین ملاؤں کے حقوق کا مقدمہ بھی خود لڑا۔ اسامہ بن لادن کی فیملی کے حقوق پر مقدمہ لڑا۔ جیل میں موجود بڑے مخالف اعظم طارق کے حقوق کا مقدمہ لڑا، مفت لڑا اور ڈکٹیٹر کے خلاف لڑا۔ گوانتانامو میں دہشت گردی میں قید پاکستانی قیدیوں تک کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر خلیل قمر درمیان میں نہ ہوتا تو جو کچھ ہوا ہے اس پر رونا بنتا ہے مگر اب درمیان میں موجود انا کے اس بت کے پاش پاش ہونے نے ایک ایسا منظر نامہ بنا دیا ہے جہاں ایک وڈیو یا اس کے شاٹس یا اس کی بحث نے نازیبا کو زیبائش کا درجہ دے دیا ہے۔ بہت ہو گیا اب بات ہونی چاہیے کہ کسی کی بھی وڈیو بنانے، اس سے بلیک میل کرنے، اس کو لیک کرنے جیسے کسی بھی غیر انسانی عمل کی ڈٹ کر حوصلہ شکنی کی جائے اور رائٹ ٹو پرائیویسی کو یقینی بنانے پر بات کی جائے۔ مرد اور عورت کے انفرادی حقوق سے پہلے ان کے اجتماعی انسان حقوق کی تکریم کو یقینی بنایا جائے۔


