شری کرشنا مندر: لاہور میں ہندو دھرم کی مشہور عبادت گاہ
ایک معروف مندر جہاں تمام ہندو تہوار بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ یہ مندر ہندو برادری کے لئے ایک اہم مذہبی اور ثقافتی مرکز ہے۔ دیوالی، ہولی، اور جنم اشٹمی جیسے تہواروں کے دوران یہاں خصوصی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ان باتوں کو کئی جگہ سے سننے کے بعد میں اور میرے دوست نے اس مندر کو دیکھنے کا منصوبہ بنایا ہم صبح اٹھ بجے اس مندر کی تلاش میں روانہ ہو گئے۔ میٹرو کے ذریعے نیازی اڈے پہنچے سیڑھیوں سے نیچے اتر کر اس مندر کا پتہ پوچھنے لگے بڑی عجیب بات تھی۔
واحد مندر جو لاہور میں ہندو دھرم کے تمام تہوار بڑے جوش و خروش کے ساتھ مناتا ہے کسی کو اس کا پتہ معلوم نہ تھا۔ ایک گنے کا رس بیچنے والے سے ہم نے مندر کا پوچھا۔ انہوں نے ہمیں رس دینے سے انکار کر دیا۔ میرے دوست نے کلمہ پڑھ کر ان کو یقین دلایا کہ ہم مسلمان ہیں، تب جا کر ہمیں دو گرم اور بے ذائقہ گنے کے رس کے گلاس ملے۔ اس رس بیچنے والے کے ساتھ ہی ایک آدمی بیٹھا تھا جس نے ہمیں مندر کے بارے میں بتایا۔
یہ وہی سمت تھی جہاں ہم لوگوں کے کہنے پر تین سے چار چکر لگا چکے تھے۔ اب ہمیں لوگوں کی باتوں پر اتنا یقین نہیں رہا تھا، لہذا ہم نے گوگل میپ کھولا اور وہاں سے لوکیشن معلوم کی۔ اس دوران ہم ایک کشادہ سی گلی میں پہنچے۔ اس کشادہ گلی میں صرف گھر ہی موجود تھے، اور میں حیرت سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ لاہور کا مشہور مندر کہاں ہے۔ اتنے میں میرے دوست نے چیخ کر ایک گھر کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ یہ رہا مندر۔ وہ بھی ہمیں تب معلوم ہوا جب ہم نے دیکھا کہ اس گھر کے باہر ”کرشنا مندر“ لکھا ہوا تھا، ورنہ شاید ہمیں کبھی معلوم نہ ہوتا کہ ایک گھر کے پردے میں چھپا ہوا مندر بھی موجود ہے۔
ہمت کر کے ہم نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے تین لوگ آئے، جنہیں دیکھ کر مجھے لگا کہ وہ ہمارا استقبال کرنے آئے ہیں، لیکن وہ حیرت سے ہمیں دیکھ رہے تھے، جیسے کہہ رہے ہوں ”جی آپ کو کیا کام ہے؟“ یا ”یہاں سے جائیں۔“ تاہم، ہم بھی ڈھیٹوں کی طرح اندر چلے گئے۔ یہ ایک بڑا سا ہال تھا اور سامنے مورتیاں رکھی تھیں۔ ہم جا کر دو عورتوں اور مردوں کے سامنے جھک کر بیٹھ گئے اور درخواست کی کہ ہمیں کرشنا جی کے بارے میں بتائیں۔
مگر وہ ہمیں مشکوک انداز سے دیکھ رہے تھے۔ وہاں موجود کاشی رام شرما، جو کہ سترہویں گریڈ کے افسر تھے اور محکمہ اوقاف کی طرف سے اس مندر کی حفاظت کر رہے تھے، نے تیزی سے ہماری طرف آتے ہوئے پوچھا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم یونیورسٹی کی طرف سے ہیں اور اس مندر کی معلومات چاہتے ہیں۔ یہ سن کر انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کی اجازت نہیں دیتی، آپ کو لیٹر لے کر آنا چاہیے تھا۔
لیکن اگر آپ آہی گئے ہیں، تو ہم آپ کو اس مندر کے بارے میں بتا دیتے ہیں، البتہ آپ ویڈیو نہیں بنا سکتے۔ اوپر لگی مندر کی گھنٹی کو بجا کر آگے بڑھتے ہوئے، انہوں نے سامنے بھولے ناتھ کی مورتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندو دھرم کے اہم دیوتا ہیں۔ ہمارے 33 کروڑ دیوی دیوتاؤں میں سب سے بڑے بھولے ناتھ ہیں، اور سب سے پہلے وشنو جی۔ بھولے ناتھ کی مورتی کے ساتھ شیو لنگ پڑا تھا۔ اس کے بارے میں انہوں نے ہمیں بتایا کہ اصل شیو لنگ کٹاس راج میں ہے اور دوسرا مان صحرا میں۔
اس کے ساتھ ہی ترشول بھی پڑا تھا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھولے ناتھ جی جب شکار کرتے تھے تو اس کا استعمال کرتے تھے۔ ان کے دائیں جانب گنیش جی کی مورتی تھی، اس کے ساتھ ماتا پاروتی کی، اور تھوڑی دوری پر لکشمی ماں کی مورتی تھی۔ اس کے ساتھ تلک بھی پڑا ہوا تھا، ہمارے اصرار پر پنڈت جی نے ہمیں تلک لگایا اور ہنستے ہوئے کہا کہ باہر جاتے ہوئے مٹا دیجیے گا، کہیں لوگ آپ کو مودی سمجھ کے مار نہ دیں۔ اب ہم دوبارہ ان چھ افراد کے سامنے بیٹھ گئے اور اپنے سوالات کرنے لگے۔
اس دوران انہوں نے ہمیں آگاہ کیا کہ وہ محکمہ اوقاف کی طرف سے مندر کی حفاظت کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ میں نے ایک خاتون کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ بابری مسجد کے واقعے کے بعد اس مندر کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی، کیا آپ کو اس وقت کسی قسم کی پریشانی کا سامنا ہوا؟ انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ نہیں، ہم مسلمان ہیں اور یہ دونوں احباب کا تعلق کرسچن کمیونٹی سے ہیں۔ ہم نے پاس بیٹھے پنڈت جی کو شک کی نگاہ سے دیکھا کہ کہیں ان کا تعلق بدھ ازم سے تو نہیں۔ ہماری مشکوک شکلیں دیکھ کر پنڈت جی نے کہا کہ میرا تعلق پشاور سے ہے، اور میں پیدائشی ہندو ہوں۔ میرا ایک بھائی بھی ہے جو انڈیا میں 18 ویں گریڈ کا افسر ہے۔ اس کے بعد ہم نے ایک اور سوال پوچھا کہ کیا اس مندر کا سٹرکچر عام مندر کے سٹرکچر کی طرح ہو گا؟ اور اب اس کے بننے کا کیا منصوبہ ہے؟
پنڈت جی نے جواب دیا کہ محکمہ اوقاف نے اس کی منظوری دے دی ہے، اور اس کا بننا چند مہینوں میں شروع ہو جائے گا۔ سٹرکچر مندر کے مطابق بنے گا، جو کہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ ایک اور سوال جو کچھ یوں تھا کہ پاکستان کے اندر گوردوارے اور گرجا گھر بہت اچھی حالت میں موجود ہیں، تو مندر کیوں نہیں؟ اس سوال کے بعد ہمیں ایک خاموشی سی سننے کو ملی، اور آخر کار جواب ملا کہ یہ لوگ اکثریت میں زیادہ نہیں ہیں۔ اس کے بعد ہمیں کوئی ایسا جواب نہیں ملا جو ہمیں تسلی دیتا۔ ہم نے ان سے اجازت چاہی اپنے ذہن میں کچھ سوال لیے کہ اگر مندر کے اندر تینوں کمیونٹی اس طرح موجود ہے تو پھر مسجد، گرجا گھر، اور گردوارے میں بھی ایسی ہم آہنگی کیوں نہیں ہو سکتی؟

