کمپیوٹر گیم ”سولائزیشن“


پہلے سم سٹی کو موجودہ سم گیمز، سٹی پلاننگ، مائن کرافٹ اور دوسری وار گیمز کی ابتدائی شکل قرار دیا جاسکتا ہے۔ لیکن چار ہزار بی۔ سی سے موجودہ دور کی تہذیب تک کی سٹریٹیجک کمپیوٹر گیم ”سولائزیشن“ (تہذیب) اپنے وسیع کینوس، لا محدود امکانات اور مستند حوالوں کی وجہ سے مجھے زیادہ پسند تھی۔ یہ گیم کی ایک بیسک آؤٹ لائن ہے۔ بعد کے ورژن کے کچھ اضافے اور ترامیم اس میں شامل نہیں ہیں۔

ابتدائی طور پر کھیل جیتنے کے زیادہ تر عوامل مطلق العنانی پر مشتمل تھے پھر نئے ورژنز میں حتمی سکورنگ کو کثیر جہتی کر دیا گیا۔ اب جیت سفارتی و سیاسی، سماجی و ثقافتی، تحقیقی و سائنسی بھی ہو سکتی ہے۔ کھلاڑی کو دوسری تہذیبوں سے بڑھ کر کچھ کرنا ہوتا ہے۔ جیت کا ایک منظر نامہ یہ بھی ہے قوم کی آبادی پوری گیم میں قریبا پینسٹھ فیصد ہو، یا وہ اسی قدر رقبے پر قابض ہو۔ اور علاقے اور آبادی کے تمام وسائل اس کو مہیا ہو جائیں۔

لیکن یہ اتنا سادہ نہیں۔ تہذیب کے قوانین دشوار، مخالف مشکل اور حرکات پیچیدہ ہیں۔ کمپیوٹر کے پیدا کردہ شہر آپ کے متوازی چلتے ہیں۔ ان کے لیڈروں کا رویہ پیداواری صلاحیت، عصری حکمت، فوجی ترجیحات اور توسیع پسند عزائم کا ایک منفرد مجموعہ ہو سکتا ہے۔ جسے سمجھنے کے بعد ہی کوئی بھی تہذیب اپنی بقا اور ترقی کے لیے ایک راستہ وضع کر سکتی ہے۔ مبصر کبھی کبھی اسے گاڈ گیم کہتے ہیں۔ کھلاڑی کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے کئی نادیدہ عوامل بھی جن کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔

گیم میں اپنے دشمن (اور دوست) چننے کے بعد ہم تہذیب کا سفر شروع کرتے ہیں تو ہمارے پاس ایک قطعہ زمین اور چند لٹے پٹے مسافروں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا مسئلہ تو ظاہر ہے سیٹلمنٹ ہوتا ہے جس کے بنیادی نکات شہریوں کے رہنے کھانے اور لٹیروں سے بچاؤ کا فوری انتظام کرنا۔ اطراف کی زمین کے وسائل کی دریافت اور ان کو استعمال میں لانے کے طریقے وضع کرنا اور علم کا حصول ہے۔ اس دوران دوسری قومیں اپنی چال چلتی رہتی ہیں۔

کھلاڑی کی جیت میں اس بات کا بڑا ہاتھ ہے کہ اس نے کھیلنے کے لیے کون سی قوم چنی ہے اور اس کے ہمسائے کون ہیں۔ گیم ڈیزائن میں کچھ قوموں کو جان بوجھ کر دوسری قوموں پر کسی نہ کسی طور برتری دی گئی ہے۔ لیکن قانون کو سمجھ لینے کے بعد کسی بھی قوم کو پہیے کی ایجاد سے نیوکلیر دریافتوں اور الفا سینچری تک کے خلائی سفر کے ذریعے اوج تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

کھیل کی آسانی یا دشواری کا براہ راست تعلق کھلاڑی کے چنیدہ علاقے کے قدرتی ذخائر اور متعلقہ قوم کے تاریخی ورثہ اور پس منظر کے علاوہ دوسری قوموں کی عسکری و دیگر پیش رفتوں اور عوام کے نظم و ضبط اور خوشی سے ہے۔ ذیل میں تمام پہلوؤں کا مختصر جائزہ ہے۔

شہر اور شہری

کچھ علاقے قدرتی وسائل میں مالدار ہوتے ہیں۔ کچھ اجناس و اناج کی پیداوار میں خود کفیل ہوتے ہیں مثلاً دریاؤں کے کنارے بسنے والی قومیں۔ ایسے مقامات پر بسنے والے شہروں کو باقی قومیتوں پر ایک مخصوص ابتدائی برتری حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن کھیل کی سیٹنگ مشکل کریں تو یہ عوامل کم ہو جاتے ہیں۔

دوسرا بڑا فیکٹر عوام کی قناعت پسندی ہے۔ آسان سیٹنگ پر عوامی خوشی کی مقدار زیادہ اور مشکل پر کم ہے۔ قانع شہریوں کی ڈیفالٹ تعداد ہر درجے پر مختلف ہے۔ شہر اپنے اطراف میں صرف ایک خاص حد تک خوراک کی پیداوار، نقل و حمل کی یا اردگرد کے مقامات کو امپروو کر کے اپنے لیے قابل استعمال بنا سکتے ہیں۔

شہروں کی بقا، پرداخت اور ترقی میں خوراک کی پیداوار سب سے اہم ہے۔ بلکہ آبادی کا اضافہ کا بھی پیداوار ہی سے راست تناسب ہے۔ خوراک کی پیداوار میں کمی یا خاتمے اور گوداموں کی تباہی وغیرہ سے شہر کی بقا کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔

اگر خوراک شہر کے حجم کو بڑھاتی ہے تو تجارت اس کو مستحکم کرتی ہے۔ تجارت اور لین دین کا پیداواری کھاتا حسب ضرورت ریسرچ، ریونیو اور اشیائے تعیشات کے زمرہ جات میں تقسیم ہوتا ہے۔ شہریوں کی مختلف اقسام میں کاریگر بنیادی حیثیت کا حامل ہے، وہ خوراک اور تجارت کے لیے ضروری ہے۔

لیکن شہری سائنسدان، سول انجینئر، محصول کنندگان اور پولیس بھی ہوسکتے ہیں۔ گو شہریوں کو مخصوص شعبہ جات تفویض کرنے سے ان کا شہر کی بنیادی تجارتی صلاحیت میں حصہ کم ہو جاتا ہے لیکن یہ شہر کے ریسرچ اور سائنس کے منصوبوں اور پیداوار اور محصول اور تعیشات زندگی کے گراف میں اضافہ کرتے ہیں۔

یہی لوگ اہم نوعیت کی عمارات اور ونڈرز بنانے کی رفتار کو بھی بڑھا دیتے ہیں۔ پولیس کا کردار شہری کرپشن کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف اگر شہر میں ان مخصوص کاموں کے وسائل، ذرائع یا مواقع کم ہوں تو اضافی شہری اینٹرٹینر بن جاتے ہیں۔ اور دن رات سٹینڈ اپ کامیڈی تیار کرتے ہیں۔

شہری مشنری، جاسوس یا سیٹلر بھی ہو سکتے ہیں۔ جن کو دوسرے علاقوں میں بھیج کر متعلقہ فوائد اٹھائے جا سکتے ہیں۔ جاسوس مخالفین کے مشن کی معلومات لینے، پروپیگنڈا کرنے اور ان کے مشن سبوتاژ کرنے کے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ سیٹلر نئے شہر بسانے کا کام کرتے ہیں۔ مشنری مذہب کی ترویج کرتے ہیں۔ اور یہی مشنری دوسرے علاقوں میں کلچر فلپنگ کا کام بھی کرتے ہیں۔

شہریوں میں خوشی یا قناعت کی اوسط شرح بلند ہونا ضروری ہے۔ ناخوشی بڑھنے سے گیم میں سول ڈس۔ آرڈر شروع ہو جاتا ہے۔ یہ شہر کو کمزور کرنے والا اندرونی فیکٹر ہے جو خوراک یا ریوینو کی کمی جیسے عناصر ہی کی طرح شہری بقا کو لاحق بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ آسان شہر خوش اور مشکل شہر میں ناخوش افراد بکثرت پائے جاتے ہیں۔

سول ڈس۔ آرڈر یا انتشار میں خوراک کی پیداوار تو کم و بیش جاری رہتی ہے لیکن مزید تجارتی یا سائنسی پیداوار ممکن نہیں رہتی، شہر کا انتظام مشکل تر ہو جاتا ہے۔ فوری حل کے لیے ہم سائنسی ریسرچ فنڈز کم کر کے تفریحی مواقع زیادہ کر سکتے ہیں۔ لیکن پھر ریسرچ کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ ہم اس کے لیے نئے تفریحی مقامات بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

پھر ملٹری فورس کا استعمال ہے۔ لیکن اس سے ہم صرف انتشار پر قابو پا سکتے ہیں۔ شہریوں کی خوشی میں اضافہ نہیں کر سکتے ہیں۔ انتشار کے برعکس ایک اچھے منظم شہر میں شہری خوش ہو کر ”وی لو دا کنگ ڈے“ کا اہتمام کرتے ہیں۔ ایک شہر کے مالی ذخائر زیادہ ہونے اور کلچر مضبوط ہونے سے اس کا دائرہ اختیار خود بخود بڑھتا جاتا ہے۔

باقاعدہ فوج کے علاوہ بھی شہر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ جس کی ناکامی کی صورت میں اسے آسانی سے لوٹا یا تباہ کیا جا سکتا ہے۔ تیسری صورت میں کٹھ پتلی شہر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ جہاں اختیارات کی منتقلی نہیں ہوتی لیکن حملہ آور کو اس کے وسائل پر اختیار ہو جاتا ہے۔

ثقافت، مذہب اور قومیت

گیم میں ثقافت قوم کی سرحد کا تعین کرتی ہے۔ اس کی مدد سے دوسرے شہروں، تہذیبوں پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں کلچر فلپنگ کی اصطلاح سامنے آتی ہے۔ یعنی کوئی علاقہ اپنا کلچر اتنا بہترین بنا کر پیش کرے کہ دوسرے ویسا بننے کی خواہش کرنا شروع کر دیں۔ یوں ہمسایہ علاقوں پر کسی فوج کے بغیر پرامن قبضہ ممکن ہے۔ مفتوحہ شہر کی عمارات بھی تباہ نہیں ہوتیں اور شہر جیتنے پر عالمی کمیونٹی میں کھلاڑی کو جنگ کے برعکس مثبت ریپوٹیشن ملتی ہے اور کلچر ٹوٹل بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

مذہب کے تحت تہذیب میں مخصوص نوعیت کی عبادت گاہیں بنانے کی آپشن ہے۔ اس سے کلچر اور خوشی کا سکور بڑھتا ہے۔ ایک سے مذاہب والی قوموں میں اتفاق رائے اور سفارتی تعلقات کی نوعیت بہتر ہوتی ہے۔ لیکن مختلف مذاہب والی قوموں میں ڈیفالٹ دشواری رکھی گئی ہے۔ گیم میں ایک شہر میں ایک مخصوص مذہب پھیلنے کے بعد ختم نہیں ہوتا لیکن مذہب کی موجودگی دور رس فوائد کی حامل ہے۔

قومیت کا تعلق ہماری منتخب تہذیب سے ہے۔ گیم میں جنگ اور انقلاب کے عوامل قومیت کی بنیاد پر پیچیدہ بنائے گئے ہیں۔ ایک قوم کے شہری اپنی جگہ پیدائش سے سے فطری لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ اپنے شہر پر دشمن کا قبضہ ہونے پر نیا کلچر اپنانے میں وقت لیتے ہیں۔ اس کا انحصار قابض کلچر کی مضبوطی پر بھی ہے۔ کمزور کلچر لوگوں کو خود میں سمو نہیں پاتا اور ان میں بغاوت ہونے کا خطرہ رہتا ہے خواہ وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اسی طرح مقبوضہ فوج کا کنٹرول بھی مقامی فوج سے کم رکھا گیا ہے۔

تحقیق

سائنسی ترقی اور تحقیق کھیل کو آگے چلاتے رہنے کے بنیادی عوامل میں سے ہے۔ اس کے بغیر معاشرت کے نئے طریقوں سے واقفیت، نئے وسائل کی تلاش اور استعمال اور تجارت میں اضافہ ممکن نہیں۔ نہ ہی نئے ونڈرز کی تعمیر اور فوج کو نئے زمانے سے ہم آہنگ کرنا ممکن ہے۔ تحقیق کے بغیر دوسری قوموں سے باعزت ڈیلنگ ناممکن ہے۔

گیم کے پرانے ورژن میں تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تجارت، چوری اور تبادلہ موجود تھا۔ لیکن پھر اسے جوائنٹ ٹیکنالوجی وینچرز سے بدل دیا گیا۔ باہمی امن سے رہنے والی تہذیبیں مساوی رقوم سے باہمی مفاد کے سائنسی منصوبے تیار کر سکتی ہیں جس کی میعاد ملک میں امن کے قیام تک ہے۔ تکنیکی طور پر جنگ کی تیاری کا وقت لینے کے لیے مخالف کو کسی مہنگے منصوبے میں الجھایا جاتا ہے۔

ہتھیار، فوج اور جنگ

جنگ و جدل کے بغیر تہذیب کا کھیل ادھورا رہ جاتا۔ نئے ورژن کی جنگ میں ایک گیم ٹائل پر ایک ہی یونٹ رہ سکتا ہے جس سے جنگ کے پھیلاؤ اور مورچہ بندی کو حقیقت کا رنگ دیا گیا ہے۔ ہم کھیل میں خواہ کتنے بھی امن پسند ہوں، اطراف کی قوموں سے خواہ جتنے معاہدے کر چکے ہوں، جیتنے کی کوئی بھی حکمت عملی اختیار کریں۔ جنگ درپیش ہو ہی جاتی ہے۔ یہیں ہمارے یونٹ کی تجربہ کاری بڑھتی ہے۔

ہر یونٹ کی حملہ اور دفاع کی ایک مخصوص صلاحیت ہے جس کا اصل امتحان حملہ آور کے سامنے ہوتا ہے۔ علاقے کی دشواری، دریاؤں کی موجودگی، قلعہ بندی وغیرہ کو کھلاڑی اپنے حق میں استعمال کرتا ہے اور اس کے مخصوص بونس ہیں۔ مثلاً پہاڑوں میں لڑنا میدانوں میں لڑنے کی نسبت دشوار ہے جس کا بونس دفاع کی مزید مضبوطی ہے۔

جنگ کی ہار جیت کا فیصلہ لونگ رن میں نقصانات کے تخمینے سے ہوتا ہے اور عین ممکن ہے کبھی بظاہر پسماندہ نظر آنے والے اپنی حکمت عملی یا اوپر بتائے گئے عوامل کی مدد سے جنگ کے حتمی فاتح قرار پائیں۔ لیکن اگر حملہ آور تہذیب یا دہشتگرد (باربیرین) ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں میں کھلاڑی سے بہتر ہیں تو پھر مقابلہ ہر دفعہ صرف جوش و جذبے، ڈپلومیسی یا تاوان سے نہیں ہو سکتا ۔ تلواروں سے لڑنے والے نائٹ ہر دفعہ نیوکلیر لانچر یا کروز میزائل کی بمباری کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پھر خواہ ہم اس علاقے پر چار سو سال سے حکمران ہوں یا چار ہزار سال سے، فوجی پسماندگی کے نتیجے میں ہماری امن پسند تہذیب صفحہ سکرین سے ایسے مٹ جاتی ہے جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔

ایک یونٹ کی تیاری میں کافی وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ تجربے کی بنیاد پر ان کے چار درجات ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تجربہ کار یونٹ ایلیٹ کہلاتی ہے جس کے ہٹ پوائنٹ پانچ ہیں۔ عملی جنگ کے وقت ان کی کارکردگی باقی یونٹ ہی کے برابر ہوتی ہے لیکن اس یونٹ سے ہی بعد میں ”لیڈر“ نکلتے ہیں

اگر کھلاڑی اپنی فوج کو وسائل سے سپورٹ نہ کر سکے تو اس کو یونٹ ڈس۔ بینڈ کرنے پڑتے ہٰیں۔ ابھی تک کھیل میں ایسی فوج بنانے کی آپشن نہیں ہے جو اپنے بنائے ہتھیار یا امن دستے بیچ کر اپنے اخراجات کے لیے رقم مہیا کر سکے۔ کھیل کے تمام تر ریسورسز مرکزی ہیں اور وہیں سے نئے ہتھیار، ٹیکنالوجی کی فراہمی اور یونٹ کی تیاری کا اہتمام ہوتا ہے۔

گیم چیٹ اور کامیابی

کمپیوٹر کی سائیڈ سے کھیل میں ثقافتی اثرات، کرپشن، ناخوشی کے اضافہ، دہشت گردوں کے حملے، جاسوس، مشنری اور سٹی سٹیٹ اور چھوٹی خودمختار ریاستوں وغیرہ کو کھلاڑی کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف انہی عوامل کو کمپیوٹر اپنے حق میں استعمال کر کے پانسہ پلٹ دیتا ہے۔ معلوم نہیں کیوں اس کے شہری ہمیشہ زیادہ خوش، کرپشن ہمیشہ کم، جاسوس زیادہ مستعد اور کلچر زیادہ مضبوط نکلتا ہے۔

کھیل کو جیتنے کے چند ہی طریقے ہیں۔ یا تو کھلاڑی ہر دوسری تہذیب کو ملیامیٹ کر دے یا اپنے رقبے کی وسعت اور آبادی کے بل پر دنیا کے چھیاسٹھ فیصد حصے پر قابض ہو جائے۔ یا اس کا کلچر اتنا با اثر ہو کہ ہر شخص اس میں شامل ہونا چاہے۔ یا سفارتی کامیابیاں اتنی بڑھ جائیں کہ یو این میں اسے لیڈر چن لیا جائے۔ یا پھر سائنسی ترقی میں سب لوگوں سے بہت آگے نکل جائے۔

گیم سے پہلے ہمارے نظریات تہذیب کے بارے میں کچھ سرسری ہوتے ہیں۔ جیسے کہ ابتدائی تہذیبیں زیادہ تر دریاؤں کے کنارے بسا کرتی ہیں۔ تاریخ کے بارے میں خیالات بھی تاریخی ناولوں کی جذباتی گرد میں اٹے ہوتے ہیں۔ اور یہ درست ہے کہ بستے بستے تہذیبیں بستی ہیں۔ اور ریگ زاروں سے اٹھتے بگولوں کے ہاتھوں اجڑ جاتی ہیں۔ ہار جیت خون ریز جنگوں کا عام انجام ہے۔ لوگ جیتے ہیں اور مرتے ہیں۔ سرحدیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں۔

لیکن سچ تو یہ ہے کہ بغیر پلاننگ اور وسائل کی سٹریٹیجک تقسیم کے کمپیوٹر سکرین کا ایک انچ کا قطعہ بھی زیادہ دیر تک آباد نہیں رکھا جا سکتا۔ غلطیوں کی اس کھیل میں گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے مخالف اے۔ آئی حکمران شطرنج کے شاطر اور گھاگ کھلاڑی کی طرح اپنی چال چلتے ہیں۔ بظاہر تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے۔ لیکن جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ جیت کے طویل المیعاد منصوبہ جات تیار کرلیتے ہیں۔ وہ اپنے شہروں کی بہبود کو بہتر سے بہتر بنا لیتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ سائنس کی نئی دریافتوں کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ سفارتی تارو پود میں الجھے ہوتے ہیں۔

پھر ایک دن ہمارے حامی، ہمارے مخالفین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارے کلچر فلپ ہو جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ جنگ کی پوری تیاری کیے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ہم دیکھ نہیں رہے ہوتے وہ کہیں نہ کہیں سے ہمیں کمزور دیکھ کر ایک آخری وار کرتے ہیں۔ پھر ہمارے لیڈر شہید اور یونٹ ڈس۔ بینڈ ہو جاتے ہیں۔ ہمارے شہر برباد اور لوگ بے آسرا ہو جاتے ہیں۔ ہم بے یقینی و بے بسی سے کمپیوٹر سکرین کو گھورتے ملی نغموں کی لے کچھ اور اونچی کر دیتے ہیں۔ حوصلہ جمع کر کے کھیل ایک بار پھر ری۔ سٹارٹ کر دیتے ہیں۔ ورژن کوئی بھی ہو بنیادی اصول قریبا ایک سے ہیں۔ اینڈ گیمز از آن

Facebook Comments HS

One thought on “کمپیوٹر گیم ”سولائزیشن“

  • 04/08/2024 at 4:42 صبح
    Permalink

    بہت شکریہ یہ اور بات کہ کافی دیر بعد سمجھ آئی کہ عنوان گ سے ہے ک سے یا لام سے۔ ایڈمن سے گزارش ہے کہ ایسے الفاظ کے فونٹ یا سائز کو دیکھ لیا کریں ۔

Comments are closed.